روس:اولمپکس کے دوران احتجاج کے لیے خصوصی جگہ

سوچی میں پہلے سے ہی سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں
،تصویر کا کیپشنسوچی میں پہلے سے ہی سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

روس میں حکام نے آئندہ ماہ بحیرۂ اسود کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کے لیے ایک خصوصی مقام مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوچی میں سرمائی اولمپکس کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے اور سات جنوری سے 21 مارچ تک سکیورٹی کی ذمہ داری خصوصی انتظامیہ کے ذمے ہو گی۔

گذشتہ سال حکام نے اعلان کیا تھا کہ سوچی میں اولمپکس کے دوران کھیلوں کے علاقے میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہو گی۔

<link type="page"><caption> پُسی رائٹ:سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/12/131224_pussy_riot_olympic_boycott_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

تاہم اب نئے فیصلے کے تحت اگر انتظامیہ اجازت دیتی ہے تو فروری میں کھیلوں کے دوران احتجاج کیا جا سکے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ کسی عوامی اجتماع اور مظاہروں کے لیے پہلے سے میونسپل انتظامیہ، وزارتِ داخلہ کے مقامی ڈویژن اور وفاقی سکیورٹی ایجنسی ’ایف ایس بی‘ سے لازمی طور پر اجازت حاصل کرنا ہو گی۔

دمتری پیسکوف کے مطابق ’صدر پوتن نے کھیلوں کے منتظمین کو ہدایات دی ہیں کہ کراسنڈور خطے اور سوچی کے میئر کے ساتھ مل کر جگہ کا تعین کیا جائے تاکہ شہر میں مظاہرے، جلوس اور اگر ضروری ہوا تو آزادی سے احتجاج کیا جا سکے۔‘

تاہم صدارتی حکم نامے کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں لوگوں کی تعداد کے حوالے سے بعض پابندیاں بھی ہوں گی۔

روس میں ہم جنس شادیوں اور سیاسی اصلاحات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کرنے والی تنظیموں نےسوچی اولمپکس کے دوران احتجاج مظاہروں پر پابندی کے بارے میں شکایت کی تھی۔

سوچی اولمپکس کے موقع پر شدت پسند گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

روس کے جنوبی شہر وولگوگراد میں چند روز پہلے 29 اور 30 دسمبر کو ہونے والے دو خودکش حملوں میں 34 افراد مارے گئے تھے۔

ان واقعات کی تحقیقات کرنے والے حکام کے مطابق دونوں حملہ آور حملہ آور شمالی کوہ قاف سے آئے تھے۔

ان واقعات کے بعد روسی صدر پوتن نے سوچی میں کھیلوں کے علاقے کا خصوصی دورہ کیا ہے اور سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اولمپکس مقابلوں کے دوران ڈرون طیاروں سے نگرانی کی جائے گی اور شہر میں سڑک کے راستے داخل ہونے پر بعض پابندیاں ہو گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں پر پابندی میں نرمی اولمپکس مقابلوں سے پہلے عالمی سطح پر روس کی ساکھ کو بہتر بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

اس سے پہلے چین نے بھی سال 2008 میں بیجنگ اولمپکس سے پہلے اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کیں تھیں۔