میکس بورن: کوانٹم فزکس کے ماہر جنھوں نے دنیا کو 'تمام برائیوں کی جڑ' کے بارے میں خبردار کیا

’میری زندگی کا ایک بڑا دُکھ یہ ہے کہ میں اپنے دادا کو نہیں جانتی تھی۔ جب میں نوعمر تھی، میری ماں مجھے کہتی تھیں، تمھیں اپنے دادا سے ملنے جانا ہے کیونکہ وہ عمر رسیدہ ہو رہے ہیں اور میں کہتی تھی کہ میں مصروف ہوں اور مجھے اس کا افسوس ہے۔‘

یہ الفاظ تھے آسٹریلین سٹار اولیویا نیوٹن جون کے جو انھوں نے نیوز چینل ’i24News‘ کو انٹرویو کے دوران ادا کیے۔ خیال رہے کہ اولیویا ایک اداکارہ ہیں جنھوں نے فلم ’گریز‘ میں بھی اداکاری کی۔ وہ کچھ عرصہ قبل 73 برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔

اولیویا کے دادا جنھیں وہ کبھی نہیں مل سکیں وہ ماہر طبیعیات اور ریاضی دان میکس بورن تھے، جو 20 ویں صدی کے سب سے اہم سائنسدانوں میں سے ایک تھے۔

اگر آپ نہیں جانتے کہ میکس بورن نے کیا کیا تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بہت سی کامیابیوں کے باوجود ان کا زیادہ تر کام انتہائی پیچیدہ تھا۔

تاہم اگر میکس کا نام کسی بھی وجہ سے جانا پہچانا سا لگتا ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا نام فزکس میں بہت ملتا ہے اور اس لیے بھی کہ وہ البرٹ آئنسٹائن کے بہت گہرے دوست تھے۔

اس دوستی کے نتیجے میں ہی ہمارے پاس وراثت کے طور پر چار دہائیوں اور دو عالمی جنگوں پر محیط خطوط کا ایک دلچسپ مجموعہ رہ گیا ہے۔

گلوکارہ اور اداکارہ اولیویا نے کہا کہ ’میری والدہ (آئرین) نے ان کا ترجمہ (جرمن سے انگریزی میں) کیا۔‘

وسیع پیمانے پر کی جانے والی خط و کتابت میں ان دونوں نے کوانٹم تھیوری اور ہنگامہ خیز دنیا میں سائنسدانوں کے کردار سے لے کر اپنے خاندانوں اور ملاقاتوں اور ایک ساتھ موسیقی بجانے سمیت ہر چیز پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک خط جو چار دسمبر 1926 کو لکھا گیا تھا اس میں آئنسٹائن نے سائنس کی تاریخ کا ایک مشہور جملہ لکھا:

'کوانٹم میکینکس یقیناً متاثر کُن ہے لیکن ایک اندر کی آواز مجھے یہ بتاتی ہے کہ یہ ابھی بھی رازِ کائنات نہیں۔ نظریہ بہت کچھ کہتا ہے مگر یہ قدرت کی جامع وضاحت نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کائنات کا نظام اتفاقی طور پر نہیں چل رہا۔'

واضح رہے کہ آئنسٹائن نے سنہ 1954 میں جرمن فلسفی ایرک گٹ کائنڈ کے نام اپنے ایک خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’لفظ خدا میرے لیے انسانی کمزوری کے اظہار اور پیداوار کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔ بائبل قابلِ قدر مگر دقیانوسی اساطیر کا مجموعہ ہے۔۔۔ کوئی تفسیر، چاہے وہ کتنی ہی باریک کیوں نہ ہو، اس بارے میں میرے خیالات بدل نہیں سکتی۔‘

آئنسٹائن نے امکانی نظریے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اس نظریے کے مطابق وہ مادّہ جو جوہری اور ذیلی ایٹمی ذرات کی چھوٹی کائنات کو بناتا ہے، کا ردعمل کیسا ہوتا ہے۔

انھوں نے سوچا کہ طبیعیات کی اس شاخ نے جس غیر یقینی صورتحال کو پیش کیا ہے، وہ دراصل ان تغیرات کو تلاش کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے ساتھ ایک مکمل نظریہ بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم، ان کے دوست میکس بورن امکانی نظریے کے حامیوں میں سے ایک تھے۔

اس سے قائل ہو کر، وہ اس لامحدود چھوٹی دنیا کو تلاش کرتے رہے جسے اس انقلابی اور نوزائیدہ سائنس نے سمجھنے کی کوشش کی۔ اس طرح اس نے جدید نیوکلیئر فزکس کے بہت سے نظریات کی بنیاد رکھی۔

اس کے باوجود ورنر ہائزنبرگ، پال ڈیرک، ایرون شروڈنگر، وولف گینگ پاؤلی اور نیلز بوہر جیسے روشن خیال ماہرین نے غیرمنصفانہ انداز میں آئنسٹائن پر تنقید کی۔

یہی وجہ بنی کہ انھیں نوبل پرائز سنہ 1954 تک نہیں دیا گیا۔ یعنی آئنسٹائن کو ایسے کام پر ایوارڈ دیا گیا جو انھوں نے 28 برس قبل ہی مکمل کر لیا تھا۔

ایسے بھی ناقدین ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگرچہ آئنسٹائن کے کام کا اعتراف ایک جائز بات تھی جس کے ذریعے انھوں نے جوہری قوت کو بیان کرنے کا نیا طریقہ متعارف کروایا، مگر یہ سب کافی نہیں تھا۔

تاہم کچھ ناقدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میکس نیلز بوہر کے ساتھ ساتھ میکس بورن کو بھی کوانٹم مکینکس کے بانی کا خطاب ملنا چاہیے۔

ایک پُل کی مانند

میکس بورن کی زندگی نے انھیں تین صدیوں کے درمیان ایک پُل بنا دیا ہے۔

وہ سنہ 1882 میں بریسلاؤ میں مقیم ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت پرشیا کی سلطنت کا حصہ تھا اور آج کل یورپی ملک پولینڈ میں روکلا کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یوں میکس بورن کی تربیت انیسویں صدی کی سائنس کی کلاسیکی روایات میں ہوئی۔

اگرچہ بہت سے دوسرے یہودی سائنسدانوں کی طرح انھیں بھی نازیوں سے بھاگنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹریٹ اور یہاں تک کہ شہریت سے محروم ہو گئے، انھوں نے اپنے نئے گھر برطانیہ میں 20ویں صدی کی سائنس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔

لیکن جس چیز نے ان کے ذہن کو گھیر لیا وہ 21ویں صدی کے جدید سائنس کے نتائج تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ کوئی بھی سائنس دان اپنے کام کے نتائج کے اعتبار سے اخلاقی طور پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا، چاہے وہ کتنا ہی غیرجانبداری کا دعویددار ہو۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے سائنسی کام کے علمی سے زیادہ فوجی استعمال سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ ’ہمارے زمانے میں سائنس کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی استعمال ہیں اور یہ کام بذاتِ خود تکنیکی اطلاق سے ہو سکتا ہے، یہ عمل اور فیصلوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو انسانی نسل کی تقدیر کا تعین کرتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب ایک ڈراؤنے خواب کی طرف گامزن ہے کیونکہ عقل۔۔۔ ممکن اور ناممکن میں فرق کرتی ہے، وجہ سمجھدار اور پاگل کے درمیان فرق کرتی ہے۔ حتیٰ کہ ممکن بھی بے معنی ہو سکتا ہے۔‘

وہ ایسے سائنسدان تھے نے یہ دعویٰ کیا کہ کوئی بھی کسی بھی لمحے ایٹم میں الیکٹران کی پوزیشن کے امکان کا تعین کر سکتا ہے انھوں نے نیوٹن کے قوانین کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایسے سوالات کے جواب کے لیے جوہری طبیعیات کا دروازہ کھولا۔

میکس بورن نے اپنی پوری زندگی جوانی میں اپنے والد کی طرف سے کی گئی وصیت کے اس حصے پر عمل کیا، جس میں انھوں نے اپنے بیٹے کو کسی بھی شعبے میں تخصیص (مہارت) حاصل کرنے سے منع کیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ انھوں نے موسیقی، فن، فلاسفی اور ادب سے اپنے ناطہ جوڑے رکھا۔ ان مضامین نے ان میں اخلاقی سوچ کے پہلو کو اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے ایک آخری مضمون میں، انھوں نے اس چیز کے بارے میں لکھا جسے وہ بنی نوع انسان کی بقا کی واحد امید سمجھتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہماری امید ' دو روحانی طاقتوں کے اتحاد پر مبنی ہے: ایک تو ایسی جنگ جس میں بڑی تعداد میں عام اور بے کس لوگ مارے جاتے ہیں اس کو تسلیم نہ کرنے کا اخلاقی پہلو اور دوسرا نسل انسانی کی بقا کے ساتھ تکنیکی جنگ کی عدم مطابقت کا عقلی علم۔

ان کے مطابق اگر انسان زندہ رہنا چاہتا ہے تو اسے جارحیت کو ترک کرنا ہو گا۔

یقینی طور پر غیر یقینی صورتحال

سنہ 1944 میں آئن سٹائن نے میکس بورن کو ایک اور خط میں لکھا: 'ہم اپنی سائنسی توقعات کے مخالف بن گئے ہیں۔ آپ ایک ایسی فطرت پر یقین رکھتے ہیں جو اس نظام کو چلا رہی ہے اور میں ایک ایسی دنیا میں مطلق امن و امان پر یقین رکھتا ہوں جو اپنی ایک حیثیت رکھتی ہے، اور جسے، قیاس آرائیوں سے، میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔

'یہاں تک کہ کوانٹم تھیوری کی عظیم ابتدائی کامیابی بھی مجھے ڈائس گیم (فطری قوت کے کارفرما ہونے) پر یقین نہیں دلاتی، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ہمارے نوجوان ساتھی اسے بڑھاپے کی علامت کے طور پر تعبیر کرتے ہیں۔‘

'یقیناً وہ دن آئے گا جب ہم دیکھیں گے کہ کس کی جبلت درست تھی۔‘

آئن سٹائن کی موت سے چند ماہ قبل میکس بورن نے لکھا: 'ہم ذاتی معاملات پر ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ کوانٹم میکانکس پر ہمارا اختلاف موازنے کے لحاظ سے بہت معمولی نوعیت کا ہے۔‘

آخر میں، ایسا لگتا ہے کہ آئنسٹائن غلط تھے.

وہ ڈائس گیم جس میں مستقل غیر یقینی صورتحال شامل ہے اب بھی لامحدود چھوٹی دنیا کو سمجھنے کے لیے ضروری معلوم ہوتی ہے۔

اور میکس بورن کے لیے، غیر یقینی صورتحال بھی اس دنیا میں زندگی کی کلیدی حیثیت کی حامل تھی جو انھوں نے دریافت کی تھی اور وہ اس سے کہیں بڑی تھی۔

انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ مکمل یقین، قطعی درستگی، حتمی سچائی وغیرہ جیسے تصورات تخیل کے افسانے ہیں، جنھیں سائنس کے کسی بھی شعبے میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

’دوسری طرف امکانی نظریے سے متعلق کوئی بھی بیان صحیح یا غلط ہو سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’فکر کی یہ نرمی مجھے سب سے بڑی نعمت معلوم ہوتی ہے جو جدید سائنس نے ہمیں دی ہے کیونکہ یہ عقیدہ کہ سچائی صرف ایک ہی بات میں ہے، اور یہ کہ کائنات انسان کے قبضے میں ہے، دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘