لندن میں پیرالمپکس مقابلوں کا باقاعدہ آغاز

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 23:52 GMT 04:52 PST

لندن میں دو ہزار بارہ کے اولمپکس مقابلوں کے کامیاب انعقاد کے تقریباً دو ہفتے بعد چودہویں پیرالمپکس مقابلوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

ملکہ برطانیہ نے ایک رنگا رنگ تقریب میں پیراالمپکس مقابلوں کا افتتاح کیا جو چونسٹھ سالہ تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔

تقریب میں ملکہ کے ساتھ ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ شہزادی کیتھرین میڈلٹن بھی شریک تھیں۔

برطانیہ کے پیرااولمپکس کھیلوں میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والی چوراسی سالہ مارگریٹ موگن نے پیرااولمپکس کا شلعہ روشن کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

پیرالمپکس کی تقریب کا افتتاح عالمی شہرت یافتہ ماہرِ طبعیات اور ’موٹر نیورون‘ نامی بیماری کا شکار پروفیسر سٹیون ہاکنگ نے ’سائنسی دریافت کے سفر‘ کی کہانی سنا کر کیا اور آتش بازی کے ذریعے بگ بینگ کا علامتی دھماکہ کیا گیا۔

تقریب کے دوران سٹیون ہاکنگ نے مسلسل شیکسپیئر کے ڈرامے ’دی ٹیمپیسٹ‘ کے کردار میرانڈا کی طرح رہنمائی کی۔ اس ڈرامے کی کہانی افتتاحی تقریب کا مرکزی شو تھا۔

اس تقریب میں ساٹھ ہزار کے قریب شائقین نے بھی ایک ساتھ سیب کھا کر سائنسدان نیوٹن کا کشش ثقل دریافت کرنے کا حوالہ دیا۔

’اینلائٹنمنٹ‘ نامی اس پروگرام میں معذور فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔روایتی اولمپکس کی طرح ان پیرالمپکس کا آغاز بھی ایک رنگارنگ تقریب سے ہوا۔ جس میں مشعل روشن کی گئی اور ان کھیلوں کا پرچم لہرایا گیا اور جسمانی طور پر معذور کھلاڑیوں کی تحریک کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

گیارہ دن جاری رہنے والے ان مقابلوں میں ایک سو چھیاسٹھ ممالک کے چار ہزار دو سو کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جن میں پندرہ سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔اس سے قبل خواتین ایتھلیٹس اتنی بڑی تعداد میں کبھی پیرالمپکس مقابلوں میں شریک نہیں ہوئیں۔

تقریب کا آغاز پروفیسر سٹیون ہاکنگ نے ’سائنسی دریافت کے سفر‘ کی کہانی سنا کر کیا

ان مقابلوں میں امریکہ کا دو سو سے زیادہ کھلاڑیوں کا دستہ حصہ لے رہا ہے جن میں بیس سالہ تیراک جیسیکا لونگ بھی شامل ہیں جو پیرالمپکس میں سات طلائی تمغے جیت چکی ہیں۔

چین دو سو بیاسی ایتھلیٹس کے ساتھ ان کھیلوں میں موجود ہے۔ چین نے ہی چار سال قبل بیجنگ میں ان مقابلوں میں سب سے زیادہ تمغے جیتے تھے۔

شمالی کوریا پہلی مرتبہ ان مقابلوں میں حصہ لے رہا ہے۔

عام اولمپکس کی طرح پیرالمپکس میں بھی کئی بڑے نام بڑی کارکردگی کے ساتھ موجود ہیں جن میں جنوبی افریقی ایتھلیٹ آسکر پیسٹوریئس قابل ذکر ہیں۔

وہ چار سال قبل بیجنگ میں ہونے والے پیرالمپکس میں سو دو سو اور چار سو میٹرز میں گولڈ میڈلز جیت چکے ہیں۔ پسٹوریئس کی دونوں ٹانگیں گھٹنے کے نیچے سے کٹی ہوئی ہیں اور وہ خصوصی طور پر تیار کردہ کاربن فائبر بلیڈز کی مدد سے دوڑتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پسٹوریئس ان چند معذور ایتھلیٹس میں شامل ہیں جو عام اولمپکس میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ پسٹورئس نے اسی ماہ لندن اولمپکس کی چار سو میٹرز ریس اور ریلے میں انہی بلیڈز کی مدد سے حصہ لیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>