چین میں اینٹی سینسر ویب سائٹ پر حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA
چین میں حکومت کی جانب سے سینسر کی جانی والی ویب سائٹوں کو مدد فراہم کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر ’ڈینائل آف سروس اٹیک‘ یعنی ڈی ڈی او ایس کا سائبر حملہ ہوا ہے جس کے بعد ویب سائٹ کریش ہوگئی ہے۔
’گریٹ فائر‘ نامی اس ادارے کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد ان کی ویب سائٹ کو آف لائن کرنا ہے جو ایک طرح کی سینسر شپ ہے۔
ڈی ڈی او ایس اٹیک کمپیوٹر کی زبان میں ویب سائٹوں کو آف لائن کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس کے تحت ایک وقت میں ٹارگٹ ویب سائٹوں پر کروڑوں کی تعداد میں ریکویسٹس بھیجی جاتی ہیں جس سے ویب سائٹ کریش ہو جاتی ہے۔
تنظيم کا کہنا ہے انھیں نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، لیکن یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین کی حکومت کی جانب سے ان پر سینسر شپ کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔
ایک سائبر ماہر نے کا کہنا ہے کہ ’یہ جارحانہ طاقتوں کی جانب سے عائد کی گئی پابندی‘ ہے اور اس سے گریٹ فائر کا بزنس ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔
گریٹ فائر ان ویب سائٹوں کا جائزہ لیتی ہے جو حکومت کی جانب سے پابندی کی زد میں ہیں اور پھر انھیں دیگر طریقوں سے بحال کرتی ہے تاکہ صارفین ان سے محروم نہ رہیں۔
اسی طرح کی ایک مہم گذشتہ ہفتے ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نامی تنظیم نے بھی شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت وہ ہوسٹنگ سرورز کے ذریعےصارفین کو آن لائن مواد مہیا کراتی ہے۔
یہ نیٹ ورکس ممنوعہ ویب سائٹوں کی نقلیں تیار کرتے ہیں تاکہ چینی صارفین ان تک رسائی حاصل کر پائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی سسٹم کے تحت گریٹ فائر کو بھی تحفظ حاصل تھا۔ گریٹ فائر کی ویب سائٹ بلاک کرنے کے لیے سائبر حملہ آوروں کو پورا ہوسٹنگ سروسز بلاک کرنے پڑتا، ایسا کرنے سے وہ ویب سائٹس بھی بلاک ہو جاتیں جس کو چین چلانا چاہتا ہے۔
اس بارے میں سرے یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن وڈورڈ نے بتایا کہ ویب سائٹیں بلاک کرنے والے سائبر ماہرین نے ہر ایک ویب سائٹ کا یو آر ایل تلاش کر لیا، ان کو نشانہ بنایا اور اتنے ہٹس بھیجے کہ وہ ویب سائٹیں کریش ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا: ’یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ گریٹ فائر نے حکومت کی جانب سے سینسر کی گئی ویب سائٹوں تک رسائی دے کر اس کو ناراض کیا ہے اور اب حکومت اس سے بدلہ لے رہی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اب ان ویب سائٹوں کو جاری رکھنے کے لیے گریٹ فائر کو مزید بینڈ وڈتھ خریدنی ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ گریٹ فائر پر اس طرح کا سائبر حملہ کر کے وہ اس پر مالی دباؤ بڑھانا چاہتی ہو۔
’گریٹ فائر کی ویب سائٹ کی جانب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ویب سائٹ پر حملہ 17 مارچ کو شروع ہوا: ’ہمیں ہر گھنٹے تقریبا ڈھائی ارب ریکویسٹس موصول ہو رہی ہیں جو کہ معمول سے ڈھائی ہزار گنا زیادہ ہیں۔‘
بیان میں کہا گيا ہے: ’ہم پر حملہ ہو رہا ہے اور ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’ہمارے ویب پیجز کو آف لائن کرنے کے لیے ایک وقت میں لاکھوں ریکویسٹس بھییجنے کی حکمت عملی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہمیں ہر گھنٹے ڈھائی ارب ریکوسٹس آرہی تھیں اور ہماری ویب سائٹس اتنی بڑی تعداد میں ریکوسٹس کو سنبھالنے صلاحیت نہیں رکھتی تھی اسی لیے ویب سائٹ کریش ہو گئی۔‘
گریٹ فائر کا کہنا ہے: ’ہمیں نہیں معلوم کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہماری تنظیم پر گذشتہ کچھ مہینوں سے بے حد دباؤ تھا۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ چین کی سائبر انتظامیہ نے سرعام ہمیں ’بیرونی ملک کے زیر انتظام چین مخالف ویب سائٹ‘ کہا ہے۔
بی بی سی ان الزامات کی تصدیق نہیں کر پائی ہے۔ لندن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے اس بارے میں اپنا ردعمل نہیں دیا۔







