وہیل چیئر ٹینس کے غیرمعروف ہیروز، تصاویر میں

- مصنف, بیتھ روز اور فل کوومز
- عہدہ, بی بی سی آؤچ
دنیا کے 13 بہترین ٹینس کھلاڑی سال کے تیسرے گرینڈ سلیم ومبلڈن میں شرکت سے پہلے ایک نئے ٹینس کے مقابلے میں شرکت کر رہے ہیں۔
لیکن یہ کوئی معمولی کھلاڑی نہیں ہیں بلکہ وہیل چیئر استعمال کرنے والے ٹینس پلیئرز ہیں جو پہلے سوربیٹون وہیل چیئر ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔
ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جب ان کھلاڑیوں کو ومبلڈن کے آغاز سے قبل گراس کورٹ پر اپنے گیم کو بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔
وہیل چیئر ٹینس معمول کے ٹینس کورٹ پر کھیلی جاتی ہے انہی گیند اور ریکٹس سے کھیلی جاتی ہے جسے عام کھلاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن فرق یہ ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی مخصوص وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں اور گیند کو کورٹ پر دو دفعہ ٹپہ کھاسکتی ہے۔

دو سپیشل اولمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والی لوسی شکر نے وہیل چیئر ٹینس اس وقت کھلینی شروع کی جب ایک حادثے میں ان کی کمر سے نیچے کا بدن مفلوج ہو گیا۔
انگلینڈ کی جانب سے وہ اب تک تین سپیشل اولمپکس میں شرکت کر چکی ہیں اور لندن 2012 اور ریو 2016 کے گیمز میں انھوں نے ڈبلز مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
لوسی شکر کہتی ہیں کہ جب انھوں نے کھیلنا شروع کیا تو لوگوں نے کہا کہ 'تمہاری معذوری بہت ہے اور تم نہیں کھیل سکتی۔'.

'یہ حقیقت ہے کہ وہیل چیئر ٹینس کھیلنے والے کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ مفلوج میں ہوں اور جس کی وجہ سے ٹینس کھیلنے میں مجھے بہت دشواری ہوتی ہے لیکن میں نے بہت تگ و دو کے بعد ایک ایسی خاص وہیل چیئر بنوائی ہے جس کی مدد سے میں ان مقابلوں میں شرکت کر سکتی ہوں، لیکن یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

لوسی شکر کہتی ہیں کہ 'اس دشواری کا سامنا کرنے سے میں بہت مضبوط ہو گئی ہوں اور میرا جسم معذوری کا بہتر طریقے سے سامنے کرسکتا ہے۔'
کھلاڑی سال بھر عالمی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں اور خاص طور پر اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ وہ چار گرینڈ سلام مقابلے، آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن میں ضرور شرکت کریں۔ .

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایلفی ہیوٹ نے اس سال فرنچ اوپن میں مردوں کے سنگلز مقابلے میں فتح حاصل کی اور اب ومبلڈن میں وہ اپنے پچھلے سال ہونے والے ڈبلز مقابلوں میں جیت کا دفاع کریں گے۔
ہیوٹ نے ٹینس 2005 میں کھیلنا شروع کی اور اپنا پہلا اولمپک پچھلے سال ریو میں کھیلا جہاں وہ دو چاندی تمغے لینے میں کامیاب ہوئے۔

ہیوٹ کہتے ہیں کہ گھانس پر ٹینس کھیلنے کا مختلف طریقہ ہوتا ہے۔
'ہمیں عام طور پر وملبڈن میں کھیلنے سے قبل گھانس پر کھیلنے کا موقع نہیں ملتا اس لیے سوربیٹون کا ٹورنامنٹ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔'
آسٹریلین اوپن کے فاتح اور عالمی نمبر دو گسٹاوو فرنانڈز نے ہیوٹ کو سوربیٹون میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے پہلے مقابلے میں شکست دے دی۔


ٹورنامنٹ کا انعقاد کرانے والی ٹینس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی تیاریوں میں بہتری آئے گی جس کی مدد سے وہ ومبلڈن کے مقابلوں میں بہتر کھیل سکیں گے۔
ومبلڈن میں وہیل چیئر ٹینس کے مقابلے 13 جولائی سے شروع ہوں گے۔

تمام تصاویر بشکریہ فل کوومز۔







