امریکی آتش فشاں سابقہ اندازوں سے کہیں بڑا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے نیچے آتش فشاں کا لاوا تیار ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے نیچے آتش فشاں کا لاوا تیار ہو رہا ہے

سائنسدانوں کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے یلو سٹون نیشنل پارک کے نیچے واقع آتش فشاں پہلے سے قائم کیے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

ایک تازہ تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس آتش فشاں کے لاوے کا پھیلاؤ گذشتہ اندازے سے ڈھائی گنا بڑا تھا۔

محققین کی ایک ٹیم کے مطابق اس کا آغار 90 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں 2700 کیوبک کلومیٹر پگھلی چٹانیں موجود ہے۔

اس تازہ تحقیق کو سان فرانسسکو میں امریکی جیوفیزیکل یونین کے موسم سرما کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔

یوٹاہ یونیورسٹی کے پروفیسر بوب سمتھ نے کہا: ’ہم وہاں خاصے عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ اور ہم لوگوں کا شروع سے یہ خیال تھا کہ یہ آتش فشاں بہت بڑا رہا ہوگا لیکن حالیہ نتیجے نے تو ہمیں ششدر کر دیا ہے۔‘

’اگر آج یلوسٹون آتش فشاں پھٹتا ہے تو اس کا نتائج قیامت خیز ہوں گے۔ لیکن آخری بار یہ آتش فشاں چھ لاکھ چالیس ہزار سال قبل پھٹا تھا اور اس کی راکھ پورے شمالی امریکہ میں پھیل گئی تھی اور اس سے براعظم کے موسم متاثر ہوئے تھے۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب انھیں اس بات کا زیادہ اندازہ ہے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے۔ ٹیم نے مختلف قسم کے زلزلہ پیما آلات کا استعمال کیا تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ کسی زمانے میں وہاں موجود آتش فشاں کے ابلتے سیال کا احاطہ کتنا بڑا رہا ہوگا۔

یوٹاہ یونیورسٹی کے پروفیسر جیمی فاریل نے کہا: ’ہم نے یلوسٹون کے ارد گرد زلزے اور اس سے پیدا ہونے والی لہر کی پیمائش کی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ یہ لہر گرم اور قدرے پگھلے مادے سے کم تیزی کے ساتھ سفر کر رہی تھی اس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نیچے کیا ہے۔‘

سائنسدانوں کی ٹیم نے دریافت کیا کہ آتش فشاں کے سیال مادے کا محیط خاصا بڑا تھا جو کہ دو سے پندرہ کلومیٹر زیر زمین رہا ہوگا اور اس کا غار 90 کلومیٹر لمبی اور 30 کلومیٹر چوڑا رہا ہو گا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کا وقت قریب ہے کیونکہ یلو سٹون کی طرح کا آتش فشاں ہر سات لاکھ سال پر پھٹتا ہے
،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کا وقت قریب ہے کیونکہ یلو سٹون کی طرح کا آتش فشاں ہر سات لاکھ سال پر پھٹتا ہے

سابقہ تحقیقات کے برعکس حالیہ تحقیق میں یہ معلوم کیا گیا ہے کہ اس آتش فشاں کا علاقہ شمال کی جانب مزید پھیلا ہوا تھا اور اس میں پگھلی ہوئی اور ٹھوس دونوں قسم کی چٹانیں تھیں۔

ڈاکٹر فاریل نے کہا ’ابھی تک ہمارے علم کے مطابق اتنی بڑی کسی بھی چیز کی پیمائش نہیں کی گئی ہے۔‘

محققین اس کے ذریعے یہ پتہ چلانے کی کوشش میں ہیں کہ اس قسم کے متحرک آتش فشانوں سے کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

محققین کو یہ معلوم نہیں کہ دوبارہ یہ آتش فشاں کب پھٹے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کا وقت قریب ہے کیونکہ یلو سٹون کی طرح کا آتش فشاں ہر سات لاکھ سال کے وقفے سے پھٹتا ہے۔

پروفیسر سمتھ کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس قسم کا واقعہ صرف تین بار ہوا ہے: سب سے پہلے 21 لا کھ سال قبل پہلا آتش فشاں پھٹا تھا پھر 13 لاکھ سال قبل یہ دوبارہ پھٹا تھا اور آخری بار یہ واقعہ چھ لاکھ چالیس ہزار سال قبل ہوا تھا۔