گھر بیٹھے تاج محل کی سیر کا منصوبہ

دریائے جمنا کے کنارے واقع تاج محل کمپلیکس کے تمام حصے سیاحوں کے لیے نہیں کھولے گئے
،تصویر کا کیپشندریائے جمنا کے کنارے واقع تاج محل کمپلیکس کے تمام حصے سیاحوں کے لیے نہیں کھولے گئے

بھارت کے شہر آگرہ میں واقع مغل بادشاہ شاہ جہاں کی اپنی ملکہ ممتاز محل سے پیار کی نشانی تاج محل ویلنٹائن ڈے پر کسی بھی جوڑے کی پسندیدہ منزلوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

لیکن ہر کسی کے لیے اس یادگار کی سیر کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ اب گوگل نے بھارتی وزارتِ ثقافت کے ساتھ مل کر اس خوبصورت عمارت کو آپ کی کمپیوٹر سکرین تک لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس منصوبے کے لیے تاج محل سمیت بھارت کے 99 تاریخی مقامات کو گوگل سٹریٹ ویو میں شامل کیا جائے گا۔

17ویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والا یہ مقبرہ دنیا میں مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے اور گوگل کمر پر لادنے والے ٹریکر کیمروں کی مدد سے اب اس کا ڈیجیٹل نقشہ بنا رہا ہے۔

یہ کیمرے ان مقامات پر استعمال کیے جاتے ہیں جہاں گوگل سٹریٹ ویو کی گاڑیاں نہیں جا سکتیں۔ اب تک ان کیمروں سے امریکہ کی گرینڈ کینیئن اور دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کے ڈیجیٹل نقشے تیار کیے گئے ہیں۔

گوگل کا ٹریکر کیمرا اپنے 15 عدسوں کی مدد سے مسلسل تصویریں کھینچتا ہے

،تصویر کا ذریعہGOOGLE

،تصویر کا کیپشنگوگل کا ٹریکر کیمرا اپنے 15 عدسوں کی مدد سے مسلسل تصویریں کھینچتا ہے

گوگل انڈیا کے جیو پراڈکٹ مینیجر سورن روہیلا نے بی بی سی کی شلپا کنن کو بتایا کہ ’ہم ان یادگاروں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں جو کہ ہمیشہ باقی رہے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف موجود نسل کے لیے نہیں بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے لیے بھی ہے۔ یہ اس ملک کی ثقافت محفوظ کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔‘

گوگل کا ٹریکر کیمرا مختلف زاویوں پر نصب اپنے 15 عدسوں کی مدد سے مسلسل تصویریں کھینچتا ہے اور پھر ان تصاویر کو جوڑ کر سافٹ ویئر کی مدد سے دیکھنے والوں کو 360 ڈگری کی تصویر فراہم کی جاتی ہے جس سے انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اس جگہ پر موجود ہیں۔

دریائے جمنا کے کنارے واقع تاج محل کمپلیکس کے تمام حصے سیاحوں کے لیے نہیں کھولے گئے ہیں تاہم تاج محل کا ورچوئل ٹور سیاحوں کو گھر بیٹھے اس مقبرے کے ان مقامات کی بھی سیر کروائے گا جہاں حقیقی زندگی میں عام سیاحوں کو بھی رسائی نہیں۔

ہر سال دنیا بھر سے 80 لاکھ افراد تاج محل دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو امید ہے کہ ورچوئل ٹور متعارف ہونے کے بعد اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔

ادارے کے اہلکار منظر علی نے کہا کہ ’یہ عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ کیمرے کو بند کمروں، کمپلیکس کے ہر حصے یہاں تک کہ تہہ خانے میں موجود مقبرے تک رسائی دی جائے گی اور لوگ بالآخر تاج محل کو ایسے دیکھ سکیں گے جیسے انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘