معذور ایتھلیٹ جنوبی افریقی سکواڈ کا حصہ

عالمی اتھلیٹکس مقابلہ جنوبی کوریا کے شہر دائگو میں ستائیس اگست کو شروع ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعالمی اتھلیٹکس مقابلہ جنوبی کوریا کے شہر دائگو میں ستائیس اگست کو شروع ہو رہا ہے

جنوبی افریقہ کے آسکر پسٹوریئس دو ہزار گیارہ کے عالمی ایتھلیٹکس مقابلے میں شرکت کر کے مقابلے کی تاریخ میں عام افراد کے ساتھ مقابلہ کرنے والے پہلے معذور ایتھلیٹ بن جائیں گے۔

’بلیڈ رنر‘ کے نام سے معروف چوبیس سالہ آسکر پسٹوریئس، جن کی دونوں ٹانگیں نہیں ہیں، کاربن فائبر کے بنے بلیڈز کی مدد سے چار سو اور چار ضرب چار سو میٹر کی ریلے ریس میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کریں گے۔

دو ہزار گیارہ کے عالمی ایتھلیٹکس مقابلے جنوبی کوریا کے شہر دائگو میں ستائیس اگست سے شروع ہو رہے ہیں۔

آسکر پسٹوریئس کا کہنا تھا ’میں نے ہمیشہ بڑے عالمی مقابلوں میں شرکت کرنا چاہا ہے تاہم یہ میری زندگی کا ایک بہت ہی اہم لمحہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ریس کا دن میرے لیے ایک عظیم دن ہو گا اور میں پرامید ہوں کہ میں اپنے ملک کا نام روشن کروں گا۔‘

’میں نے آج تک جتنےعام افراد کے مقابلوں میں شرکت کی ہے ان میں یہ مقابلہ سب سے زیادہ خاص اور بلند درجے کا ہے کیونکہ اس میں دنیا کے بہترین اتھلیٹس حصہ لیتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ دو ہزار آٹھ میں اتھلیٹکس کے عالمی ادارے ’انٹرنیشنل اسوسی ایشن آف اتھلیٹکس فیڈریشن‘ کی جانب سے آسکر پسٹوریئس پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

ادارے نےتفریق کی بنیاد پر یہ پابندی عائد کی تھی کہ آسکر کی ٹانگوں میں لگے بلیڈ انھیں باقی ایتھلیٹس کی نسبت دوڑ لگانے میں زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔