’ٹیم کو یونس کے وسیع تجربے کی سخت ضرورت‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کے خیال میں یونس خان کو چیمپئنز ٹرافی کے سکواڈ سے باہر رکھنا دانشمندی نہیں کیونکہ انگلینڈ کےمخصوص موسمی حالات میں ٹیم کو ان کے وسیع تجربے کی سخت ضرورت رہے گی۔
واضح رہے کہ رواں برس جون میں انگلینڈ میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستانی ٹیم کے جن تیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں یونس خان شامل نہیں ہیں۔
رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سلیکٹرز نے یونس خان کو ڈراپ کرتے وقت انہیں اعتماد میں لیا ہوگا کیونکہ کسی بھی سینئیر کرکٹر کے لیے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ ٹیم سے باہر ہونے کی اطلاع اسے میڈیا کے ذریعے ملے۔
’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سلیکٹرز سمجھتے ہیں کہ ٹیم کو اب یونس خان کی ضرورت نہیں رہی تو وہ ان کی جگہ کس کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کر رہے ہیں کیونکہ یونس خان جیسے کرکٹرز بار بار پیدا نہیں ہوتے۔‘
رمیز راجہ کا کہنا ہے ’کیا نئے کھلاڑی انگلینڈ کے موسمی حالات میں سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں کو سنبھال سکیں گے؟ یہ خوبی صرف یونس خان میں موجود ہے۔ جس کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا کیا وہ اس اعلیٰ معیار کی فیلڈنگ کر سکے گا جو یونس خان اس عمر میں بھی کررہے ہیں؟ یقیناً نہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں رمیز کا کہنا تھا کہ اگر وہ کپتان ہوتے یا ٹیم منتخب کر رہے ہوتے تو یونس خان کو انگلینڈ کے دورے کے لیے ضرور منتخب کرتے۔
رمیز راجہ نے کہا کہ یونس خان اور کئی دوسرے سینیئر کرکٹرز سے اب یہ پوچھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان کا مستقبل کا پروگرام کیا ہے۔ ’ممکن ہے کہ سلیکٹرز کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں یہ کرکٹرز فٹ نہ بیٹھتے ہوں۔‘
رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرتے پڑتے ہیں لیکن کسی کو باہر کرنے کا طریقہ باوقار ہونا چاہیے۔
رمیز راجہ کے خیال میں پاکستانی بیٹنگ کا نیا ٹیلنٹ اس معیار کا نہیں جیسا جنوبی افریقہ یا بھارت کا ہے اس صورتحال میں جو بھی موجودہ ٹیلنٹ ہے اسے کام میں لانا ہوگا اور جب تک نئے ٹیلنٹ کو قدم جمانے کا موقع نہیں ملتا اور انہیں تجربہ حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک کچھ سینئیرز کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ رکھنا ہوگا۔



