نابینا کرکٹ ٹیم ویزہ نہ ملنے پرمایوس

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم عالمی چیمپئین بھی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان بلائینڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سید سلطان شاہ نے کہا ہے کہ برطانوی سفارت خانے کی طرف سے نابینا کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیم کو ویزے نہ دینے سےمعزور افراد میں کرکٹ کے فروغ کو شدید دھچکا لگا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بصارت سے محروم کھلاڑیوں کی پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کی بصارت سے محروم کرکٹ ٹیم سے ٹیسٹ سیریز کھیلنے جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کی دعوت انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود برطانوی ہائی کمیشن نے اُنہیں ویزے نہیں دیے۔

سید سلطان شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے لیے بجٹ بھی منظور کیا تھا اس کے علاوہ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی این او سی جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ جولائی کو برطانیہ کے ویزے کے لیے پاسپورٹ برطانوی ہائی کمیشن میں جمع کروائے گئے اور شیڈول کے مطابق پاکستانی کی نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم کو نو اگست کو انگلینڈ پہنچنا تھا لیکن گیارہ اگست کو برطانوی ہائی کمیشن سے پاسپورٹ واپس مل گئے جس میں انہوں نے ویزا دینے سے انکار کردیا۔

پاکستان بلائینڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم عالمی چیمپئین بھی ہے اور اگر اس ٹیم کے ساتھ ایسا ہوگا تو پھر دوسری ٹیموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہوگا۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والے نابیناؤں کے عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کو پاکستان منتقل کیا جائے۔ سلطان شاہ کا کہنا تھا کہ اگر برطانوی ہائی کمیشن نے آئندہ بھی ویزے نہ دیے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم اپنے اعزار کا کیسے دفاع کرسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم کو ویزے نہ دینے پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن اور ابوظہبی میں برطانوی سفارت خانے کو ویزے جاری کرنے کی استدعا کی تھی لیکن اُن پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ سلطان شاہ نے دعوٰی کیا ہے کہ پاکستان کی نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم کے ہر رکن کے رشتہ داروں نے دس دس لاکھ روپے کے ضمانت نامے بھی جمع کروائے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ وہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔

اس سلسلے میں برطانوی ہائی کمیشن کی ترجمان جینیفر ویلکس کا کہنا ہے کہ کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویزے کے لیے درکار شرائط پوری نہیں کی گئیں اس لیے انہیں ویزہ جاری نہیں کیا گیا۔