ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 20 رنز سے شکست دے دی

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشکیب الحسن مین آف دی میچ قرار دیے گئے

17سال قبل ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے والی بنگلہ دیش کی ٹیم نے ڈھاکہ میں کھیلنے جانے والے میچ میں ٹیسٹ کرکٹ کی کامیاب ترین ٹیم آسٹریلیا کو 20 رنز سے شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔

یہ میچ بنگلہ دیش کی ٹیسٹ میچوں کی تاریخ کا 101واں میچ تھا جو ان کی دسویں فتح پر ختم ہوا۔

میچ کے ہیرو بنگلہ دیش کے آل راؤنڈر اور ان کے بہترین کھلاڑی شکیب الحسن رہے جنھوں نے پہلی اننگز میں شاندار 84 رنز بنائے اور اس کے بعد دنوں اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں لے کر میچ میں دس کھلاڑی آؤٹ کیے۔

اس کارکردگی پر مین آف دی میچ کا اعزاز بھی انھی کو ملا۔

آسٹریلیا کو کھیل کے چوتھے دن فتح کے لیے 156 رنز درکار تھے جبکہ کریز پر کپتان سٹیو سمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر کی جوڑی موجود تھی جو 81 رنز کی شراکت قائم کر چکے تھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ وارنر کا شاندار سنچری رائیگاں گئی

پانچویں دن کا کھیل شروع ہونے کے بعد وارنر نے اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور نہایت مشکل حالات اور دباؤ کے باوجود شاندر سنچری سکور کی۔

اس موقع پر لگ رہا تھا کہ بنگلہ دیش شاید ہمت ہار جائے لیکن 158 رنز کے مجموعی وارنر کے آؤٹ ہوتے ہی ان کی امیدوں کے دیے دوبارہ روشن ہو گئے۔

صرف 13 رنز کے بعد کپتان سمتھ بھی 37 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے اور کھانے کے وقفے تک آسٹریلیا کو جیت کے لیے 66 رنز درکار تھے جبکہ ان کی صرف تین وکٹیں باقی تھیں اور میدان میں موجود شائقین کو یقین تھا کہ بہت جلد وہ میچ جیت جائیں گے۔

کھانے کے وقفے کے بعد کی پہلی گیند پر شکیب نے میکس ویل کو آؤٹ کر کے اپنی دسویں وکٹ حاصل کرلی لیکن اس کے بعد آنے والے آسٹریلوی بلے بازوں نے ہمت نہ ہاری اور سکور کو بڑھاتے گئے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی ٹیسٹ میچوں میں یہ دسویں جیت ہے

پیٹ کمنز نے نویں نمبر پر آ کر جارحانہ بیٹنگ کی اور وکٹیں گرنے کے باوجود آسٹریلیا جیت سے 20 رنز کی دوری پر تھا جب فاسٹ بولر تیج الاسلام نے جوش ہیزل وڈ کو آؤٹ کر کے بنگلہ دیش کو تاریخی فتح سے ہمکنار کروا دیا۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش نے زمبابوے کو پانچ مرتبہ، ویسٹ انڈیز کو دو مرتبہ جبکہ سری لنکا اور انگلینڈ کو ایک ایک بار شکست دی ہے۔

دو میچوں کی سیریز کا اگلا میچ چار ستمبر سے چٹاگانگ میں کھیلا جائے گا۔