
ڈان پیپر کو یہ بات یاد رکھنے میں مشکل ہوتی ہے کہ انہوں نے کتنے رائونڈ تیر لیے ہیں یا پھر انہوں نے کس انداز میں تیرنا ہے
پیرالمپکس یعنی معذور کھلاڑیوں کے اولمپک مقابلوں میں بارہ سال میں پہلی بار ذہنی طور پر کمزور کھلاڑیوں کو حصہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔
سڈنی میں سنہ دو ہزار میں ہونے والے پیرالمپک مقابلوں میں ہسپانوی باسکٹ بال ٹیم کی جانب سے ذہنی معذوری کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد اس طرز کے کھلاڑیوں کو ان مقابلوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔
ایتھنز دو ہزار چار اور بیجنگ دو ہزار آٹھ کے مقابلوں میں ذہنی طور پر کمزور کھلاڑیوں نے شرکت نہیں کی۔
لندن دو ہزار بارہ کے پیرالمپک مقابلوں میں ذہنی طور پر کمزور دس برطانوی کھلاڑی اتھلیٹکس، تیراکی اور ٹیبل ٹینس کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
سنہ دو ہزار سولہ میں ریو میں ہونے والے پیرالمپک مقابلوں کے حوالے سے تجویز ہے کہ ذہنی طور پر کمزور کھلاڑی زیادہ کھیلوں میں حصہ لے سکیں گے۔
ذہنی طور پر کمزور کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے والی فلاحی تنظیم من کیپ کے نیشنل سپورٹس مینیجر نِک پار کا کہنا ہے ’ذہنی کمزوری ایک ایسی معذوری ہے جو کہ بظاہر نظر نہیں آتی اور اسی وجہ سے اسے سمجھنا، خاص کر کھیل کی دنیا کے لیے، قدرے مشکل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ مثال کے طور پر ایک ویل چیئر استعمال کرنے والے کھلاڑی کو باسکٹ بال میں کیا مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کھلاڑیوں کی معذوری ان کے ذہن کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘
اس سال ذہنی کمزوری کا تعین کرنے کے لیے ایک جدید ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے۔ نِک پار نے اس ٹیسٹ کی تشکیل میں مدد کی۔ اس بارے میں انہوں نے کہا ’ہمیں ایک ایسا نظام بنانا تھا جو کہ اس معذوری اور اس کے اثر کی پیمائش کر سکے۔‘
’ذہنی طور پر کمزور کھلاڑیوں کی اہلیت کا تعین اب ایک سخت نظام کے تحت کیا جائے گا جس میں ان کی ذہانت کے بارے میں بھی معلومات ہوں گی۔‘
تیراک ڈان پیپر پہلی بار ان مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے دو ہزار کی سڈنی اولمپکس کے لیے بھی کوالیفائی کیا تھا تاہم شرکت سے پہلے ہی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
ڈان پیپر کا کہنا ہے کہ وہ دیگر تیراکوں کی طرح نہیں ہیں۔ ’دوسرے مقابلے سے پہلے آرام کرنا پسند کرتے ہیں مگر میں تیر کر تیاری کرتا ہوں۔‘
ڈان پیپر کو یہ بات یاد رکھنے میں مشکل ہوتی ہے کہ انہوں نے کتنے راؤنڈ تیر لیے ہیں یا پھر انہوں نے کس انداز میں تیرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے لائحہِ عمل بنائے ہوئے ہیں۔






























