آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آرٹیمس چاند گاڑی لانچ کرنے کی ناسا کی دوسری کوشش بھی مؤخر
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نامہ نگار برائے سائنس
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند گاڑی لانچ کرنے کی کوشش ایک بار پھر مؤخر کر دی ہے۔ یہ اس ہفتے میں دوسری بار ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ناسا اپنے طاقتور ترین مون راکٹ کو چاند پر بھیجنے کی کوشش کر چکا ہے، مگر یہ کوشش لانچ سے قبل ہی مؤخر کر دی گئی تھی۔
اس راکٹ سے کنٹرولرز ہائیڈروجن لیکج کو روکنے میں ناکام رہے۔ اب ناسا پیر یا منگل کو اس راکٹ کو دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس لانچ میں مزید تاخیر کا بھی امکان ہے۔
اس سے قبل پیر کو ناسا نے انسان کو چاند پر بھجوانے کی تیاری کی لیکن آخری مراحل میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے مؤخر کرنا پڑا تھا۔
لیکن اس صورتحال کے باوجود فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر میں امید قائم رکھی، جسے سنیچر کو بھی مؤخر کرنا پڑا۔
اس کوشش کو مؤخر کرنے سے قبل سے قبل ناسا آرٹیمس مشن کے مینیجر نے رپورٹرز سے گفتگو میں کہا کہ `ہم نے آپ کو دکھانا ہے، ہم نے تیار ہونا ہے، ہم نے دیکھنا ہو گا کہ آگے کے دن کیا لائیں گے۔‘
سپیس لانچ سسٹم ایس ایل ایس راکٹ نیا شیڈول سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق دو بج کر سترہ منٹ دیا گیا تھا جو کہ گرینج کے وقت کے مطابق شام سات بجکر سترہ منٹ بنتا تھا۔
ناسا کے پلان کے مطابق سو میٹر لمبی یہ گاڑی چاند کی جانب روانہ ہو گی۔ سنہ 1972 کے اپالو مشن کے بعد سے ایسا کوئی پراجیکٹ نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرٹیمس ون دراصل ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہے اس موقع پر کوئی عملہ اس میں موجود نہیں ہوگا لیکن ہر چیز پلان کے مطابق ہو گی اور پھر سنہ 2024 میں متوقع طور پر جانے والے آرٹمس ٹو میں یقینی طور پر انسان بھی سفر کریں گے۔
ناسا کی خلا باز جیسیکا مائر نے کہا ہے کہ ہر کسی کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس کی پہلی پرواز ہے اور کسی کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے اگر اس اڑان میں پھر سے تعطل آتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہاں بالکل یہ مایوس کن ہے لیکن یہ غیر معمولی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اس کا حصہ ہے کہ ناسا میں کیسے چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ بالآخر ایس ایل ایس میں انسان بھی سفر کریں گے، میرے دوست میرے ساتھی۔ اس لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ٹیسٹ فلائٹ اچھی جائے۔
پیر کو ایس ایل ایس کی فلائیٹ نہیں جا سکی تھی کیونکہ اس کے کنٹرولز کو اس بارے میں یقین نہیں ہو سکا تھا کہ پرواز کے لیے راکٹ کے چار بڑے انجن درست طور پر تیار ہیں۔
شٹل ایرا پاور یونٹس کو کاؤنٹ ڈاؤن کے دوران منفی 240 ڈگری سینی گریڈ تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ اسے لانچ کے وقت کرائیوجینک پروپیلنٹ ( وہ عمل جس میں مائع حالت میں انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھی گیسوں کا اخراج ہو گا ہے) سے انھیں شاک نہ لگے۔
مگر ایک سینسر اشارہ کر رہا تھا کہ انجن نمبر 3 اس درجہ حرارت سے 15-30 ڈگری کم ہو سکتا ہے جہاں اس کا درجہ حرارت ہونا ضروری ہے۔
اگرچہ سینسر میں خرابی تھی بِل منڈل جو ایروجیٹ راکٹ ڈائن سے وابستہ ہیں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سنیچر کو پرواز بھرے گا تو اسے ممکنہ نظر انداز کر دیا جائے گا۔
تمام ڈیٹا اور دیگر اشاریوں کا جائزہ لے کر انھوں نے کہا کہ انجن نمبر تین دیگر سے نسبتاً کچھ زیادہ ٹھنڈا ہو سکتا تھا۔
سابق خلا باز جو اب نارتھ روپ گرومین کے لیے کام کرتے ہیں اور ایس ایل ایس کے اطراف کے لیے سفید بڑے بڑے بوسٹرز بناتے ہیں۔
مزید پڑھیے
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ `وزن کے لحاظ سے دیکھیں تو ایس ایل ایس شٹل کے جتنی ہوتی ہے۔ اپالو کا سیٹرن فائیو راکٹ بالکل ہی مختلف تھا۔ میں نے اسے ذاتی طور پر کبھی نہیں دیکھا۔ شٹل کے لیے یہ ایسے لگتا تھا جیسے ایسے تھا جیسے بوسٹر روشن ہوتے ہیں۔ ایس ایل ایس کو ایک جیسا ہونا چاہیے۔
ایس ایل ایس کے اوپر جاتے ہوئے طاقت کا پہلا مرحلہ صرف آٹھ منٹ تک جاری رہے گا۔
یہ راکٹ کے اوپری حصے کو جو ابھی بھی اورین کیپسول کے ساتھ جڑا ہو گا ایک انتہائی بیضوی مدار میں ڈال دے گا جو ان دونوں کو بغیر کسی کوشش کے زمین پر واپس آتے ہوئے دیکھے گا۔
اس لیے اپر سٹیج کو چاند کی سمت میں اورین کو بڑھانے سے پہلے مدار کو بڑھانا اور گردش کرنا ہوگا۔
یہ تصدیق کہ کیپسول اپنے ٹریک پر 30 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جائے گا کو لانچ کے بعد دو گھنٹے اور پانچ منٹ پہنچنا ہو گا۔
منصوبے کے مطابق مشن کی طوالت فقط 38 دن ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین پر آنے والا اورین سان تیاگو کے سمندر پر 11 اکتوبر کو لوٹے گا۔
کیپسول کو بنانے والے لاکہیڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ 38 دن 21 دن سے بہت زیادہ ہیں جو کہ خلا بازوں کو خلائی گاڑی میں گزارنے چاہیں۔
ناسا میں اورین پروگرام کی سینیئر معاون اینیت ہاسبروک کہتی ہیں کہ اس مشن میں انجینیئرز خلائی جہاز کی توسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کی حدود کا پتہ چل سکے۔