میں عظیم ترین ایتھلیٹ ہوں: یوسین بولٹ

یوسین بولٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوسین بولٹ دو سو میٹر کی دوڑ میں بھی سب سے آگے

یوسین بولٹ نے دو سو میٹر کی دوڑ میں بھی طلائی تمغہ جیتنے کے بعد خود کو تاریخ کا ’عظیم ترین ایتھلیٹ‘ قرار دے دیا ہے۔

سو میٹر کی دوڑ میں فتح یاب ہونے کے چار روز بعد دو سو میٹر کی دوڑ میں بھی اپنا اعزاز برقرار رکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں ایک ’لیونگ لیجنڈ‘ ہوں۔

اس سے قبل پچیس سالہ جمیکن شہری نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ اپنا ہی انیس اعشاریہ ایک نو سیکنڈ کا ریکارڈ توڑ دیں۔

بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ’میں تیز تو تھا لیکن زیادہ فٹ نہیں تھا‘۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں ابھی ریٹائر ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مجھے اس کھیل سے عشق ہے۔‘

جمیکا ہی کے یوہان بلیک نے چاندی اور وارن وائر نے کانسی کا تمغہ جیت کر دو سو میٹر میں کلین سویپ مکمل کیا۔ یوہان کا وقت انیس اعشاریہ تین دو سیکنڈ تھا۔

بولٹ نے دوڑ کے بعد کہا ’ہم نے ایک دوسرے پر خوب دباؤ ڈالا اور ہم خوش ہیں۔‘

اگرچہ اس موقع پر انہوں نے نہ تو عالمی اور نہ ہی اولمپک ریکارڈ توڑا، لیکن پھر بھی بولٹ دوڑ کے بعد میڈیا کانفرنس کے موقعے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ انہوں نے کھیل کے میدان پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

بولٹ نے کہا ’میں اب ایک لیونگ لیجنڈ ہوں، اب میں آرام سے بیٹھ کر مستقبل کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔‘

’میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد میں کیا چاہتا ہوں، آیا میں سو یا دو سو میٹر کی دوڑوں میں حصہ لینا چاہتا ہوں، یا کچھ اور۔ میں ایک ایسا ہدف ڈھونڈنا چاہتا ہوں جو مجھے بڑے کام کرنے کے لیے سرگرم رکھے۔ بقیہ سیزن کے دوران میں آرام کروں گا کیوں کہ میں جو کرنے یہاں آیا تھا وہ کر چکا ہوں۔‘

بولٹ شروع ہی سے اپنے بائیس سالہ ہم وطن بلیک سے آگے تھے لیکن فنشنگ لائن کے قریب پہنچتے پہنچتے سست پڑ گئے تھے۔

انہوں نے کہا ’جب میں کونے سے آگے بڑھا تو میں نے اپنی کمر میں تھوڑا سا کھنچاؤ محسوس کیا، اس لیے میں نے صرف اپنا انداز ہی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ میں نے دوڑنا بند کر دیا تھا کیوں کہ مجھے پتا چل گیا تھا کہ میں عالمی ریکارڈ نہیں توڑ سکوں گا۔‘

بولٹ نے مزید کہا کہ میں دو سو میٹر کا ریکارڈ بنانا چاہتا تھا، لیکن پھر بھی خوش ہوں۔ میں یہاں آیا اور جو میرے پاس تھا جھونک دیا اور مجھے خود پر فخر ہے۔‘