ون ڈے ٹیم کے انتخاب پر چند سوالیہ نشان

وہاب ریاض کو زمبابوے کےخلاف ون ڈے سیریز کے دوران ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا
،تصویر کا کیپشنوہاب ریاض کو زمبابوے کےخلاف ون ڈے سیریز کے دوران ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جنوبی افریقہ کے خلاف اعلان کردہ پاکستان کی 16 رکنی کرکٹ ٹیم بظاہر متوازن دکھائی دیتی ہے تاہم فاسٹ بالرز وہاب ریاض، سہیل تنویر اور اوپنر ناصر جمشید کے انتخاب پر حیرانی بے جا نہیں۔

ناصر جمشید بھارت کے خلاف ایک روزہ سیریز میں دو سنچریاں بنا کر ایک اینڈ کے مضبوط رکھوالے کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن اس کے بعد 18 ایک روزہ میچوں میں وہ صرف دو نصف سنچریاں ہی بنا سکے۔ زمبابوے کے خلاف تین ایک روزہ میچوں میں کوئی قابل ذ کر اننگز نہ کھیلنے کے باوجود ٹیم میں برقرار رکھا جانا یقیناً ان کی خوش قسمتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ناصر جمشید کو یہ اعتماد دے کر ٹیم میں برقرار رکھاگیا ہے کہ وہ اپنے قدرتی سٹائل میں بیٹنگ کریں کیونکہ پہلے انہیں غالباً یہ ہدایت تھی کہ وکٹ پر دیر تک کھڑے رہیں اور غیرضروری سٹروک کھیلنے سے گریز کریں۔ تاہم تکنیکی معاملات کی اس بحث سے قطعِ نظر ناصر جمشید کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اس سیریز میں اچھی بیٹنگ کرکے اپنی جگہ مستحکم بنا لیں کیونکہ ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد ون ڈے میں بھی ان کی پوزیشن خطرے سے دوچار ہے۔

وہاب ریاض کی واپسی بھی اس لیے حیران کن ہے کہ وہ زمبابوے کے دورے میں ٹیسٹ ٹیم کا حصہ تھے لیکن دونوں ٹیسٹ نہ کھیل سکے جب کہ ون ڈے کی ٹیم سے انہیں ڈراپ کردیا گیا تھا۔

سلیکٹرز کا خیال تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں فاسٹ بالر انور علی کو موقع دیا جائے لیکن ٹیم مینیجمنٹ کی سوچ یہ تھی کہ ایک ایسا بالر زیادہ سود مند رہے گا جو متحدہ عرب امارات کے گرم موسم اور سست وکٹوں پر ہوا میں گیند گھما سکتا ہو۔

سہیل تنویر کو بھی پرانی گیند بہتر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت کے سبب ٹیم مینیجمنٹ کے کہنے پر شامل کیا گیا ہے۔

وہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا وقتاً فوقتاً حصہ رہے ہیں لیکن آخری ون ڈے گذشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے تھے۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھی وہ کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں رہے۔

ذوالفقار بابر نے ٹیسٹ کیپ حاصل کی اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ یقینی طور پر ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا حصہ ہوں گے، لیکن ون ڈے سیریز میں عبدالرحمٰن کو ان پر اس لیے ترجیح دی گئی ہے کیونکہ انھوں نے زمبابوے کے خلاف آخری دو ون ڈے میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔

صہیب مقصود پر سلیکٹرز نے ایک بار پھر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ وہ زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلے تھے ایک اننگز میں ان کی بیٹنگ آئی تھی جس میں انھوں نے 26 رنز بنائے تھے۔

حارث سہیل کو گھر کا رستہ دکھا دیا گیا ہے۔ وہ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے دوروں میں ٹیم میں شامل تھے لیکن تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی اننگز میں وہ قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔