کرکٹ کی ایسٹ انڈیا کمپنی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بین الاقوامی کرکٹ کے مالی اور انتظامی معاملات کو اپنی گرفت میں لینے کا عمل کسی ڈان کی کہانی معلوم ہوتا ہے جس میں پیار سے بات منوانا لالچ اور دھمکی سب ہی کچھ موجود ہے۔
بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ نے جب میدان سے باہر اپنی اجارہ داری کو قانونی شکل دیتے ہوئے اسے مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہیں ہرگز یہ امید نہ تھی کہ کم تر خیال کیے جانے والے ممالک ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے لیکن چند ہفتوں کی یہ مزاحمت اب دم توڑتی یا کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
آئی سی سی کے جس اجلاس میں تین ملکوں کے مقابلے پر جو چار ممالک کھڑے تھے ان میں سے ایک بنگلہ دیش اب ایک مختلف موقف کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
بنگلہ دیش کو تین ملکوں کے پیش کردہ حاکمیت کے منصوبے سے اپنی ٹیسٹ رکنیت کو خطرہ محسوس ہورہا تھا کیونکہ اس منصوبے میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ دو حصوں میں منقسم کرکے کھیلی جائے گی جس میں عالمی رینکنگ کی بڑی ٹیمیں آپس میں ہی کھیلیں گی اور بقیہ ٹیموں کی کرکٹ علیحدہ ہوگی تاہم اس نکتے کو آئی سی سی نے قبولیت نہیں بخشا۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر خوش ہیں کہ تین بڑوں نے انہیں اگلے دو برسوں میں اپنے ساتھ کھیلنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کے حالیہ اجلاس کے موقع پر کسی اتحاد کا حصہ نہیں تھے۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا یہ بدلتا روپ دنیا نے پہلی بار نہیں دیکھا ہے۔ آئی سی سی کی صدارت حاصل کرنے کے لیے بھی اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن جب وقت گزرگیا تو اس نے کسی بھی ایسے وعدے سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بنگلہ دیش کو آئندہ ماہ ایشیا کپ اور پھر مارچ میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنی ہے اور وہ کسی طور بھی بھارتی مخالفت برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی حمایت بگ تھری کی جھولی میں گرنے کے بعد اب پاکستان جنوبی افریقہ اور سری لنکا بچے ہیں۔
سری لنکا بھی بنگلہ دیش کی طرح مالی طور پر مستحکم کرکٹ بورڈ نہیں ہے بلکہ وہ گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد ایسی مشکل میں آگیا تھا کہ کرکٹرز کے معاوضے تک ادا نہیں ہوسکے تھے اور اسٹیڈیمز سری لنکن افواج کے حوالے کردیے گئے تھے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرسکیں۔
ان حالات میں اگر سری لنکا بھی بگ تھری سے جاملا تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔اس صورتِ حال میں پاکستان اور جنوبی افریقہ رہ جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جنوبی افریقہ بھارت نواز کرکٹ بورڈ کے طور پر مشہور رہا ہے لیکن ہارون لورگاٹ اور بی سی سی آئی کے درمیان اختلافات نے دونوں کرکٹ بورڈز کو دور کردیا ہے اس دوری کے دوران جنوبی افریقہ اور پاکستان کی قربت بڑھی اور پاکستانی ٹیم کو جنوبی افریقہ میں مختصر ون ڈے سیریز کھیلنے اور کچھ کمانے کا موقع ہاتھ آگیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب وہ ملک میں امن وامان کی بدترین صورتِ حال میں بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہے تو دوسری جانب بھارت اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھی تیار نہیں لیکن آئی سی سی کے اجلاس میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس نے دو طرفہ سیریز کھیلنے کی خواہش ظاہر کی یہ اور بات ہے کہ اسے پہلے کی طرح حکومت کی اجازت سے مشروط کردیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے جب اس کی ضمانت چاہی تو بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن کو جو وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کررہے تھے یہ بات بری لگ گئی۔
بھارت کو یہ زعم ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو وہ سب سے زیادہ پیسہ دے رہا ہے اور اسی تناسب سے اسے یہ واپس بھی چاہیے لیکن ایسوسی ایٹ ممالک کے فنڈز میں سے تین سو ملین ڈالرز کم کرکے اپنے اور آسٹریلیا اور انگلینڈ کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا کوئی معقول جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
کرکٹ کھیلنے والے اس کی آمدنی سے کھیلنے لگے تب بھی سب ٹھیک تھا لیکن حاکم اور محکوم کا یہ کھیل نہ جانے کیا رنگ لائے گا۔



