
بہت سے بچے یہ نہیں جانتے کہ دھوپ میں جلد جلنے (سن برن) کی وجہ سے کینسر ہو سکتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق بچوں کی کینسر کے بارے میں معلومات بے حد ناقص ہیں۔ ایک خیراتی ادارے میکمیلن کینسر سپورٹ کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ بعض بچے سمجھتے ہیں کہ غلط طرزِ عمل کی وجہ سے بھی کینسر ہو سکتا ہے۔
اس سروے میں نو سے سولہ سال کے پانچ سو بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں سے ستانوے فیصد یہ نہیں جانتے تھے کہ دھوپ میں جلد جلنے (سن برن) کی وجہ سے کینسر ہو سکتا ہے۔ البتہ اکیانوے فیصد کو معلوم تھا کہ تمباکو نوشی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کینسر کے بارے میں بچوں کی معلومات ناقص ہیں، اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کینسر کی تعلیم دیں۔
جن بچوں نے سروے میں حصہ لیا انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کینسر میں مبتلا ہونے کا مطلب کیا ہے۔
پانچ میں سے ایک کا خیال تھا کہ کینسر ہمیشہ مہلک ہوتا ہے، جبکہ نصف سے زیادہ کو معلوم نہیں تھا کہ کینسر ہے کیا چیز۔ چار فیصد کے مطابق کینسر ایک فرد سے دوسرے کو لگ سکتا ہے۔
اس کے باوجود سروے میں شریک ہونے والے دو تہائی بچے کینسر کے کسی نہ کسی مریض کو جانتے تھے۔ البتہ نصف سے زیادہ کہتے ہیں کہ لفظ ’کینسر‘ خوف زدہ کرنے والا ہے۔
میکمیلن کینسر سپورٹ کی کیتھرین ڈونیلی کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ، بشمول اساتذہ، سمجھتے ہیں کہ بچوں کے سامنے کینسر کے بارے میں گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے۔
"بہت سے لوگ، بشمول اساتذہ، سمجھتے ہیں کہ بچوں کے سامنے کینسر کے بارے میں گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے۔"
’یہ کئی لحاظ سے ایک ممنوع موضوع ہے۔ تمام اساتذہ اس کے بارے میں اعتماد سے گفتگو نہیں کر سکتے، اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کینسر کے بارے میں مزید معلومات کہاں سے حاصل کی جائیں۔
’ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عمر کے اضافے کے ساتھ ساتھ کینسر کے بارے میں بچوں کے علم میں معمولی سا اضافہ ہوتا جاتا ہے‘۔
ڈونیلی مزید کہتی ہیں: ’جیسے جیسے کینسر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے، بچوں کے کینسر کے کسی نہ کسی مریض کو جاننے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، جیسے ان کے دادا دادی، والدین یا کوئی دوست۔ یہ ان کے لیے باعثِ تشویش ہوتا ہے اور وہ ممکنہ طور پر اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ کسی سے اس بارے میں پوچھ ہی نہ سکیں۔
’ایک چوتھائی سے کچھ ہی زیادہ بچوں کو سکول میں کینسر کے بارے میں بتایا جاتا ہے، اور اس چیز کو تبدیل ہونا چاہیے۔‘
خیراتی ادارے نے ’کینسر کے بارے میں بات کرنا‘ کے عنوان سے معلوماتی مواد تخلیق کیا ہے جس سے اساتذہ کو کینسر کے بارے میں پڑھانے میں مدد ملے گی۔






























