ماضی کی باتیں بھلا چکا، اب زیادہ انکساری اور لچک موجود ہے: یونس خان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ کے دو سابق مایہ ناز کھلاڑی یونس خان اور مصباح الحق ایک بار پھر اکٹھے ہوئے ہیں لیکن اس بار دونوں کو خود بیٹنگ نہیں کرنی بلکہ ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے اپنے کھلاڑیوں سے بہترین نتائج لینے ہیں۔
یونس خان اس سلسلے میں خاصے پُرجوش دکھائی دیتے ہیں کہ جس طرح ان دونوں نے تین سال قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخی جیت کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام کیا تھا، ایک ساتھ کوچنگ کا آغاز بھی اسی طرح جیت سے کریں۔
یونس خان کہتے ہیں ’پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے مجھے دو جون کو فون کر کے پاکستانی ٹیم کا بیٹنگ کنسلٹنٹ بننے کی پیشکش کی جسے میں نے 24 گھنٹے بعد قبول کر لیا۔ میں ہمیشہ اصولوں پر قائم رہا ہوں۔ ماضی میں بھی میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین اعجاز بٹ سے میری یہ کمٹمنٹ ہوئی تھی کہ وہ مجھے دو ہزار گیارہ کے ورلڈ کپ تک کپتان بنائیں گے لیکن اگر میں نے نتائج نہ دیے تو میں خود کپتانی چھوڑ دوں گا۔ میں نے خود کپتانی چھوڑی تھی یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونس خان سے یہ سوال کیا گیا کہ مصباح الحق کے ساتھ آپ نے ایک ساتھ کرکٹ کھیلی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ سابق کپتان محمد یوسف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ آپ کی کپتانی کے خلاف جو بغاوت ہوئی تھی اس کے ماسٹر مائنڈ مصباح الحق تھے۔
اس پر یونس خان کہتے ہیں ’میں ماضی کی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں ان سے زیادہ میری اپنی غلطی ہو۔ ماضی میں کیا کچھ ہوا وہ میں بھول چکا ہوں۔ اگر نہ بُھولا ہوتا تو آج یہاں موجود نہ ہوتا۔ ظاہر سی بات ہے کہ بیٹنگ کوچ کے طور پر میرا نام ہیڈ کوچ مصباح الحق کے سامنے رکھا گیا ہو گا جنھوں نے منظور کرنے میں دیر نہیں لگائی ہو گی۔‘
سابق ٹیسٹ کرکٹر یونس خان کا کہنا ہے کہ ان میں پہلے سے زیادہ انکساری آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یونس خان اور مصباح الحق کی جوڑی اعداد و شمار کے لحاظ سے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی بہترین جوڑی ہے۔ ان دونوں نے 53 اننگز ایک ساتھ کھیلتے ہوئے مجموعی طور 3213 رنز بنائے ہیں جن میں 15 سنچری پارٹنرشپ شامل ہیں۔ جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی ایک جوڑی کی جانب سے چوتھی سب سے زیادہ سنچری پارٹنرشپ ہیں۔
یونس خان کہتے ہیں کہ ’ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے فلاحی کاموں کے سلسلے میں جو غیر ملکی سفر کیے ہیں ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھ میں پہلے سے زیادہ انکساری آ گئی ہے۔ مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ پاکستانی انڈر 19 ٹیم کی کوچنگ کے سلسلے میں میرے پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاملات طے نہیں پا سکے تھے۔ اس وقت ہم ایک پیج پر نہیں آ سکے تھے حالانکہ میں نے انڈر 19 ٹیم کے لیے اچھے پلان بنا رکھے تھے لیکن اب میں کافی لچکدار ہوں میں نے سیکھا ہے کہ کیسے لچکدار بننا ہے۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ مستقبل میں چاہے قومی ٹیم ہو یا نچلی سطح انھیں جو بھی موقع ملے گا وہ میں حاصل کروں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یونس خان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔ چونکہ مصباح الحق ہیڈ کوچ ہیں لہذا میں کوشش کروں گا کہ کھلاڑیوں اور خصوصاً بلے بازوں کو انہی خطوط پر بتاؤں جو مصباح الحق نے اپنی کوچنگ کے سلسلے میں استوار کیے ہیں۔ میں بیٹسمینوں کو کنفیوز نہیں کرنا چاہتا۔‘
یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی انا پرست نہیں رہے ہیں۔
’میں نے کبھی بھی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ آپ کی انا آپ کی پرفارمنس میں ہونی چاہیے اور اسے مثبت انداز میں اس طرح لینا چاہیے کہ اگر مصباح نے سو رنز بنائے ہیں تو مجھے دو سو رنز کرنے ہیں۔ میں اپنی جانب سے یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہوں کہ میری وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ کوچ کا رول خدمت کرنے والے کا ہوتا ہے۔ میرے خلاف جب بھی منفی بیانات آتے تھے تو میں کبھی خود منفی نہیں ہوتا تھا بلکہ تحمل مزاجی سے اس کا تجزیہ کرتا تھا کہ یہ صحیح ہے یا نہیں؟‘
بولرز کے لیے سخت امتحان
انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کے سپن بولنگ کوچ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر معمولی صورتحال میں یہ ایک مشکل سیریز ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’جو قوانین میں تبدیلیاں آئی ہیں ان کے بارے میں ہمیں صحیح اندازہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی سیریز سے ہو جائے گا۔ خاص کر ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ بولرز گیندکو تھوک سے چمکائے بغیر کس طرح اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیوک کی گیند جب نئی ہوتی ہے تو وہ پندرہ اوورز کے بعد سوئنگ ہونا شروع ہوتی ہے۔ ہمیں یہ خیال رکھنا ہو گا کہ وکٹ کیپر کے پاس آنے کے بعد گیند زیادہ ہاتھوں سے ہوتے ہوئے بولر تک نہ آئے۔‘
مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم کئی ماہ کے وقفے کے بعد جب میدان میں آئے گی تو کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تیکنک پر بھی کام کرنا ہو گا۔ مہارت ہفتہ دس دن میں واپس آ جاتی ہے اصل کام کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
مشتاق احمد کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس نوجوان پیس اٹیک ہے لیکن سیریز میں یاسر شاہ کا کردار بھی اہم ہو گا کیونکہ آپ ٹیسٹ میچ گرین وکٹ پر بھی کھیلیں چوتھی اننگز میں آپ کو لیگ اسپنر کی موجودگی اہم ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ حالات میں اس سیزن میں کاؤنٹی کرکٹ نہیں ہوئی ہے لہذا وکٹیں تازہ ہوں گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وکٹ دیکھ کر ہی بولنگ اٹیک ترتیب دینا ہو گا۔ ایک اینڈ پر سپنر سے بولنگ کروا کر دوسرے اینڈ سے فاسٹ بولرز سے چھوٹے چھوٹے سپیل کروانے ہوتے ہیں۔ سیریز میں تین ٹیسٹ میچ ہیں لہذا ہمیں اپنے فاسٹ بولرز کی فٹنس کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔‘









