بگ تھری کی باقیوں کو خریدنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہGetty
دبئی میں پیر کو آئی سی سی کے طے شدہ ملاقات کے موقع پر کرکٹ کے بگ تھری یا تین بڑے اپنے آپ کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز کے لیے باقی 7 میں سے 6 کرکٹ بورڈوں کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف دکھائی دیے۔
منگل کو اس نئے متنازع تجویز پر ووٹنگ ہو گی اور اگر آئی سی سی نے اس منصوبے کو منظور کر لیا تو اس سے بین الاقوامی کرکٹ میں انقلابی تبدیلیاں آ جائیں گی۔
آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت آئی سی سی کی ساخت میں تبدیلی کر کے اپنے آپ کو زیادہ اختیارات دینا چاہتے ہیں۔ کرکٹ کھیلنے والے ان تینوں ملکوں کے بورڈ کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کے امیر ترین بورڈ ہیں۔
بھارت کا کہنا ہے اگر آئی سی سی کے مجودہ ڈھانچے میں یہ اصلاحات نہیں کی گئیں تو وہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت نہیں کرے گا۔
لیکن دنیا بھر سے ان مجوزہ تبدیلیوں پر تنقید کی جا رہی ہے اور کرکٹ کے سابق سربراہوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جس میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی دو لیگیں بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا اپنی کارکردگی سے قطع نظر مستقل طور پر پہلی لیگ کھیلنے کے مجاز ہوں گے جب کہ دوسرے ملکوں کو پہلی لیگ میں رکھنے کا فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق کرکٹ کھیلنے والے چھوٹے ممالک میں سے ایک کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے پیر کو آئی سی سی کی ہونے والی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’بی سی سی آئی، ای سی بی اور کرکٹ آسٹریلیا کے اہل کار لوگوں کو گھیرے میں لے کر کہتے کہ ہم آپ کو یہ دے دیں گے، ہم آپ کو وہ دے دیں گے۔‘
ایک دوسرے بورڈ کے اہلکار نے کہا کہ اس قسم کی زیادہ بات چیت بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کر رہی تھی، ہر ملاقات میں ان کی طرف سے پیشکش میں اضافہ ہوتا،’انھوں نے ہر بورڈ کو انفرادی طور پر بلایا اور ہر دفع انھیں کچھ پیشکش کی۔‘
آئی سی سی میں اصلاحات کی تجویز کی برملا مخالفت کرنے والی بورڈ کرکٹ ساؤتھ افریقہ کو اس بات چیت سے باہر رکھا گیا ہے جبکہ باقی بورڈوں کو مراعات کی پیشکش کی گئی۔



