سپن بولنگ کی بازی کون جیتےگا؟

ایشیائی وکٹوں پر آسٹریلوی ٹیم کو سپنروں کے خلاف ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایشیائی وکٹوں پر آسٹریلوی ٹیم کو سپنروں کے خلاف ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام دبئی

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کل یعنی بدھ سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کو ایک ایسی بازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے دونوں ٹیمیں سپنروں کے ذریعے جیتنا چاہتی ہیں۔

سعید اجمل کے بغیر میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی صلاحیتوں پر انحصار کیے ہوئے ہے۔

35 سالہ ذوالفقار بابر کو صرف 12 بین الاقوامی میچوں کا تجربہ ہے جبکہ لیگ سپنر یاسر شاہ نے تین سال قبل ایک ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے تھے۔

کپتان مصباح الحق سعید اجمل اور جنید خان کی غیر موجودگی میں پاکستانی بولنگ اٹیک کے ناتجربہ کار ہونے کے بارے میں کہتے ہیں کہ دنیا کا ہر کرکٹر جب اپنا کریئر شروع کرتا ہے وہ ناتجربہ کار ہوتا ہے۔

’ہر کرکٹر کو کریئر شروع کر کے اپنا نام بنانا ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ سپنر بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان کرانے کی اہلیت رکھتے ہیں کیونکہ ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘

آسٹریلوی ٹیم تجربہ کار آف سپنر نیتھن لیون اور نئے لیفٹ آرم سپنر سٹیو اوکیف کے ذریعے پاکستانی بلے بازوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

دو سپنروں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ آسٹریلیا کو کبھی بھی راس نہیں آیا اور اس نے سات سال میں دو سپنروں کی موجودگی میں 13 ٹیسٹ میں سے آٹھ میں شکست کھائی اور صرف ایک جیتا ہے۔ آخری چھ میں سے پانچ ٹیسٹ میچوں میں اسے شکست ہوئی ہے ایک برابر رہا۔

ایشیائی وکٹوں پر آسٹریلوی ٹیم کو سپنروں کے خلاف ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

گذشتہ سال بھارتی سپنروں نے آسٹریلوی بلے بازوں کی درگت بناتے ہوئے ہوم سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔

آسٹریلیا نے موجودہ سیریز کے لیے سپن ساحر مرلی دھرن کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جن کے تجربے سے نیتھن لیون اور دوسرے بولر بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی بولنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی سپنروں کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

’ون ڈے سیریز کے نتیجے اور آسٹریلیا کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے نیتھن لیون اور ان کے دوسرے سپنروں کو ذہن میں رکھا ہوا ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دبئی کی وکٹ پر سپنروں کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ہمارے بلے باز اگر سپنروں کو اچھا کھیلیں گے تب ہی وہ بڑا سکور کرسکیں گے۔‘

مصباح الحق کو اس بات پر کوئی حیرانی نہیں کہ آسٹریلوی بولر انھیں اور یونس خان کو ہدف بنانے کی بات کررہے ہیں۔

’یہ عام سی بات ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ حریف ٹیم کا تجربہ کار بلے باز بڑا سکور کرے اسی طرح حریف ٹیم کے سب سے موثر بولر کو وکٹ نہ دینے کے بارے میں سوچا جاتا ہے، لیکن ٹیسٹ میچ آپ اسی وقت جیت سکتے ہیں جب آپ حریف ٹیم کی 20 وکٹیں حاصل کریں۔‘

ادھر آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ برصغیر اور ایشیائی وکٹوں پر ٹیسٹ میچوں میں پہلے بلے باز رنز کرتے ہیں اور پھرگیند ریورس سوئنگ ہوتی ہے اور سپنروں کو بھی مدد ملتی ہے، لہٰذا ان کے بلے بازوں کو ذمہ داری سے بیٹنگ کرنی ہوگی۔

مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ عالمی نمبر ایک پوزیشن دوبارہ حاصل کرنا ان کی اولین ترجیح نہیں۔ وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اچھی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ سیریز مختلف کنڈیشنز میں ہونے کے سبب ان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

دبئی سٹیڈیم میں پاکستان نے چھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں سے تین جیتے، دو میں شکست ہوئی اور ایک برابر رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دبئی میں کھیلے گئے ان چھ میں پانچ ٹیسٹ میچ ایسے ہیں جن میں جس ٹیم نے بھی پہلے بیٹنگ کی وہ پہلے ہی دن پہلی اننگز میں آؤٹ ہوگئی۔

دبئی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ 525 رنز یونس خان نےسکور کیے ہیں جبکہ سعید اجمل 37 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔