کمپیوٹر کوڈنگ کی دنیا میں مزید خواتین کو لانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟

    • مصنف, میری این رسن
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی آف بزنس، بی بی سی نیوز

برطانیہ میں ایسے ملازمین کی شدید قلت ہے جن میں ڈیجیٹل ہنر اور صلاحیتیں ہوں۔ یعنی کمپیوٹر کوڈرز، سائبر سکیورٹی کے ماہرین، ڈیٹا اینالسٹس کی مانگ بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مگر یہ صرف برطانیہ کا مسئلہ نہیں۔ ملازمتوں سے متعلق مشاورت دینے والی کمپنی ہاروی نیش کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دو تہائی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہنر مند ملازمین کی کمی سے دوچار ہیں۔

اس کے 2100 کمپنیوں کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ٹیموں میں خواتین کا تناسب بہت سست رفتار کے ساتھ بڑھا ہے۔ یہ تناسب 25 فیصد ہے جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر صرف 12 فیصد خواتین ہیں۔

ان حیران کن اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے میں نے خود بطور ایک 30 سالہ خاتون یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کمپیوٹر پروگرامنگ کی زبان پائتھون کی کوڈنگ سیکھنا کتنا آسان یا مشکل ہے۔

کمپیوٹر پروگرامنگ کے لیے پائتھون ایک ایسی مضبوط اور جامع زبان ہے جو عام طور پر سافٹ ویئر سے متعلق ہر طرح کے کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اکثر وہ پہلی زبان ہوتی ہے جو کمپیوٹر سائنس کا کورس پڑھنے والے انڈرگریجویٹ طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے کاروبار میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ مثلاً یوٹیوب کا سافٹ ویئر بڑے پیمانے پر پائتھون میں ہی لکھا گیا ہے۔

پائتھون کوڈنگ سیکھنے کی شروعات

فی الحال اگر آپ کو کوڈنگ سیکھنی ہو تو آپ کو کسی کورس یا کلاس کے لیے پیسے دینا ہوں گے۔ یا موجودہ آن لائن مواد سے خود سیکھنا ہوگا۔ یا ایسی کمیونٹی ڈھونڈنی ہو گی جو آپ کو مفت میں کوڈنگ سکھانے کے لیے رضامند ہو جائے۔

میں نے سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ویب سائٹس بنانی والی زبانیں خود سے سیکھی تھیں تو مجھے لگا کہ پائتھون سیکھنے میں بھی اس سے مدد مل سکتی ہے۔ تو میں خود سے ہی پائتھون سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

سب سے پہلے میں نے بچوں کے لیے بنائے گئے کمپیوٹنگ کے کھلونوں سے مدد لی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ روبوٹ کی حرکات کو دیکھ کر شاید مجھے بھی حوصلہ مل سکے گا اور میں اس میں دلچسپی لے سکوں گی۔ مگر جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس میں مزید محنت درکار ہوگی۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ کھلونوں کے ساتھ آنے والے سافٹ ویئر کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد میں نے اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے کوڈ اکیڈمی کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ایک مشہور آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ مفت میں کوڈنگ سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اسے دیکھ کر میں ڈر گئی۔ یہاں میرے سے ایک خالی اور سیاہ ونڈو میں پوچھا گیا ’ہیلو ورلڈ ٹائپ کریں۔‘

سیکھنے میں مدد کے لیے میں ’ٹیچ دی نیشن ٹو کوڈ (قوم کو کوڈنگ سکھائیں)‘ گئی۔ اس ایک روزہ تقریب میں ایک برطانوی ٹریننگ کمپنی کیو اے نے پائتھون سے متعلق مفت ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا۔

اس کوڈنگ ورکشاپ کی بنیاد پاکستان میں کیمسٹری ٹیچر رہنے والے شفیق محمد نے رکھی تھی۔ ان کے مطابق کوڈنگ سیکھنے کے عمل نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ بالغ افراد کی یہ کلاس مشکل تھی کیونکہ اس میں رہنے کے لیے آپ کوڈنگ سیکھنا چاہیں گے تاکہ دوسروں سے رابطہ قائم کرسکیں۔

اگر آپ اپنے کوڈ میں غلطی کریں گے تو یہ کچھ نہیں کرے گا۔ مگر جب آپ کا کوڈ درست ہو گا تو اس کا زیادہ انعام نہیں ملے گا، صرف ایک سکرین پر کچھ لکیریں۔

میں نے سائفر کوڈرز اور کریٹر اکیڈمی سے بھی کلاسز لیں تاکہ میں ’سکریچ‘ سیکھ سکوں۔ یہ کوڈنگ کی وہ آسان زبان ہے جو بچوں کو تصاویر کے ذریعے سکھائی جاتی ہے۔ سکریچ کے ذریعے آپ کوئی گیم یا اینیمیشن بنا سکتے ہیں۔ یا آپ کسی روبوٹ کو پروگرام کر سکتے ہیں۔

بچوں کی ان کلاسز میں بہت تفریح تھی۔ یہاں ویڈیوز گیم یا کھلونا بنانے جیسے کام کیے جاتے ہیں اور یہاں زیادہ پیچیدہ باتیں نہیں ہوتیں۔ سکریچ کے بعد پائتھون سیکھنے کے قدم میں مجھے کافی جھنجھلاہٹ محسوس ہوئی۔ یہ ایسا تھا جیسے بچوں کے کھلونوں اور رنگ برنگی کتابوں سے آپ خالی سیاہ سکرین میں داخل ہوجائیں جہاں تفریح جیسی کوئی چیز نہیں۔

بچوں کو کوڈنگ سکھانے کے لیے ایسی مزیدار گیمز استعمال کی جاتی ہیں تو ہم پیشہ ورانہ سطح پر مشکل کوڈنگ سکھانے کے لیے ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلوی کمپنی کریٹر اکیڈمی کے بانی گیری لا کہتے ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی تعلیم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کو تصاویر، آواز اور حرکت سے متعلق چیزوں سے کوڈنگ سکھائیں۔ ہمیں بالغ افراد کو بھی اسی طریقے سے کوڈنگ سکھانا ہو گی تاکہ مزید لوگ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی (سٹیم) میں آ سکیں۔‘

سائفر کوڈرز کی مالک الیزبتھ ٹویڈیل سمجھتی ہیں کہ مرد و خواتین مختلف طریقوں سے سیکھتے ہیں اور کوڈنگ کی تعلیم میں اس کی عکاسی ہونی چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ مرد حضرات کسی مسئلے کے حل کے لیے عموماً سیدھے راستے پر چلتے ہیں، یعنی اے ٹو زی۔ جبکہ خواتین عموماً مسئلے سے شروع کرتی ہیں اور حل کی طرف جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں ٹیکنالوجی اور کوڈنگ کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنا ہو گا جس میں سیکھنے کا طریقہ زیادہ خواتین کو مائل کرسکے۔‘

سیکھنے کا خرچہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ’کوڈ فرسٹ: گرلز (سی ایف جی)‘ نامی سماجی تنظیم کی سربراہ اینا بریلزفورڈ کہتی ہیں کہ کوڈنگ سیکھنے پر 10 ہزار پاؤنڈز تک کا خرچ آتا ہے اور اکثر جو سکھایا جاتا ہے اس کا ماکیٹ میں موجود نوکریوں سے واضح تعلق نہیں ہوتا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس بات کے بہت زیادہ امکان ہوتے ہیں کہ خواتین ہار مان جائیں جب تک کہ انھیں اس میں واضح طور پر آمدن کا ایک ذریعہ نظر نہیں آتا۔‘

سی ایف جی میں خواتین کو 13 ہفتوں تک سخت ٹریننگ دی جاتی ہے اور اس میں کمپیوٹر پروگرامنگ کو لوگوں کی دلچسپی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایسے ہنر سیکھتی ہیں جو ان کی نوکریوں میں مدد کر سکیں۔ سی ایف جی پھر ان خواتین کو ان کے ہنر کے مطابق ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں نوکریاں دلواتی ہے۔

کریٹر اکیڈمی میں مسٹر لا کی کلاسز میں 40 فیصد خواتین ہیں۔ یہ نیو ساؤتھ ویلز کے اس منصوبے کا حصہ ہے جہاں والدین کو سالانہ 100 آسٹریلوی ڈالر دیے جاتے ہیں اگر وہ اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی سے متعلق کلاسز میں بھیجتے ہیں۔

ٹویڈیل کہتی ہیں کہ مزید بچے اور خواتین کوڈنگ کی دنیا میں آسکتی ہیں اگر ایسی تقاریب کرائی جائیں جہاں انھیں بڑی انعامی رقم اور اچھی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں انٹرنشپ کی پیشکش کی جائے۔

28 سالہ ویب ڈیویلپر بیورلی نیونگ وزارت انصاف میں کام کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بھی سائنس اور ٹیکنالوجی سکھانے کا طریقہ بدلنا ہو گا۔

نیونگ نے یونیورسٹی میں فزکس پڑھی مگر اچھے گریڈز حاصل کرنے میں ناکام ہوئیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے دوران ’مردوں سے بھری ریاضی کی کلاس میں مجھے کافی مشکل ہوئی۔‘

’میں یہاں خود کو پُرسکون محسوس نہ کر سکی اور جب مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تو میں ٹیچر کو بھی نہ بتا پاتی تھی۔‘

نیونگ نے مشکل مالی حالات میں خود کوڈنگ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے لیے مشکل تھا کیونکہ وہ کلاسز کی فیس ادا نہیں کرسکتی تھیں۔ انھیں جلد سب سیکھنا پڑا تاکہ کہیں انٹرن شپ مل سکے۔

وہ سی ایف جی اور کوڈ بار جیسی تنظیموں کی شکر گزار ہیں جہاں انھوں نے کوڈنگ سیکھ کر اپنی زندگی بدلی۔ ’مجھے نہیں معلوم میرا کیا بنتا ہے اگر مجھے وہ انٹرنشپ نہ ملی ہوتی۔‘ ’مجھے لگتا ہے کہ یہاں لوگوں کی شمولیت کا ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس صنعت میں پیڈ انٹرنشپس کی ضرورت ہے تاکہ آپ کام سیکھ سکیں اور ساتھ اپنے واجبات بھی ادا کر سکیں۔‘