
مصنوعی بھرائی کے پیڈ بنانے والی فرانسیسی کمپنی پی آئی پی (پیپ) کے مالک ژاں کلاؤڈ ماس
پستانوں کو ابھارنے کے لیے مصنوعی بھرائی کے پیڈ بنانے والی فرانسیسی کمپنی پی آئی پی (پیپ) کے مالک ژاں کلاؤڈ ماس کو عبوری طور پر رہا کر دیا گیا۔
تہتر سالہ ماس کو آٹھ ماہ قبل ان اطلاعات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا کہ ان کی کمپنی کے ابھار پیدا کرنے والی پیڈ ایسے ناقص مواد سے بنائے جاتے ہیں جو کچھ عرصے بعد پھٹ بھی سکتے ہیں۔
ماس کے خلاف زیرِ التوا مقدمہ آئندہ سال اپریل میں پھر سے شروع ہو گا اور اس دوران ان کی نقل و حرکت پر پابندی عاید رہے گی۔
پیپ کو 2010 میں اس انکشاف کے بعد بند کر دیا گیا تھا کہ وہ پستانوں کی بھرائی کے پیڈ بنانے کے لیے جس سیلیکون جل کا استعمال کرتی ہے وہ صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
گزشتہ جنوری میں جب یہ خبریں سامنے آئی تھیں تو فرانسیسی حکومت نے مصنوعی ابھار کے آپریشن کرانے اور پیپ کے ابھار لگوانے والی تیس ہزار عورتوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پیپ کے ابھار نکلوانے کے لیے اپنے اپنے سرجنوں سے رجوع کریں۔
بعد میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ صرف برطانیہ میں پیپ کے ابھار لگوانے والی عورتوں کی تعداد چالیس ہزار ہے جب کہ دنیا بھر میں اس کمپنی کے ابھار لگ بھگ پانچ لاکھ عورتوں نے لگوائے ہیں۔
اس کے بعد اس سلسلے میں ہونے والی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ناقص سلیکون سے بنائے گئے ابھار لگوانے سے صحت کے لیے سنگین یا طویل المعیاد خطرے پیدا نہیں ہوتے لیکن پیپ کے تیار کردہ ابھاروں کے پھٹنے کے امکانات دوسری ابھاروں کے مقابلے میں دگنے ہوتے ہیں۔
پیپ ان ابھاروں کو بنانے کے لیے جو سلیکون استعمال کرتی تھی وہ صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ٹیوب بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماس نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ یہ جل صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔
ماس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کی کمپنی مصنوعی ابھار بنانے کے لیے جو جل استعمال کرتی تھی وہ غیر قانونی طور پر حاصل کیا جاتا تھا لیکن انھوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ یہ جل صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔
پیر کے روز جج نے ماس کو ’عدالتی نگرانی‘ میں رکھے جانے کی شرط کے ساتھ رہا کر دیا۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ماس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے اور ان پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ کمپنی میں اپنے دستِ راست کلاؤڈ کاؤٹے سے بھی نہیں ملیں گے۔
اپریل میں صرف مسٹر ماس پر ہی مقدمہ نہیں چلے گا بلکہ ان کی کمپنی میں کام کرنے والے عہدیداروں پر بھی چلے گا۔ اس مقدمہ میں چار ہزار چھ سو مدعی ہیں اور ایک سو اسی وکلا کارروائی میں حصہ لیں گے۔






























