’خلیل ہمارے ہیرو ہیں‘

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو دہشت گردوں کے حملے سے بچانے والے بس ڈرائیور مہر خیل کو کولمبو میں ہونے والی ایک تقریب میں اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
بس ڈرائیور مہر محمد خلیل نے تین مارچ کو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر ہوئے دہشت گردوں کے حملے کے دوران برستی گولیوں میں بس کو باحفاظت سٹیڈیم میں پہنچایا تھا۔
کولمبو میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کے دفتر میں ہوئی تقریب میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان کمارا سنگاکارا نے مہر محمد خلیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے ہمارے دل میں ہمیشہ خاص جذبات رہیں گے۔
یاد رہے کہ لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہوئے حملے کے دوران چھ پولیس اہلکار، ایک بس ڈرائیور ہلاک جبکہ سات سری لنکن کھلاڑی اور ایک برطانوی اسسٹنٹ کوچ زخمی ہو گئے تھے۔
مہر محمد خلیل اور ان کے گھر والوں کو خصوصی طور پر سری لنکا مدعو کیا گیا ہے اور ان کے اعزاز میں کولمبو میں ہوئی ایک تقریب میں انہیں اکیس ہزار آٹھ سو ڈالر کی انعامی رقم بھی دی گئی ہے۔
کمارا سنگاکارا جو دہشت گردوں کے حملے کے دوران زخمی ہو گئے تھے انھوں نے تقریب میں کہا کہ آج ہم اس غیر مسلح شخص کی بہادری کے اعزاز میں یہاں موجود ہیں جس کی بہادری اور تیزی سے سوچنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہماری ٹیم کے بیشتر کھلاڑی زندگی کا اگلا دن دیکھنے کے قابل ہوئے۔
مہیلا جے وردھنے جو لاہور ٹیسٹ میچ میں سری لنکن ٹیم کی قیادت کر رہے تھے انھوں نے کہا کہ خلیل ہمارے ہیرو ہیں اور ہم ہمیشہ انھیں یاد رکھیں گے۔
مہر محمد خلیل نے تقریب کے دوران کہا کہ میں نے سب کچھ پاکستان کے لیے کیا اور سری لنکا کے لیے کیا کیونکہ وہ میرے ملک کے مہمان تھے۔انھوں نے کہا کہ حملے کے دوران وہ خوف ذدہ نہیں ہوئےاور ایک بار بھی ان کے دل میں خیال نہیں آیا کہ جان بچانے کے لیے بس کو چھوڑ کر بھاگ جاؤں۔
مہر خلیل نے اس موقع پر سری لنکن کرکٹ ٹیم کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے بھارت کی کرکٹ ٹیم کے انکار کے بعد پاکستان کا دورہ کیا ۔
اس وقت حملے کے دوران زخمی ہونے والے تمام سری لنکن کھلاڑی کھیلنے کے قابل ہو چکے ہیں تاہم تھالنِ سماراویرا جن کی ٹانگ میں گولی لگی تھی اور حملے کے بعد دو ہفتے تک ہسپتال میں زیر علاج رہے تھے وہ کھیلنے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر اس وقت بارہ کے قریب دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جب بس قذافی سٹیڈیم کے قریب پہنچی تھی۔
دہشت گردوں کی فائرنگ سے بس کی سامنے کی سکرین اور اطراف میں گولیاں لگیں تاہم مہر خلیل تیزی سے بس کو سٹیڈیم کے اندر لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔



