آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس اور اومیکرون: کووڈ سے متاثرہ شخص کتنے دن تک متعدی رہتا ہے؟
کورونا وائرس کی اومیکرون قسم بہت تیزی سے دنیا میں پھیل رہی ہے اور اس نے دنیا بھر میں حکومتوں کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عمل تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اومیکرون وائرس دوسرے وائرس کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے جس میں ویکسین سے بچانے اور دوسرے لوگوں تک پھیلنے کی زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔
اومیکرون وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔
اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ جن افراد کو ویکسین کے دو ٹیکے لگ چکے ہیں یا جن کو بوسٹر ملا ہے اگر وہ اس وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کے ہسپتال میں داخل ہونے یا مرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں آئسولیشن یا تنہا رہنے کی پابندی کو کم کر کے پانچ دن کر دیا گیا تاکہ سکول یا کام پر نہ جانے والوں کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
لیکن عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اومیکرون سے لاپرواہ نہ ہوں۔ ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ قسم اب بھی ’مہلک‘ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ویکسین نہیں ملی ہے۔
تو نئی ہدایات کے پیچھے سائنس کیا ہے اور ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں کہ نئی شکل کس طرح پھیلتی ہے؟
اومیکرون کی علامات ظاہر ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے
اگرچہ اومیکرون پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے لیکن جتنی تحقیق ہوئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تازہ ترین قسم کی شدت نہ صرف پچھلی قسموں کی شدت سے کم ہوسکتی ہے، بلکہ اس کی انکیوبیشن مدت بھی کم ہوسکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انکیوبیشن کسی وائرس کے لگنے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے درمیان کا وقت ہے۔
کورونا وائرس کی ابتدائی شکلوں کے ساتھ، علامات عام طور پر انفیکشن کے پانچ سے چھ دنوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ڈیلٹا قسم کے ساتھ، مثال کے طور پر، یہ مدت اندازاً چار دن تھی۔
اومیکرون کے بارے میں اب تک حاصل کردہ معلومات کے مطابق انفیکشن کے دو سے تین دن کے اندر علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
اومیکرون کے چھ کیسز پر امریکہ میں دسمبر میں شائع ہونے والی ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انکیوبیشن کا اوسط دورانیہ تین دن تھا، جبکہ دیگر اقسام کا دورانیہ تقریباً پانچ دن تھا۔
سپین میں لا ریوجا کی بین الاقوامی یونیورسٹی کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر ویسینٹے سوریانو نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کسی کو اومیکرون لگ جاتا ہے تو ایک دن کے اندر وائرس کی تعداد بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔
دو دن کے اندر اس مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
کووِڈ سے متاثر کوئی شخص کب تک متعدی ہے؟
سائنسدان پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ جن لوگوں کو کورونا وائرس ہوا ہو وہ اپنے انفیکشن کے دوران پہلے سے زیادہ متعدی ہوتے ہیں۔
اومیکرون کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے سے ایک سے دو دن پہلے اور دو سے تین دن بعد تک یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سوریانو کہتے ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس صرف پانچ دنوں کے لیے متعدی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت یا وائرس کی منتقلی کا خطرہ، ٹیسٹ کے مثبت آنے کے بعد تین سے پانچ دن تک رہتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اومیکرن کی مختلف شکل تقریباً سات دنوں تک جسم میں رہتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ علامات شروع ہونے کے تقریباً سات دن بعد، زیادہ تر لوگ متعدی نہیں رہیں گے، اگر وہ مزید کوئی علامات ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر سوریانو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دوا ہے، ریاضی نہیں، لہذا آپ کو تھوڑی سی چھوٹ دینا پڑے گی۔‘
’شاید کچھ لوگوں کا دورانیہ قدرے کم ہوتا ہے، تقریباً تین یا چار دن، اور دوسروں کا تقریباً سات دن۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اومیکرون کے ساتھ، انفیکشن پچھلی اقسام کے مقابلے میں بہت تیز ہے۔‘
اس بارے میں یقین سے بات کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اینٹیجن ٹیسٹنگ (جسے ریپڈ لیٹرل فلو ٹیسٹنگ بھی کہا جاتا ہے) کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ شخص اب بھی متعدی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سستے ٹیسٹ ہیں اور یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ آیا کوئی اب بھی وائرس کا شکار ہے۔‘
اگر کسی میں کووڈ کی علامات ہوں تو میں ان سے کتنے عرصے بعد مل سکتا ہوں؟
امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے جو ہدایات شائع کی ہیں ان کے تحت کووِڈ کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے والے افراد کو پانچ دن تک تنہائی اختیار کرنے کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کی اجازت دی جائے۔
لیکن چند شرائط کے ساتھ۔ سی ڈی سی کے مطابق اگر آپ کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے:
• اگر آپ کو کووڈ 19 ہے اور آپ میں علامات پائی جاتی ہیں، تو کم از کم پانچ دن کے لیے الگ رہیں۔ آپ کی پانچ دن کی تنہائی کی مدت کا حساب لگانے کے لیے، آپ علامات ظاہر ہونے کے دن سے اگلے دن گنتی شروع کریں۔
• اگر آپ میں مزید علامات نہیں ہیں یا آپ کی علامات پانچ دن کے بعد بہتر ہو رہی ہیں، تو آپ تنہائی چھوڑ سکتے ہیں اور اپنے گھر سے نکل سکتے ہیں۔
• جب آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوں تو پانچ دن بعد بھی ماسک پہننا جاری رکھیں۔
• علامات کے پہلے دن کے بعد پورے 10 دن تک سفر سے گریز کریں۔ اگر آپ کو 6-10 دنوں میں سفر کرنا ہے تو، جب آپ سفر کی پوری مدت کے لیے دوسروں کے آس پاس ہوں تو تنگ فٹنگ والا ماسک پہنیں۔
• اگر آپ کو بخار ہے، تو بخار ختم ہونے تک گھر میں الگ تھلگ رہیں۔
اگر مجھ میں علامات ظاہر نہیں ہوتی تو میں کتنے دن تک دوسروں کو وائرس منتقل کر سکتا ہوں؟
کووڈ سے متاثرہ بہت سے لوگوں میں انفیکشن کے دوران کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر سوریانو کا کہنا ہے کہ انھیں توقع کرنی چاہیے کہ ان کا انفیکشن اسی مدت تک جاری رہے گا جس میں علامات ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب بھی غیر علامتی انفیکشن کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہے۔ لیکن انفیکشن کا دورانیہ ان لوگوں سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے جن میں علامات ہیں۔‘
’جن بچوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں ان پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر بھی وہی اثرات ہوتے ہیں جو ان بالغوں پر ہوتے ہیں جن میں علامات پائی جاتی ہیں۔‘
کیا علامات کے بغیر کوئی شخص دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے؟
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کووڈ سے متاثرہ لوگ، جن میں علامات نہیں ہیں، پھر بھی دوسروں کو کورونا وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔
ان کے دوسروں کو متاثر کرنے کا زیادہ امکان ہے، کیونکہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خود کو الگ تھلگ نہیں کریں گے اور نہ ہی مناسب احتیاط کریں گے۔
امریکی جریدے نیٹ ورک اوپن (جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن) میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چار میں سے تقریباً ایک انفیکشن ایسے افراد کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے جن میں علامات نہیں ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امکان اومیکرون قسم میں دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
حکام فیس ماسک کے استعمال کی سفارش کرتے ہیں، خاص طور پر گھر کے اندر، لوگوں کے نادانستہ طور پر وائرس پھیلانے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرنے کے لیے۔