’ٹورنامنٹ میں رہنا ہے تو آسٹریلیا کو ہرانا ہوگا‘

اس فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ تمام میچ جیت کر سیمی فائنل میں جائے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشناس فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ تمام میچ جیت کر سیمی فائنل میں جائے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے لیے آسٹریلیا کو ہرانا ضروری ہوگیا ہے تاکہ وقت سے پہلے ہی اس کی بساط نہ لپیٹ دی جائے۔

حالانکہ اس کے بعد اسے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز سے بھی مقابلہ کرنا ہے لیکن بھارت کے بعد آسٹریلیا کے خلاف بھی شکست اس کے حوصلے پست کردے گی۔

پاکستانی ٹیم اتوار کے روز میرپور کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے مدمقابل ہونے والی ہے۔

اس میچ کے بارے میں کوچ معین خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایونٹ کا پہلا میچ ہارنے کے بعد ٹیم کے ٹورنامنٹ میں بقا کے امکانات کم ہوجاتے ہیں لہذا پاکستانی ٹیم کو کم بیک کرنے کے لیے جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ٹورنامنٹ میں رہنا ہے تو آسٹریلیا کے خلاف میچ جیتنا ہوگا اس جیت سے ٹیم کچھ حد تک ریلکس ہوسکے گی۔

معین خان کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کافی عرصے سے عمدہ کرکٹ کھیل رہی ہے لیکن پاکستانی اسپنرز میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آسٹریلوی بیٹسمین کو قابو کرسکیں۔

معین خان نے کہا کہ اس فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ تمام میچ جیت کر سیمی فائنل میں جائے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ابتک گیارہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے چھ پاکستان نے جیتے ہیں چار میچوں میں آسٹریلیا کامیاب رہا ہے ایک میچ ٹائی ہوا ہے۔