آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیٹیسٹروفائزنگ: وہم اور منفی سوچ کیسے آپ کو دائمی اذیت میں مبتلا کر سکتے ہیں
- مصنف, ڈیوڈ رابسن
- عہدہ, بی بی سی ورک لائف
تصور کریں کہ آپ نے اپنی پسند کی نوکری کے لیے درخواست دی ہے اور اب آپ انٹرویو کے دوسرے مرحلے کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ کیا آپ اب تک کی اپنی اس کامیابی پر خوش ہوتے ہیں اور نئے چیلنج کے لیے تیاری کر رہے ہیں؟
یا پھر آپ نے ابھی سے اپنے مسترد ہونے کا تصور کرنا شروع کر دیا ہے اور اس اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ آپ کی خود اعتمادی کا کیا ہو گا۔
یا پھر غالباً جب آپ کے دوست کی جانب سے آپ کو فوری طور پر میسیج کا جواب نہیں ملتا تو آپ یہ سوچے بغیر کہ ممکن ہے دوسرا بندہ کسی اور کام میں مصروف ہو یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ شاید آپ نے اس شخص کو ناراض کیا ہے۔
شاید کسی جیو پولیٹیکل معاملے نے بھی آپ کو پریشان کیا ہو۔ آپ ہر رات گھنٹوں جوہری جنگ کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں یا ایک اور خطرناک وبا کے پھیلنے یا پھر اقتصادی کسادبازاری پر سوچنے لگیں۔
آپ کی یہ سوچ آپ کے لیے اور آپ کے پیاروں کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
اگر اس سے ملتی جلتی علامات آپ کو خود میں محسوس ہوں تو آپ تباہ کن طور پر حساس ہیں، یہ دراصل ایسی ذہنی عادت ہوتی ہے جس میں آپ کسی برے واقعے کے ہو جانے کا حد سے زیادہ اندازہ لگا لیتے ہیں، آپ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے بہت زیادہ منفی نتائج کا خدشہ پال لیتے ہیں۔
ڈاکٹر پیٹرک کیلان ایک ماہر نفیسات ہیں اور کینڈا کے صوبے البرٹا میں سند یافتہ تھراپسٹ ہیں۔ وہ ’کیٹیسٹروفائزنگ‘ کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اچانک ہی منفی طور پر کسی چیز کے بارے میں سوچ لینےکی عادت ہے جس سے جذباتی طور پر انسان ایسی کیفیت تک پہنچ جاتا ہے کہ پھر سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کیٹیسٹروفائزنگ پر ریسرچ میں یہ سامنے آیا ہے کہ اس سے دماغی صحت کو بہت سنجیدہ نوعیت کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس سے تناؤ کا احساس بڑھ سکتا ہے اور اس سے آپ کسی دائمی درد میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ کیٹیسٹروفائزنگ کا شکار ہم اپنی زندگی میں کبھی بھی ہو سکتے ہیں لیکن کورونا کے نہ ختم ہونے والے خدشات اور ان کے ساتھ معاشی و سیاسی غیر یقینی اس کی شدت میں یقینی طور پر اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین کے خیال میں کیٹیسٹروفائزنگ سے دماغی بیماری کا ایک بہت بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
20 ویں صدی کے پہلے نصف میں سگمنڈ فرائیڈ اور دیگر نفسیاتی ماہرین کے پاس دماغی امراض کے علاج کے لیے ابتدائی نوعیت کے ذرائع تھے۔ اس کا مقصد تھا کہ چھپے یا دبے ہوئے خوف اور خواہشات کو سامنے لایا جائے۔
نفسیاتی طور پر ایسے مسائل بچپن میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے ہوتے ہیں یا پھر قدرتی طور پر جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
صدی کے نصف میں سائیکو تھراپسٹ جیسے کے البرٹ ایلس اور ایرون بیک نے متبادل طریقے سوچنے شروع کیے جس میں لوگوں کو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں معاونت دی جا سکے۔ اس میں ان کی غلط یا بری سوچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے کیونکہ وہ انھیں ذہنی تناؤ میں مبتلا کر سکتی ہیں۔
شروعات سے ہی کیٹیسٹروفائزنگ کو ایک ممکنہ طور پر اہم ذہنی مسئلہ تصور کیا گیا اور بیک نے فوبیاز کے بارے میں اس کے ممکنہ کردار کے بارے میں بات کی۔
مثال کے طور پر کوئی ایسا شخص جسے پروازوں سے ڈر لگتا ہو، وہ طیارے کے کیبن میں کسی ذرا سی بھی کھڑکھڑاہٹ کو تکنیکی خرابی کی علامت سمجھ سکتا ہے۔ اگر وہ کیٹیسٹروفائزنگ کی زد میں اس قدر نہ ہوتے تو وہ یہ بھی دیکھتے کہ پرواز کا عملہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے مگر اس کیفیت میں انسان یہ سوچتا کہ عملہ دھیان نہیں دے رہا اور اگر یہ کھڑکھڑاہٹ جاری رہتی تو وہ سوچنے لگتے کہ وہ کتنے خوف ناک انداز میں مر سکتے ہیں۔
ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے کہ تباہی کا سوچنا بے چینی سے منسلک دیگر مسائل کی بھی سنگین وجہ بنتا ہے۔ مثال کے طور پر کام کی جگہ پر کوئی ایسا پرفیکشنسٹ جو کام میں معمولی سی غلطی بھی چھوڑنے کا قائل نہ ہو، اگر اس میں کیٹیسٹروفائزنگ کا رجحان ہے تو وہ چھوٹی سی چھوٹی غلطی پر بھی انتہائی بے چین ہو سکتے ہیں۔
کیلن کے مطابق ’مثال کے طور پر وہ ایسی کیٹیسٹروفائزنگ سوچ رکھ سکتے ہیں کہ ’مجھے نکال دیا جائے گا‘ اور ’اگر مجھے نکالا گیا تو مجھ سے معاملات نہیں سنبھلیں گے۔‘
کسی نہ کسی موقعے پر ان لوگوں کے خوف اس سطح تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ اپنا کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا شخص جسے اپنی صحت سے متعلق بے چینی ہو، اگر وہ کیٹیسٹروفائزنگ کا شکار ہو تو وہ اپنے جسم میں موجود کسی معمولی تبدیلی کو بھی کینسر کی علامت سمجھ سکتا ہے۔
کچھ معاملات میں تو لوگ بے چینی کے باعث جسم میں پیدا ہونے والے احساسات کو بھی انتہائی درجے تک خطرناک تصور کرنے لگتے ہیں۔ اگر وہ کوئی پریزنٹیشن دینے کے بارے میں پریشان ہیں تو مثال کے طور پر وہ تیزی سے دل دھڑکنے کو دل کے دورے کی پیشگی علامت سمجھ سکتے ہیں۔ نتیجہ ایسی پے در پے منفی سوچوں کی صورت میں نکلتا ہے کہ انسان کو مکمل طور پر گھبراہٹ اور بے چینی کا دورہ پڑ جاتا ہے۔
برنباس اوسٹ جرمنی کے شہر فریبرگ میں ماہر نفسیات ہیں جنھوں نے پینک ڈس آرڈر میں ایسی منفی سوچ کے جائزے پر کتاب کی تحریر میں حصہ لیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انسانی جسم میں بے چینی اور خوف کی غلط تشریح کر لی جاتی ہے جو اس بات کو زیادہ ممکن بنا دیتی ہے کہ ایک انسان کسی بھی صورتحال کا منفی اندازہ لگائے گا۔‘
گذشتہ برسوں میں ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ منفی سوچ انسان کو کئی ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے جس میں پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر یعنی کسی تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد پیدا ہونے والی بیماری اور اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر شامل ہیں۔
منفی سوچ صرف ذہنی کیفیت کا نام ہی نہیں بلکہ یہ جسمانی درد کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ایسے کیس میں انسان سوچ سکتا ہے کہ اس کو کتنی دیر تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ یہ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ انسان سوچ سکتا ہے کہ شدید سر درد کا مطلب ہے کہ اسے دماغ کا کینسر ہے۔
مختلف تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسی سوچ دماغ میں درد کے سگلنلز میں اضافہ کرتی ہے جس کی وجہ سے تکلیف میں شدت بھی آتی ہے اور دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی کی بیتھ ڈارنل اور میری لینڈ یونیورسٹی کی لوانا کولوکا نے ایک حالیہ مشترکہ تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ ’یہ منفی ذہن ایسا ہوتا ہے کہ ایندھن سے بھرا کنستر اٹھا کر اسے جلتی ہوئی آگ پر انڈیل دیا جائے۔‘
جذباتی وبا
کچھ لوگ ایسی منفی سوچ سے زیادہ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔
اس کی ایک وجہ جینیاتی بھی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری سوچ کا طریقہ ہم نے اپنے خاندان سے سیکھا ہو۔ اگر آپ نے ہمیشہ اپنے والدین کو ہر صورتحال میں بدترین نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے تو فطری طور پر آپ بھی ایسا ہی کریں گے۔
ہمارا ماحول اور تجربات بھی ایک کردار ادا کرتے ہیں۔ دباؤ اور غیر محفوظ ہونے جیسے احساسات کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی منفی سوچ کی جانب لے جا سکتی ہیں۔
اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی سوچ گذشتہ ایک یا دو سال کے دوران منفی ہوئی ہے تو یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔ ایسے شواہد موجود ہیں کہ دنیا کے واقعات بھی منفی سوچ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
کبھی کبھار انسان دنیا میں ہونے والے واقعات کے بارے میں بھی منفی طریقے سے سوچنا شروع کر دیتا ہے جیسا کہ یوکرین کی جنگ، کورونا کی ایک اور نئی قسم سامنے آنے کے خدشات یا پھر معیشت کی تباہی جیسے منظر نامے جنم لے سکتے ہیں۔
بسا اوقات تباہی اور بربادی کی خبریں انسان کی سوچ میں پریشانی کی ایک تہہ کا اضافہ کر دیتی ہیں جس میں انسان اپنی ذاتی مشکلات کے بارے میں زیادہ پریشان ہو جاتا ہے چاہے وہ دنیا کے سیاسی اور جغرافیائی معاملات سے کتنی ہی ہٹ کر کیوں نہ ہوں۔
برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے جذبات کے مطابق دنیا کی خبروں کو ریٹنگ دیں کہ وہ مثبت ہیں یا منفی، خوشگوار ہیں یا نا خوشگوار، پر اطمینان ہیں یا پھر جذبات کو ابھارنے والی۔ پھر ان 30 افراد کے گروہ کو مخصوص خبروں کے کلپ دکھائے گئے۔
کلپ دیکھنے سے قبل اور بعد میں ان افراد نے ایک سوالنامہ پر کیا جس میں انھوں نے اپنی زندگی کی تین پڑی پریشانیوں کے بارے میں جواب دیے۔ آخر میں ان افراد نے انٹرویو میں بھی حصہ لیا جس میں ان سے ایک مسئلے پر بات چیت کی گئی۔
توقع کے مطابق جن شرکا نے منفی خبریں دیکھیں وہ زیادہ بے چین تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنی ذاتی مشکلات پر بات چیت کے دوران یہ افراد ان لوگوں کے مقابلے میں منفی سوچ کا مظاہرہ بھی کر رہے تھے جن کو مثبت یا نیوٹرل خبریں دکھائی گئی تھیں۔
یہ ایک چھوٹے سے گروہ پر مشتمل تحقیق تھی لیکن اس کے بعد ہونے والے تجربات نے اس بات کی تصدیق کی کہ خبروں کا ہمارے موڈ سے گہرا تعلق ہے جو ہماری سوچ کو منفی یا تاریک راستے پر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دائرے کو کیسے توڑا جائے
انسانی رویے کی ماہر نفسیات کیلن کا کہنا ہے کہ منفی سوچ کی وجہ کوئی بھی ہو، اس دائرے سے نکلنا ممکن ہے۔
لیکن اس کے لیے آگہی بنیادی چیز ہے۔ پہلا قدم اپنی سوچ کو روک کر اس بات کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے کہ ذہن ایک نفسیاتی بلیک ہول میں جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی انٹرویو کے بارے میں بے چین ہیں۔ آپ کے ذہن میں اگلی سوچ یہ آتی ہے کہ میں اس میں فیل ہو جاؤں گا لیکن آپ اس سوچ کی بنیاد پر سوال ضرور اٹھا سکتے ہیں۔
اس سوچ کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا آپ کے سامنے موجود شواہد کی رواشنی میں آپ کوئی اور نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں؟
اگر آپ کسی ایسے فرد سے بات کریں جو اس صورتحال سے بے غرض ہے تو شاید آپ جان سکیں کہ ناکامی ایک امکان تو ہے لیکن یقینی نہیں اور آپ ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں جو آپ کی بہتر کارکردگی میں مدد کر سکتے ہیں۔
آپ کو ایسی عمومی سوچ سے گریز کرنا چاہیے جس میں ضرورت سے زیادہ کسی چیز کے بارے میں سوچا جائے جیسا کہ میں تو ایک ناکام شخص ہوں اور مجھے کبھی بھی نوکری نہیں ملے گی۔ اس صورتحال میں آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ ہر شخص کبھی برے انٹرویو دیتا ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر انسان ہی ناکام ہے۔
اور اگر آپ اس انٹرویو میں ناکام رہتے ہیں تو آپ اس تجربے سے سیکھ سکتے ہیں تاکہ اگلے موقعے کے لیے آپ کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
چلیں ایک اور مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ کو کورونا سے متاثر ہونے کا خوف ہے اور یہی سوچ ہر وقت آپ کے سر پر سوار ہے۔
ایک جانب جہاں کورونا کی وبا کے خطرات کی پہچان ایک منطقی چیز ہے وہیں آپ جیسے ہی گلے کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں، آپ سوچ لیتے ہیں کہ آپ کو کورونا کی وبا لاحق ہو چکی ہے اور پھر آپ اس سے نمٹنے کے بارے میں سوچ کر بے چین ہو جاتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں آپ خود کو سمجھا سکتے ہیں کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک اس سوچ کو خود سے دور کیا جائے، کیونکہ گلے کی سوزش ضروری نہیں کہ کورونا ہی ہو۔ آپ خود کو یاد دلا سکتے ہیں کہ آپ ویکسین لگوا چکے ہیں جو علامات کی شدت کو زیادہ بڑھنے نہیں دے گی اور ساتھ ہی ساتھ آپ ایسے طریقوں کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں جو بیماری کی صورت میں آپ کو صحتیاب ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ہر صورت حال میں مقصد یہی ہے کہ ایک متوازن نکتہ نظر اپنایا جائے جس کی بنیاد شواہد ہوں۔ کیلن کا کہنا ہے کہ اس طرح منفی سوچ رکھنے والے فرد کو بے چینی کی شدت کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
لیکن اپنی سوچ کو اس طریقے سے ڈھالنا آسان نہیں۔ شروع میں یہ مشکل عمل ہو گا لیکن بار بار اس عمل سے گزر کر اسے آسان بنایا جا سکتا ہے۔
آپ ایک گنتی بھی رکھ سکتے ہیں کہ آپ نے کتنی بار بدترین نتیجہ اخذ کیا لیکن دراصل ایسا ہوا نہیں۔ اس طرح آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ منفی سوچ یا کیٹیسٹروفائزنگ کیسے بلاوجہ پریشانیوں کو جنم دیتی ہے۔
صرف ایسا کرنے سے ہی آپ کو اگلی بار منفی سوچ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ یاد رکھیں کہ گلی کے ہر کونے میں تباہی آپ کی منتظر نہیں۔