پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: پہلی اننگز میں پاکستان کی ٹیم 240 رنز پر آل آؤٹ

برسبین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسد شفیق کے علاوہ کوئی بھی بلے باز آسٹریلوی بولرز کو جم کر نہ کھیل سکا

آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن اسد شفیق کے علاوہ دیگر پاکستانی بلے باز متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور پاکستان کی پوری ٹیم 240 رنز پر آؤٹ ہو گئی ہے۔

جمعرات کو برسبین کے گابا سٹیڈیم میں پاکستانی کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستانی بیٹنگ لائن اپ میں اسد شفیق نے سب سے بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے 76 رنز بنائے لیکن وہ پیٹ کمنز کا شکار ہوئے۔ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل سٹارک نے چار پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

رضوان کی وکٹ اور نو بال کا اصول

پہلے دن کے کھیل کی اہم بات پاکستانی بلے باز محمد رضوان کی متنازع وکٹ تھی۔ انھیں پیٹ کمنز کی گیند پر وکٹ کیپر نے کیچ کیا لیکن ایکشن ری پلے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ کمنز کا پیر گیند کرواتے ہوئے کریز سے باہر تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

یہ معاملہ تھرڈ امپائر کے پاس بھی گیا اور متعدد بار ایکشن ری پلے دینے کے بعد بھی ان کا فیصلہ آسٹریلیا کے حق میں ہی رہا۔

رضوان جب آؤٹ ہوئے تو وہ اسد شفیق کے ساتھ مل کر 49 رنز کی شراکت قائم کر چکے تھے اور ان کا انفرادی سکور 37 تھا جس میں انھوں نے سات چوکے مارے تھے۔

کسی بھی کرکٹ میچ کے دوران، ایک بولر کے اوور میں نو بال ہونے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ تاہم جہاں بات فرنٹ فٹ یعنی اگلے پاؤں اور کریز کی ہو تو آئی سی سی کا یہ اصول موجود ہے:

  • نوبال نہ ہونے کے لیے بولر کے فرنٹ فٹ کا کچھ حصہ کریز یا لکیر سے پیچھے ہونا چاہیے۔
نو بال

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ikramkhaan2

سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین رضوان کی وکٹ پر کافی مایوس نظر آرہے ہیں۔

کچھ لوگ امپائر کے فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں تو بعض یہاں بھی ہنسنے اور ہنسانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نو بال

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ayazkha87726427

ایاز خان نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے یہ نو بال تھی۔‘

وہ یہ وضاحت دیتے ہیں کہ بولر کے فرنٹ فٹ کا کوئی بھی حصہ لائن کے پیچھے نہیں ہے۔

نو بال

،تصویر کا ذریعہTwitter/@satti_haseb

لیکن دوسری طرف حسیب نامی صارف کے مطابق اسے نو بال نہیں کہہ سکتے ’کیونکہ بولر کا فرنٹ فٹ لائن پر ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

رضوان کی وکٹ پر پاکستانی شائقین نے مزاحیہ میمز بھی بنائے۔ ایک پوسٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پاکستانی فین غصے میں ہے۔

پاکستانی بیٹنگ: اچھے آغاز سے برا اختتام

دن کے آغاز پر پاکستان کی جانب سے شان مسعود اور کپتان اظہر علی نے اننگز کا آغاز کیا اور محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے کھانے کے وقفے تک میزبان ٹیم کو کوئی کامیابی حاصل نہیں کرنے دی۔

دن کے دوسرے سیشن میں آسٹریلوی بولر کھیل میں واپس آئے اور 75 کے سکور پر پہلے شان مسعود 27 رنز بنانے کے بعد کمنز کی گیند پر سلپ میں سمتھ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

ان کے ساتھی اظہر علی بھی مجموعی سکور میں کسی اضافے کے بغیر اگلے اوور میں 39 رنز بنانے کے بعد ہیزل وڈ کی پہلی وکٹ بنے۔

یہ بھی پڑھیے

برسبین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحمد رضوان امپائر کے متنازع فیصلے کا شکار ہوئے

شان مسعود کی جگہ آنے والے حارث سہیل صرف ایک رن بنا سکے اور انھوں نے اس میچ میں مچل سٹارک کو پہلی وکٹ لینے کا موقع دیا۔

ٹور میچوں کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بابر اعظم نے انتہائی غیرذمہ دارانہ انداز میں شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوائی۔ وہ بھی ایک رن ہی بنا سکے۔

اس موقع پر پاکستان کا سکور بغیر کسی نقصان کے 75 رنز سے چار وکٹوں کے نقصان پر 78 ہو گیا۔

پانچویں وکٹ کے لیے افتخار احمد اور اسد شفیق نے 24 رنز کی شراکت قائم کی جسے نیتھن لیون نے افتخار کی وکٹ لے کر توڑا۔

افتخار کی جگہ آنے والے محمد رضوان نے تیزی سے سکور میں اضافہ کیا اور سات چوکوں کی مدد سے 34 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز کھیلی تاہم جب وہ امپائر کے متنازع فیصلے کا شکار ہوئے تو پاکستان کا سکور چھ وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز تھا۔

مچل سٹارک نے ایک ہی اوور میں آسٹریلیا کے لیے ساتویں اور آٹھویں وکٹ لی۔

انھوں نے پہلے 26 رنز بنانے والے یاسر شاہ کو بولڈ کیا جنھوں نے اسد شفیق کے ہمراہ ساتویں وکٹ کے لیے 84 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ ان کی جگہ آنے والے شاہین آفریدی بغیر کوئی رن بنائے وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوئے۔

پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز نسیم شاہ تھے جو آسٹریلوی بولر مچل سٹارک کا شکار ہوئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنز نے تین، ہیزل وڈ نے دو جبکہ لیون نے ایک وکٹ لی ہے۔

پاکستان نے وارم اپ میچوں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 16 سالہ فاسٹ بولر نسیم شاہ کو اس میچ میں کھلایا ہے جو اپنے کریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 1995 سے لے کر اب تک کوئی پاکستانی ٹیم آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیت نہیں سکی ہے جبکہ گابا کے میدان پر آسٹریلیا 1988 سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہارا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان 16 سالہ نسیم شاہ اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں

آسٹریلیا کے اس دورے پر پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کی نذر ہوا جبکہ دوسرے میچ میں پاکستان کو سات وکٹوں سے اور تیسرے میچ میں دس وکٹوں سے شکست ہوئی۔

تاہم اس دورے کے وارم اپ میچ میں پاکستانی بلے بازوں اسد شفیق اور بابر اعظم دونوں نے آسٹریلیا اے کے خلاف سنچریاں سکور کیں ہیں۔

آسٹریلیا کی ٹیم

ڈیوڈ وارنر، جو برنز، مارنس لابوشانگ، سٹیون سمتھ، ٹریوس ہیڈ، میتھیو ویڈ، ٹم پین (کپتان اور وکٹ کیپر)، پیٹ کمنز، مچل سٹارک، نیتھ لائن، جاش ہیزل وڈ

پاکستان کی ٹیم

شان مسعود، اظہر علی (کپتان)، حارث سہیل، بابر اعظم، اسد شفیق، افتخار احمد، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، یاسر شاہ، شاہین آفریدی، محمد عباس، نسیم شاہ