’شہد کی مکھیوں کا خاتمہ ہو رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہDavid MacCarthy
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خون چوسنے والے ایک مائٹ (کیڑے) کی مدد سے ایک وائرس نے اس دنیا سے اربوں شہد کی مکھیوں کو ختم کردیا ہے۔
ہوائی میں سائنسدانوں کی جانب سے کیے گئے تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ ویورا نامی کیڑے نے وائرس پھیلایا جس سے شہد کی مکھیوں کے پر تباہ ہوگئے۔ یہ وائرس بعد میں شہد کی مکھیوں کے خون میں پھیلا اور اس کا اثر سیدھے ان کے دماغ پر ہوا جس سے مکھیاں مرنے لگیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے ’یہ دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کو تباہ کرنے والے سب سے خطرناک وائرس میں سے ایک ہے۔‘ یہ تحقیق ایک جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔
شفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر سٹیفن مارٹن کی قیادت میں ہوئی اس تحقیق میں محقیقین نے حوائی میں شہد کی مکھیوں کی اموات کی تفتیش کی جس سے معلوم ہوا کہ ویورا نامی وائرس کیلیفورنیا سے پانچ برس پہلے یہاں پہنچا۔
دلچسپ بات ہے کہ حوائی میں ابھی بھی بہت سے جزائر ایسے ہیں جہاں شہد کی مکھیاں ان سے بچی ہوئی ہیں۔
اس تحقیق سے سائنسدانوں کو موقع ملا کہ وہ وائرس سے متاثرہ مکھیوں کا موازنہ عام مکھیوں سے کرسکیں جو وائرس سے بچی ہوئی ہیں۔ سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کرسکے کہ وائرس نے مکھیوں کو کس طرح متاثر کیا۔
ڈاکٹر مارٹن نے بی بی سی کو بتایا ’وائرس سے متاثر ایک مکھی میں اتنے وائرس ہوسکتے ہیں جتنے لوگ ہیں اس زمین پر۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ انہیں شہد کی مکھیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے شواہد نہیں ملے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے دنیا بھر میں اور خاص طور پر امریکہ میں شہد کی مکھیاں اربوں کی تعداد میں ہلاک ہو رہی ہیں جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں کی جا سکی تاہم اس کے لیے کسی خفیہ بیماری کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا۔
امریکہ میں کاروباری مقاصد کے لیے شہد کی مکھیاں پالنے والے لوگ اس سے برح طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سےماہرین کا کہنا ہے کہ مکھیوں کی ہلاکت کی کوئی ایک وجہ نہیں ہو سکتی۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مقامی معیشت کے لیے شہد کی مکھیاں بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا میں اسی فیصد بادام وہاں پیدا ہوتے جو امریکہ میں زرعی شعبے کی سب سے اہم برآمد ہے۔ شہد کی مکھیاں نہ رہی تو بادام بھی نہیں ہوں گے۔
فروری اور مارچ کے مہینوں میں فلوریڈا تک کی دور دراز ریاستوں سے اربوں شہد کی مکھیاں کیلیفورنیا میں باداموں کے باغات میں پہنچائی جاتی ہیں تاکہ فصل کو کامیاب بنایا جا سکے۔
بہت سے ماہرین کے نزدیک شہد کی مکھیوں کے خاتمے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک ایسی بیماری بھی شامل ہے جس میں ان کا خون چوسا جاتا ہے اور ان کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شہروں میں اضافے سے مکھیوں کی نشونما کے لیے ضروری قدرتی علاقے کم ہو رہے ہیں۔ کیمیائی کھاد کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔







