جلّی کٹّو پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج

بھارت میں جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے ریاست تمل ناڈو میں بل فائٹنگ سے مشابہ کھیل جلّی کٹّو پر سے پابندی اٹھانے کے فیصلے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کر دیا ہے۔

جلی کٹو ریاست تمل ناڈو میں صدیوں سے انتہائی مقبول کھیل چلا آ رہا ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے منگل کو درخواست کی سماعت کی منظوری دے دی ہے۔

ہر سال جنوری میں منعقد ہونے والے اس میلے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بھینسوں کا پیچھا کرتے ہیں تاکہ ان کے سینگوں میں بندھے انعامات پکڑ سکیں۔

سپریم کورٹ نے 2014 میں جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اعتراض کے بعد اس کھیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بھینسوں کو کھیل میں استعمال کرنے سے ان جانوروں کو ’شدید تکلیف‘ پہنچتی ہے اور یہ عمل ملک کے جانوروں پر مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت مجرمانہ ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گذشتہ سال یہ کھیل منعقد نہیں ہوا تھا۔

لیکن جمعے کو حکومت نے اس پابندی کو اٹھانے کا حکم دے دیا تھا اور توقع ہے کہ یہ کھیل اس ماہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

پیر کو بھارت کے اینیمل ویلفیئر بورڈ اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس ’ظالمانہ کھیل‘ کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں چھہ درخواستیں جمع کروائیں۔

پیپل فار اینیمل تنظیم سے تعلق رکھنے والی ایک درخواست گزار گوری ماؤلیخی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے کہ وہ اس سرکاری حکم کو فوری طور پر معطل کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کا فیصلہ ہر قانون اور اخلاقیات کے منافی ہے۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

جلی کٹو میں کئی بھینسوں کو ایک ساتھ پنجروں سے آزاد کر دیا جاتاہے جس کے بعد کھلاڑیوں کو انعام حاصل کرنے کے لیے تقریباً 15 سے 20 میٹر تک جانور کا کوہان پکڑ کر رکھنا ہوتا ہے۔

اس پابندی پر ریاست کی سیاسی جماعتوں اور ثقافتی تنظیموں نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ جلی کٹو ان کا ثقافتی ورثہ ہے۔

جلی کٹو کی تاریخ 2000 سال پرانی ہے اور خیال ہے کہ اس کا شمار ان قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے جو آج بھی کھیلے جا رہے ہیں۔

گذشتہ کئی سالوں کے دوران بہت سے لوگ ان مقابلوں میں زخمی ہو چکے ہیں اور یا پھر جانوروں کے پیروں تلے کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں دیگر افراد، بشمول شائقین، بھی بری طرح زخمی ہو چکے ہیں۔