’باصلاحیت کرکٹ کھلاڑیوں کا ملنا اب دشوار‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے کھیل میں ٹیلنٹ کا فقدان ہے اور ماضی میں جس طرح کے کھلاڑی پاکستان کو مل جاتے تھے اب ایسے کھلاڑیوں کا ملنا دشوار ہو گیا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں عامر سہیل کا کہنا تھا کہ کلب کرکٹ میں کمی باصلاحیت کھلاڑیوں کے اس قحط کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ کلبز ہی ایسی جگہ تھی جہاں کھلاڑیوں کو آغاز ہی سے مقابلے سے بھر پور کرکٹ ملتی تھی جس سے ان کی خامیاں شروع ہی سے دور ہو جاتیں تھیں۔
عامر سہیل کے مطابق کلب کرکٹ ہی کم نہیں ہوئی سکولوں اور کالجز میں بھی اب پہلے کی طرح کرکٹ نہیں ہو رہی اور چونکہ گراس روٹ کی سطح پر اچھی اور زیادہ کرکٹ نہ ملنے کے سبب وہ سیکھ نہیں رہے اور ان میں بہتری بھی نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا کہ شام کو بہت سے لڑکے کرکٹ بیگ اٹھائے کلبوں یا میدانوں کا رخ کرتے تھے لیکن اب کوئی اکا دکا بچہ ہی نظر آتا ہے جس نے کرکٹ کا بیگ اٹھایا ہو اور کھیلنے کے لیے جا رہا ہو۔
عامر سہیل نے کہا کرکٹ میں ٹیلنٹ کی اس کمی کی ذمہ دار حکومت کرکٹ بورڈ اور کئی دوسرے ادارے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈپارٹمنٹس میں کرکٹرز کو بہت کم نوکری ملتی ہے اس لیے اس کھیل میں نوجوانوں کو اپنا مستقبل نظر نہیں آتا اور ماں باپ بھی اپنے بچوں کے لیے کرکٹ کو محفوظ روز گار کے طور پر نہیں دیکھتے۔
عامر سہیل کے مطابق ٹیلنٹ کی کمی ہی کے سبب پاکستان کی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ میں اچھی کارکردگی نہ دکھا پائی۔
انہوں نے کہا کہ دورہء جنوبی افریقہ میں پاکستان کی کرکرٹ ٹیم کو اچھا خاصا سبق ملا ہے اور اب ضرورت ہے کہ ارباب اختیار سر جوڑ کر بیٹھیں اور ٹیم کی خامیاں دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی وکٹیں تیار کی جائیں کہ پاکستانی کرکٹرز دوسرے ملک میں جا کر ناکام نہ ہوں، کرکٹ کے ڈھانچے کو درست کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔
چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے دیے گئے تیس ناموں کی بابت عامر سہیل کا کہنا تھا کہ انہی ناموں کی ہی توقع کی جا رہی تھی کیونکہ ہمارے پاس دستیاب لوگ یہی ہیں البتہ انہوں نے کہا کہ یونس خان کو تیس کھلاڑیوں میں شامل کرنا چاہیے تھا۔
عامر سہیل کے مطابق اگرچہ یونس خان کی فارم کچھ عرصے سے ون ڈے کرکٹ میں اچھی نہیں رہی لیکن چیمپئنز ٹرافی انگلینڈ میں ہو رہی ہے اور اگر وہاں وکٹیں انگلش حالات کے مطابق ہی ہوئیں تو پھر تجربہ کار یونس خان کی ضرورت پڑ سکتی ہے



