ایشیا کپ میں کوئی فیورٹ نہیں: مصباح

مصباح الحق 2015 تک پاکستان کی ایک روزہ کرکٹ ٹیم کے کپتان رہیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق 2015 تک پاکستان کی ایک روزہ کرکٹ ٹیم کے کپتان رہیں گے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ میں کسی ایک ٹیم کو فیورٹ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تمام ایشیائی ٹیمیں بنگلہ دیش کی کنڈیشنز کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں

انھوں نے کہا کہ ٹیموں کو وہاں کھیلنے کا تجربہ بھی حاصل ہے لہٰذا اس ٹورنامنٹ میں بہت سخت مقابلہ رہے گا۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم 25 فروری سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرےگی۔

اس نے دو سال قبل ڈھاکہ ہی میں ایشیا کپ جیتا تھا اور فاتح ٹیم کے کپتان مصباح الحق ہی تھے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑے گی، ٹیم متوازن ہے جس کا اعتماد جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتنے سے بہت بلند ہوا ہے اور وہ اس کارکردگی کو دہرانے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بیٹنگ لائن ایک دو کھلاڑیوں پر بھروسہ نہیں کر رہی ہے بلکہ تمام ہی کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وقت پڑنے پر لوئر آرڈر بیٹسمینوں نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی ہے۔

شرجیل خان کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انہوں نے کریئر کا اچھا آغاز کیا لیکن پھر مستقل مزاجی نہ دکھا سکے، لیکن چونکہ باصلاحیت کرکٹر ہیں لہٰذا انہیں موقع ملنا چاہیے۔

مصباح الحق نے کہا کہ بھارتی ٹیم کو مہندر سنگھ دھونی کی کمی محسوس ہوگی جو تجربہ کار کپتان ہیں لیکن دنیش کارتک بھی اچھے کھلاڑی ہیں اور بھارتی ٹیم سخت حریف کے طور پر ایشیا کپ میں موجود ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ پر دنیا بھر کی نظریں ہوں گی اور پاکستانی ٹیم جیت کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

مصباح الحق نے کہا کہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ کا پریشر ہی ہے جس کے سبب ناکامی کا تھوڑا بہت خوف بھی ذہن میں ہوتا ہے: ’یہ کہنا غلط ہے کہ کسی بھی کھلاڑی پر پریشر نہیں ہوتا لیکن جب آپ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں تو پریشر کو ہینڈل کرکے پرفارم کرنا ہی پروفیشنلزم ہے۔‘

مصباح الحق نے کہا کہ پتہ نہیں لوگوں کو ان کے جانے کی اتنی جلدی کیوں ہے، وہ جب تک اچھی کارکردگی مظاہرہ کرتے رہیں گے کھیلتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کب چھوڑنی ہے اور اس کے بعد کیا کرنا ہے۔