فیفا ورلڈ کپ 2018: فائنل میں پہنچنے سے انٹر ملان کا کیا تعلق اور کوریا کے لیے کونسا خطاب؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرنینڈدو دوارتے
- عہدہ, بی بی سی عالمی سروس، ماسکو
فٹبال کے مداحوں کے لیے بری خبر اور اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ روس میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ کے 64 میں سے 48 میچ ہو چکے ہیں یعنی کہ دو تہائی ٹورنامنٹ ہو چکا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اب جتنے بھی میچ ہونے ہیں وہ نہایت اہم ہیں اور عین ممکن ہے کہ یادگار بھی ہوں۔
لیکن اب تک گروپ میچوں کی اہم باتیں کیا رہی ہیں؟
جاپان کے ’اچھے رویے‘ کا پھل
2018 کے فیفا ورلڈ کپ میں ییلو کارڈ کو ان ٹیموں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جن کے پوائنٹس اور گول برابر ہوں۔
گروپ ایچ کے میچ میں جاپان نے سنیگال کو ییلو کارڈ کی بنیاد پر ہرا کر ناک آؤٹ راؤنڈ میں اپنی جگہ بنائی۔
جاپان نے کولمبیا کو شکست دی، سنیگال سے میچ برابر کیا اور پولینڈ سے ایک صفر سے شکست کھائی جس کے باعث جاپان پہلے راؤنڈ ہی میں باہر ہونے سے بال بال بچا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہی رویہ اتوار کو جاپان بیلجیئم کے خلاف بھی دکھائے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوروگوئے، بیلجیم اور کروشیا
گروپ میچوں میں صرف تین ٹیموں نے شاندار کھیلا اور کوئی بھی ٹیم ناک آؤٹ راؤنڈ میں ان کے مدمقابل آنے سے ہچکچائے گی۔
بیلجیم کی ٹیم میں پریمیئر لیگ کے کھلاڑی ہیں اور بیلجیم نے سب سے زیادہ گول کیے ہیں یعنی نو گول۔ ورلڈ کپ سے پہلے ہی کہا جا رہا تھا کہ بیلجیم اس ٹورنامنٹ میں کافی آگے جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر بیلجیم ورلڈ کپ جیت جاتا ہے تو وہ ورلڈ کپ جیتنے والا سب سے چھوٹا ملک بن جائے گا۔ ابھی یہ اعزاز یوروگوئے کے پاس ہے۔
یوروگوئے کی ٹیم نے سوریز کی قیادت میں گروپ اے میں عمدہ کھیل پیش کیا ہے جس میں روس کو تین صفر سے شکست شامل ہے۔
جہاں تک کروشیا کا تعلق ہے تو لوگ کافی حیرت میں تھے جب وہ ارجنٹینا، نائیجیریا اور آئس لینڈ جیسے گروپ میں سرفہرست رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی امریکہ کا غلبہ
جنوبی امریکہ کی پانچ ٹیموں میں سے چار ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچ گئی ہیں۔ چونکہ برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا اور یوروگوئے ناک آؤٹ راؤنڈ میں مدمقابل نہیں ہوں گی تو ممکن ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2018 کے کوارٹر فائنل میں آنے والی آٹھ ٹیموں سے چار یہی ٹیمیں ہوں۔
پیرو اگرچہ ناک آؤٹ راؤنڈ میں نہیں پہنچ سکا لیکن وہ گروپ سی میں آسٹریلیا سے اوپر رہا۔ پیرو 1982 سے فیفا ورلڈ کپ سے باہر رہا ہے جبکہ آسٹریلیا نے گذشتہ تین ورلڈ کپ کھیلے ہیں۔

گول
فیفا کے مطابق 48 گروپ میچوں میں 122 گول کیے گئے ہیں یعنی فی گیم 2.54 گول۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تک روس 21 ویں صدی کا دوسرا ورلڈ کپ ہے جس میں سب سے زیادہ گول کیے گئے ہیں۔
شائقین امید کر رہے ہیں کہ ناک آؤٹ راؤنڈ میں ٹیمیں گول کرنے کی رفتار کو برقرار رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس پیچھے رہ گیا
دو میچ جیتنے کے بعد روسیوں کا جوش و ولولا بہت بڑھ گیا۔ روسی ٹیم کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ تمام ٹیموں سے زیادہ بھاگی ہے۔
لیکن گرپ میچوں کے آخر میں روسی ٹیم پیچھے رہ گئی۔
سربیا کی ٹیم کُل 339 کلو میٹر دوڑ کر پہلے نمبر پر جبکہ جرمنی 335.59 کلو میٹر دوڑ کر دوسرے نمبر پر رہی۔
بائی بائی افریقہ
1982 کے بعد سے پہلی بار ہے کہ ناک آؤٹ راؤنڈ میں افریقہ کی کوئی ٹیم نہیں پہنچی۔ سینیگال، نائیجیریا، مراکش، تیونس اور مصر باقی کا ٹورنامنٹ ٹی وی پر دیکھیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ افریقی فٹ بال تجزیہ کرے کہ کیا اور کہاں غلطی ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فاتحین کی نحوست
جرمنی کا ٹورنامنٹ سے باہر ہونے پر فاتحین کی نحوست کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ جرمنی پانچ ورلڈ چیمپیئنز میں چوتھی ہے جو ورلڈ چیمپیئن بننے کے اگلے ہی ٹورنامنٹ میں بری طرح ناکام ہوئی۔
جرمنی کی ٹیم سینیئر کھلاڑیوں کے جانے سے پیدا ہونے والی خلا کو پُر نہ کر سکا جیسے کہ فلپ لیہم، شوانسٹائیگر وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ گول کے مواقعے ضائع کرتی رہا۔
فیفا کے اعداد و شمار کے مطابق 32 ٹیموں میں سے جرمنی کو گول کرنے کے سب سے زیادہ موقعے ملے یعنی 75 لیکن وہ صرف تین گول کر سکی اور چار گول کھائے۔
گول کرنے کے سب سے کم موقعے روس کو ملے صرف 18 جن میں اس نے آٹھ گول کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوریا باہر لیکن جرمنی کو شکست دینے کے بعد
اگرچہ جنوبی کوریاپہلے راؤنڈ ہی میں باہر ہو گئی لیکن اس نے جرمنی کو شکست دی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا کو ’چوپرز‘ ( choppers) کا خطاب دیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ فاؤل کیے 63 جبکہ دوسرے نمبر پر مراکش رہی جس نے 62 فاؤل کیے۔
سب سے کم فاؤل جاپان نے کیے جس نے 28 فاؤل کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا برازیل، کروشیا یا یوروگوائے پہلے ہی فائنل میں ہیں؟
اگر آپ عجیب اعداد و شمار دیکھیں تو ہاں ایسا ہی ہے۔
1982 سے ورلڈ کپ وہ ٹیم جیتی ہے جس میں اطالوی فٹ بال ٹیم انٹر ملان کا کھلاڑی کھیل رہا ہو۔
ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچنے والی ٹیموں میں انٹر ملان کی جانب سے کھیلنے والے کھلاڑی برازیل کے ڈیفنڈر مرنڈا، یوروگوائے کے مڈ فیلڈر ماٹیئس وچینو اور کروشیا کے ونگر ایوان پریسچ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا وی اے آر ریفری پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
برازیل کے مقامی اخبار کے مطابق روس 2018 کے 40 میچوں کا تجزیہ کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری سسٹم یعنی وی اے آر کی وجہ سے ریفری نے 11 میں نو موقعوں پر اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے قوانین بنانے والی باڈی، انٹرنیشنل بورڈ کے مطابق 15 میں سے صرف ایک وی اے آر فیصلہ غلط تھا۔
انٹرنیشنل بورڈ کے مطابق پورتگل کے خلاف ایران کو پنلٹی دینے کا فیصلہ غلط تھا جس کے باعث یہ میچ ایک ایک گول سے برابر رہا۔










