’ممنوعہ ادویات برسوں بعد تک مددگار ثابت ہوتی ہیں‘
سپورٹس سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کی پاداش میں معطل کیے جانے والی ایتھلیٹس اپنی سزاؤں کے خاتمے کے برسوں بعد تک ان ادویات کے اثرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
ناروے میں اوسلو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق انسانی پٹھے ایسی ادویات کے اثرات ان کے استعمال کے دہائیوں بعد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتیجے میں ممنوعہ ادویات کے استعمال پر لگنے والی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایتھلیٹس کی ٹریک پر واپسی اور ان کی کارکردگی پر سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
اس نئی تحقیق کا اثر دنیا میں انٹی ڈوپنگ نظام اور اس کے تحت دی جانے والی سزاؤں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
فی الحال پہلی مرتبہ ممنوعہ ادویات کا استعمال ثابت ہونے پر کھلاڑی کو دو برس سے زیادہ معطلی کی سزا نہیں دی جاتی اور وہ اس سزا میں سے بھی عموماً نصف وقت ہی معطل رہتا ہے۔
یونیورسٹی آف اوسلو کے پروفیسر کرسٹن گنڈرسن نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ’میرے خیال میں انسانی جسم میں ممنوعہ ادویات کے اثرات تاحیات یا کم از کم کئی دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں دو برس کی معطلی بہت کم ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس معاملے میں چار برس کی سزا بھی کم ہے۔‘
امریکہ کے متنازع ایتھلیٹس جسٹن گیٹلن، ٹائیسن گے اور برطانوی ایتھلیٹس ڈوین چیمبرز ایسے ایتھلیٹس میں شامل ہیں جنھوں نے سزا کاٹنے کے بعد دوبارہ ایتھلیٹکس میں حصہ لیا ہے۔
رواں برس موسمِ گرما میں 32 سالہ گیٹلن 30 برس سے زیادہ عمر میں 100 اور 200 میٹر کا فاصلہ کم سے کم وقت میں طے کرنے والے شخص بنے ہیں۔
وہ دو مرتبہ ممنوعہ ادویات کے استعمال پر پابندی کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کی کارکردگی پر دنیا کے اہم ایتھلیٹ سوال اٹھا چکے ہیں۔
2011 میں چار سو میٹر رکاوٹوں کی دوڑ میں برطانیہ کو عالمی چیمپیئن بنوانے والے ڈے گرین کا کہنا ہے کہ ’گیٹلن تیز دوڑ کے معاملے میں اپنی عمر گزار چکے ہیں۔ وہ اس عمر میں اتنے کم وقت میں سو اور دو سو میٹر کے فاصلے طے نہیں کر سکتے۔‘
گرین کے مطابق ’تاہم وہ ایسا کر رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو ان کے ماضی پر نظر ڈالنا ہوگی اور دیکھنا ہوگا کہ اس کے ان پر اب بھی کتنے اثرات ہیں کیونکہ ایک عام آدمی کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔‘
اوسلو میں سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک چوہیا پر سٹیروائڈز ے اثرات کا جائزہ لیا اور انھیں یقین ہے کہ اسی قسم کے اثرات انسانی پٹھوں پر پڑتے ہیں۔
ڈاکٹر کرسٹن کا کہنا ہے کہ ’چوہوں اور انسانوں میں پٹھوں کی بڑھوتری ایک جیسی ہوتی ہے اور میں بہت زیادہ حیران ہوں گا اگر مجھے اس سلسلے میں انسانوں اور چوہوں پر تجربے کے الگ الگ نتائج ملیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’اگر آپ ورزش کریں یا سٹیروائڈز لیں تو آپ کے پٹھے بڑھ جات ہیں اور آپ کو مزید نکلئے ملتی ہے۔ اگر آپ سٹیروائڈز کا استعمال بند بھی کر دیں تو پٹھوں کا حجم تو کم ہوتا ہے لیکن ان میں موجود اثرات ختم نہیں ہوتے۔‘
’یہ ایک عارضی طور پر بند کارخانے کی طرح ہے جو اس وقت دوبارہ کام کرنے لگے گا جب آپ ورزش کریں گے۔‘



