ڈی آر ایس: 80 اووروں کے بعد دو اور ریویوز کی اجازت

اس سے پہلے ٹیسٹ میچ کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو فی اننگز دو ریفرلز کی اجازت تھی
،تصویر کا کیپشناس سے پہلے ٹیسٹ میچ کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو فی اننگز دو ریفرلز کی اجازت تھی

آئی سی سی نے ٹیسٹ میچوں میں آزمائشی طور پر 80 اووروں کے بعد دو اضافی ریویوز کی اجازت دے دی ہے۔اس تبدیلی کا اطلاق نومبر میں شروع ہونے والی ایشز سیریز سے ہو گا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) یکم اکتوبر سے ٹیسٹ میچوں میں آزمائشی طور پر 80 اوورز فی اننگز کے بعد دو اضافی ریویوز شروع کر رہا ہے۔

اس سے پہلے ٹیسٹ میچ کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو فی اننگز دو ریویوز کی اجازت تھی۔

<link type="page"><caption> ’ڈی آر ایس کا استعمال لازمی نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/10/111011_icc_drs_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> انگلینڈ بھارت سیریز، ریویو سسٹم مؤخر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/07/110721_drs_system_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان حال ہی میں ختم ہونے والی ایشز سیریز کے دوران متنازع فیصلوں کی وجہ سے ڈی آر ایس پر تنقید کی گئی تھی۔

بی بی سی کرکٹ کے نامہ نگار جوناتھن ایگنیو نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اس تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

جوناتھن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ٹیسٹ میچوں کے دوران ڈی ایس آر میں اضافے کی نہیں بلکہ اسے کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

آئی سی سی نے ٹی وی ایمپائروں کی ٹریننگ کی تجویز پیش کی ہے ، اس کے علاوہ وہ میچ کے دوران سلو اوور ریٹ اور کھلاڑیوں کی جانب سے وقت ضائع کرنے کے خلاف قانون سازی کرنے پر غور کر رہی ہے جس کا مقصد میچ کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔

خیال رہے کہ اوول میں کھیلے جانے والے ایشز سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے آخری دن انگلینڈ کو اس وقت فتح سے محروم ہونا پڑا جب ایمپائروں نے خراب روشنی کی وجہ سے کھیل کو روک دیا۔

اوول ٹیسٹ میچ کے آخری دن انگلینڈ کو 227 رنز کا ہدف ملا تھا اور اسے جیتنے کے لیے آخری 4 اوورز میں صرف 21 رنز درکار تھے جب ایمپائروں نے یہ کہہ کر میچ روک دیا کہ موجودہ حالات کھیلنے کے لیے ’بہت خطرناک‘ ہیں۔