بھارت کی شکست: ’پیسہ جیت کے لیے کافی نہیں‘

دھونی کو کپتانی سے ہٹانے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھونی کو کپتانی سے ہٹانے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں

بھارت کی کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈ کے حالیہ مایوس کن دورے میں شکست سے بھارتی ٹیم میں قیادت کی تبدیلی کے لیے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ دولت اور پیسے کی بہتات میدان کے اندر فتح کی ضامن نہیں بن سکتی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم کی شاندار ٹرپل سنچری کی وجہ سے ویلنگٹن میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا اور بھارت یہ سیریز ایک صفر سے ہار گیا۔ یہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی ملک سے باہر دوروں میں مسلسل چوتھی شکست ہے۔

بھارت کی ٹیم اپنے بیرونی دوروں میں کھیلے گئے 12 ٹیسٹ میچوں میں سے دس میں شکست سے دوچار ہوئی ہے جبکہ دو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔ اس ریکارڈ میں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں دو مسلسل دو ’وائٹ واش‘ بھی شامل ہیں۔

دھونی کی کپتانی میں ٹیسٹ میچوں سے پہلے ایک روزہ عالمی مقابلوں کی چیمپیئن بھارتی کرکٹ ٹیم پانچ ایک روزہ میچوں میں بھی صفر کے مقابلے میں چار میچوں سے شکست کھا گئی تھی۔ یوں اس ایک ماہ طویل دورے میں بھارت کی ٹیم کو ایک میچ میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ سابق ٹیسٹ کپتان بشن سنگھ بیدی بھارت کے امیر ترین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جس نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا لیا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ان تین ملکوں کو بین الاقوامی کرکٹ کے امور پر زیادہ اختیار حاصل ہو اور وہ زیادہ پیسہ کما سکیں۔

بیدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پیسے سے کرکٹ اور ووٹ خریدے جا سکتے ہیں لیکن ٹیم کی بہتر کارکردگی نہیں خریدی جا سکتی۔

بیدی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دھونی اور کوچ ڈنکن فلیچر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ ڈنکن فلیچر نے 2011 میں عالمی کپ کی فتح کے بعد جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کوچ گیری کرسٹن کی جگہ سنبھالی تھی۔

بیدی نے کہا کہ بھاری بھرکم ٹیم مینیجمنٹ اب بے کار ہو گئی ہے اور اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

کرکٹ کی ویب سائٹ کرک انفو میں لکھا گیا ہے کہ بھارت کی کرکٹ ٹیم کو، جسے اس سال انگلینڈ اور آسٹریلیا کا دورہ کرنا ہے، اب دھونی کی جگہ کسی اور کو کپتان بنانا ہو گا۔

کرکٹ کے مبصر سدھارتھ مونگیا نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کیا بھارت اس موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں انھیں ایک ایسے کپتان کی ضرورت ہے جو مشکل مرحلے میں اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہو؟

انھوں نے مزید کہا کہ دھونی ایک روزہ میچوں کے زبردست بلے باز ہیں، ایک روزہ میچوں کے زبردست کپتان ہیں، ملک کے اندر ٹیسٹ میچوں کے اچھے کپتان ہیں، لیکن ملک سے باہر وہ اہم موقعے ضائع کر دیتے ہیں۔

کوہلی کو کپتان بنانے کے مشورے

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے مشورہ دیا ہے کہ نوجوان بلے باز وراٹ کوہلی کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سونپ دینی چاہیے۔

ویلنگٹن ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں سنچری بنانے کے بعد وراٹ کوہلی کے بارے میں ایک مبصر نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وراٹ کوپلی کو بھارتی کرکٹ ٹیم کا مستقبل کا کپتان بنا دینا چاہیے۔

دھونی کی جگہ کوہلی کو کپتان بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشندھونی کی جگہ کوہلی کو کپتان بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں

بھارت کے مشہور کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ رینکنگ پر بھی سوال اٹھایا ہے جس میں بھارت جنوبی افریقہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کو سوچنا چاہیے کہ آئی سی سی رینکنگ بھارت کی طرف بڑی فراخدل ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین برس میں بیرون ملک ایک بھی میچ نہیں جیتا اور پھر بھی رینکنگ میں نمبر دو۔۔۔ کچھ تو ہے۔

سابق کرکٹر کرشن گھاوری نے کہا کہ اس کی وجہ ملک کے اندر بلے بازی کے لیے ساز گار پچیں ہے، جو بیرون ملک شکست کا باعث بنتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے اندر تو بھارتی بلے باز بے شمار رن بناتے ہیں لیکن جب ملک سے باہر جاتے ہیں تو تیز اور باؤنسی پچوں پر ناکام ہوجاتے ہیں۔

نیوزی لینڈ سے واپسی پر دھونی کی ٹیم کو ایشیا کپ اور عالمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں حصہ لینا ہے۔