
اسی قسم کا الزام آسکر نے ایلن کے خلاف سنیچر کے روز بھی لگایا تھا
لندن میں جاری پیرالمپکس کھیلوں کے پانچویں دن بھی چین کی برتری قائم ہے اور چار روز کے مقابلوں کے اختتام پر چین کے طلائی تمغوں کی تعداد پنتیس ہو چکی تھی۔
دوسرے نمبر پر میزبان برطانیہ ہے جس نے اب تک پندرہ طلائی تمغے حاصل کیے ہیں۔
اولمپکس کی طرح پیرالمپکس میں بھی برطانیہ سائیکلنگ میں چھایا ہوا ہے اور اس نے پانچ طلائی تمغے حاصل کرڈالے ہیں۔
اسپرنٹ میں انتھونی کیپس اور کریگ مک لین نے گولڈ میڈل جیتا۔ خواتین کی تیراکی میں برطانیہ کی جیسیکا جین ایپل گیٹ نے دو سو میٹرز فری اسٹائل میں طلائی تمغہ جیت لیا۔
گھڑ سواری میں برطانیہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لیے۔ پانچ ہزار میٹرز کی وہیل چیئر ریس برطانیہ کے ڈیوڈ ویر نے جیتی۔
کامیابیوں کے اس سلسلے میں اگر کسی کے ساتھ بری ہوئی تو وہ جنوبی افریقی ایتھلیٹ آسکر پرسٹوریئس تھے۔
اتوار کی شام برازیل کے ایلن اولیویرا نے جنوبی افریقہ کے فیورٹ آسکر پسٹوریئس کو دو سو میٹر ریس میں شکست دے کر طلائی تمغہ جیت لیا۔
اس ریس میں شکست کے بعد آسکر نے الزام لگایا کہ ایلن نے وہ بلیڈ لگائے ہوئے تھے جن کی لمبائی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایتھلیٹس کے بلیڈ ناپے گئے تھے اور ایلن کے بلیڈ صحیح لمبائی کے تھے۔
اسی قسم کا الزام آسکر نے ایلن کے خلاف سنیچر کے روز بھی لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیڈ کی لمبائی کو عمومی طور پر کال روم میں نہیں ناپا جاتا۔
اس کے جواب میں ایلن نے کہا ’میرے بلیڈز کی لمبائی بالکل صحیح تھی۔ ریفریز نے مجھے سارے عمل کیا۔ میں جب ٹریک پر پہنچا تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے تمام ٹیسٹ پاس کیے ہیں اور تبھی میں ٹریک پر پہنچا ہوں۔ اور یہ بات آسکر بھی جانتے ہیں۔‘
ایلن سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے بلیڈ کی لمبائی سیمی فائنل اور فائنل کے درمیان تبدیل کی تھی تو ان کا کہنا تھا ’نہیں۔ جب سے یہ بلیڈ پہنے ہیں تب سے یہ بلیڈ انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں۔ میں یہ بلیڈ ایک ماہ سے زیادہ سے استعمال کر رہا ہوں۔‘






























