’سرفراز دھوکہ نہیں دیتا‘

سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے 118 رنز کا اضافہ کیا جن میں 72 رنز سرفراز کے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے 118 رنز کا اضافہ کیا جن میں 72 رنز سرفراز کے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پالیکیلے میں ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے تمام ہی صفِ اول کے بیٹسمین دھوکہ دے گئے وکٹ کیپر سرفراز احمد کی جرات مندانہ اننگز نے ایک بار پھر دم توڑتی پاکستانی بیٹنگ کو سہارا فراہم کر دیا۔

ان کے ناقابل شکست 72 رنز کی بدولت پاکستانی کرکٹ ٹیم پالیکلے ٹیسٹ کے دوسرے دن پہلی اننگز میں نو وکٹوں پر 209 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔

سیریز کے دوران پاکستانی بیٹسمینوں نے ایک بار پھر اپنے بولرز کی محنت کو ضائع کیا۔

پاکستانی بیٹسمینوں کی جانب سے مایوس کن بیٹنگ کے ساتھ ساتھ ڈی آر ایس نے بھی مہمان ٹیم کی مشکلات بڑھائیں۔

شان مسعود اور مصباح الحق کے ریویو ٹی وی امپائر کی جانب سے اس لیے خاطر میں نہیں لائے گئے کیونکہ فیلڈ امپائر نے انہیں آؤٹ دیا تھا اور امپائرز کال پر عموماً ٹی وی امپائرز بہت کم فیصلے تبدیل کرتے ہیں۔

اس سیریز میں یونس خان کا بلا خاموش رہا ہے جس کا اثر ٹیم پر بھی پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس سیریز میں یونس خان کا بلا خاموش رہا ہے جس کا اثر ٹیم پر بھی پڑا ہے

احمد شہزاد اور اظہرعلی سیٹ ہوچکے تھے کہ ان کی وکٹوں نے پاکستانی ڈریسنگ روم میں مایوسی پیدا کی۔

احمد شہزاد وکٹ کے پیچھے کیچ ہوئے جبکہ اظہر علی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد کرونا رتنے کے عمدہ کیچ پر پویلین کی راہ دیکھنے پر مجبور ہوئے۔

یونس خان نوسال میں پہلی بار رن آؤٹ ہوئے۔ اس سیریز میں یونس خان کا بلا خاموش رہا ہے جس کا اثر ٹیم پر بھی پڑا ہے۔

کچھ یہی حال کپتان مصباح الحق کا بھی ہے جو اس سیریز میں بڑا سکور نہیں کر سکے ہیں۔وہ گروئن کی تکلیف کے سبب ساتویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے تھے لیکن ایل بی ڈبلیو دیے جانے پر خوش نہیں تھے۔

مصباح الحق گروئن کی تکلیف کے سبب ساتویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق گروئن کی تکلیف کے سبب ساتویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے

اسد شفیق بھی ایل بی ڈبلیو ہوئے لیکن انہیں اپنے آؤٹ ہونے کا یقین تھا لہذا انہوں نے ریویو ضائع کرنے کا نہیں سوچا۔

سرفراز احمد جو اسد شفیق کی وکٹ گرنے پر کریز پر آئے اپنے سامنے اظہرعلی اور مصباح الحق کی دو بڑی وکٹیں گرتے دیکھیں لیکن اپنے مخصوص انداز میں بیٹنگ جاری رکھی۔ ان کی چورانوے گیندوں کی اننگز میں چھ چوکے شامل ہیں۔

سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے 118 رنز کا اضافہ کیا جن میں 72 رنز سرفراز کے ہیں۔

سری لنکن بولرز خصوصاً دھمیکا پرساد نے ایک بار منظم انداز میں بولنگ کی جس کے نتیجے میں انہیں تین وکٹیں ملیں۔

شین وارن کے بعد یاسر شاہ دوسرے بولر ہیں جنہوں نے سری لنکا میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں تین مرتبہ اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشین وارن کے بعد یاسر شاہ دوسرے بولر ہیں جنہوں نے سری لنکا میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں تین مرتبہ اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں

نوآن پردیپ نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ آف سپنرز ٹیل اینڈرز کی دو وکٹیں لے اڑے۔

اس سے قبل یاسر شاہ اور راحت علی کی ایک ایک وکٹ نے سری لنکا کی پہلی اننگز 278 رنز پر سمیٹ دی۔

یاسر شاہ نے ایک بار پھر اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں یہ اس سیریز میں تیسرا موقع ہے کہ انہوں نے اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔

آسٹریلوی شہرۂ آفاق سپنر شین وارن کے بعد یاسر شاہ دوسرے بولر ہیں جنہوں نے سری لنکا میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں تین مرتبہ اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔