کپتانی کی ذمہ داری کسے سونپی جائے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سڈنی
ورلڈ کپ کے کوارٹرفائنل میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے ساتھ ہی پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو بدلنے کی باتیں شروع ہوچکی ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ اگلے ورلڈ کپ میں اگر اچھےنتائج لانے ہیں تو اس کی تیاری ابھی سے شروع کردی جائے۔
لیکن کیا یہ سب کچھ اتنا آسان ہے جتنا سمجھا جارہا ہے؟۔
کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے موجودہ نوجوان کرکٹرز اس قابل ہیں کہ وہ سینیئرز کی جگہ ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکیں ؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ چیئرمین کی تبدیلی کے بغیر اگلے چار سال گزار لے گا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ کا براہ راست اثر ٹیم کی کارکردگی پر پڑتا ہے اور ہم یہ سب پچھلے دو برسوں کے دوران دیکھ چکے ہیں کہ حکومتی مداخلت کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ دنیا بھر میں تماشا بنی رہی ۔
یہ اسی مداخلت کا نتیجہ تھا کہ جو بھی چیئرمین آئے وہ نہ صرف اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو ساتھ لائے ۔اس دوران سلیکشن کمیٹی بھی تبدیل ہوئی اور کوچ بھی تبدیل ہوئے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کیسے آسکتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کرکٹ بورڈ کو ورلڈ کپ کے بعد اب ون ڈے کا نیا کپتان تلاش کرنا ہے کیونکہ مصباح الحق اور شاہد آفریدی ون ڈے انٹرنیشنل کو خیرباد کہہ چکے ہیں لیکن کرکٹ بورڈ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ وہ کسی نئے کرکٹر کو یہ ذمہ داری سونپنے کا جرات مندانہ فیصلہ کرسکے۔
پچھلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد حفیظ کی جگہ کسی نوجوان کرکٹر کو ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سونپنے کے بجائے شاہد آفریدی کو یہ ذمہ داری سنہ 2010 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک سونپ دی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی نوجوان کرکٹر پر قیادت کی ذمہ داری ڈالنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اب تک کسی بھی نوجوان کرکٹر کو نائب کپتان بناکر آنے والے دنوں کے لیے اسے کپتانی کے لیے تیار کرنے کی زحمت بھی نہیں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ موجودہ ٹیم میں کوئی بھی ایسا کرکٹر نہیں ہے جو ون ڈے کی کپتانی سنبھال سکے۔ صہیب مقصود اور عمراکمل، جن کے ٹیلنٹ کے گن گا گا کر انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا جاچکا ہے ورلڈ کپ کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد ون ڈے ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔
احمد شہزاد کی کارکردگی میں بھی اتارچڑھاؤ اور پھر ان کا ڈسپلن ریکارڈ ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈ محمد حفیظ، اظہرعلی اور اسد شفیق کے بارے میں سوچ سکتا ہے لیکن اسد شفیق ون ڈے میں ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں البتہ اظہرعلی جو ٹیسٹ میچوں میں خود کو قابل اعتماد بیٹسمین ثابت کرچکے ہیں ون ڈے میں بھی اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہاں یہ بات بھی نظرانداز کرنے والی نہیں کہ سینیئر کرکٹرز میں یونس خان بھی کپتانی کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں حالانکہ ورلڈ کپ میں ان کی کارکردگی کے بعد ان کے ون ڈے کریئر پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔
ٹیم سے باہر بیٹھے شعیب ملک نے بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے اور وہ بھی ٹیم میں واپسی کے لیے بے چین ہیں لیکن آزمائے ہوئے کرکٹرز کو ذمہ داری دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک قدم آگے جانے کے بجائے چار قدم پیچھے جارہا ہے۔



