آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حیاتیاتی تنوع: مچھلی کی ’لاپتہ‘ قسم جسے میکسیکو کے قدرتی ماحول میں دوبارہ متعارف کرایا گیا
- مصنف, وکٹوریا گِل
- عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی نیوز
’یہ بس ایک چھوٹی سی مچھلی ہے، اس میں کچھ انوکھا نہیں۔۔۔ عالمی قدرت کے تحفظ میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔‘
چیسٹر زو میں قدرت کے تحفظ کے کارکن جرارڈو گارسیا مچھلی کی ایک قسم ’ٹکیلا فش‘ کی بات کر رہے ہیں جسے معدوم قرار دیا گیا تھا مگر اب اسے قدرت میں دوبارہ داخل کر دیا گیا ہے۔
یہ مچھلی سنہ 2003 سے ’لاپتہ‘ تھی اور اب یہ جنوب مغربی میکسیکو کے پانیوں میں دوبارہ متعارف کرائی گئی ہے۔
اس عمل کو ایک ایسی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ تازہ پانی کے نظام اور مچھلیوں کی انواع کو کیسے بچایا جاسکتا ہے۔
قدرت کے تحفظ کے ادارے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطابق زمین پر تازہ پانی کی آماجگاہیں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ان کے مطابق تازہ پانی پر انحصار کرنے والی انواع ’زمینی یا سمندری جنگلی حیات کے مقابلے زیادہ تیزی سے معدوم ہو رہی ہیں۔‘
آلودگی جیسے خطرات نہ صرف جنگلی حیات بلکہ دریا اور جھیل پر منحصر صاف پانی اور کھانی کی اشیا پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ٹکیلا فِش کو جس مقام پر لوٹایا گیا ہے وہاں کے مقامی لوگ دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کے معیار کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
میکسیکو میں میچواکانا یونیورسٹی کے پروفیسر عمر ڈومنگز کی ٹیم نے اس عمل میں کلیدگی کردار ادا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یہ مقامی لوگوں کے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔ وہ وہاں طویل مدتی تحفظ کی تیاری کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پہلی بار ہے کہ میکسیکو میں مچھلی کی معدوم انواع کو دوبارہ قدرت میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ قدرت کے تحفظ میں بڑی کامیابی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس نے ملک میں قدرت کے تحفظ کے مزید منصوبوں کے لیے اہم نظیر قائم کی ہے۔ ملک میں کئی مچھلیاں معدوم ہوچکی ہیں یا وہ اس خطرے سے دوچار ہیں۔ لیکن یہ بہت کم ہماری توجہ حاصل کر پاتی ہیں۔‘
منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 1500 مچھلیاں پانی میں چھوڑی گئی تھیں مگر اب ان کا کہنا ہے کہ دریا میں ان کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
میکسیکو اور برطانیہ کے درمیان قدرت کے تحفظ کی یہ شراکت کئی دہائیوں پرانی ہے۔
سنہ 1998 میں میکسیکو میں میچواکانا یونیورسٹی کے اکویٹک بیالوجی یونٹ کو چیسٹر زو کی جانب سے مچھلیوں کے پانچ جوڑے دیے گئے تھے۔ یہ عمل انگلش ماہر ایون ڈیبل کی بدولت ممکن ہوا تھا۔
ان 10 مچھلیوں نے یونیورسٹی کی لیبارٹری میں اپنی نئی کالونی بنا لی تھی۔ وہاں کے ماہرین نے 15 سے زیادہ برسوں تک ان کی نگرانی کی اور ان کی آبادی کو بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیے
اس عمل میں 40 نر اور 40 مادہ مچھلیوں کو یونیورسٹی کے بڑے مصنوعی تلاب میں چھوڑا گیا۔ انھیں قدرتی ماحول دیا گیا جس میں خوراک، ممکنہ حریف، پیراسائٹ اور شکاری شامل تھے۔ چار سال بعد ان کی آبادی قریب 10 ہزار تک پہنچ گئی جو قدرت میں انھیں دوبارہ متعارف کرانے کا ذریعہ بن گیا۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ تازہ پانیوں کی مزید انواع کے تحفظ کے لیے یہ اچھی مثال ہوسکتی ہے۔ ان میں سلامینڈر کی ایک قسم انچوکے ہے جو شمالی میکسیکو میں صرف ایک جھیل میں پائی جاتی ہے اور اسے معدومیت کا خطرہ ہے۔
مقامی آبادی سمجھتی ہے کہ خشکی اور تری دونوں میں رہنے والے اس کیڑے میں شفا کی خصوصیات موجود ہیں جس کی مدد سے یہ اب تک معدومیت سے بچا ہوا ہے۔ وہاں ننز کا ایک گروہ جانوروں کی بریڈنگ کا ایک مرکز چلاتا ہے۔
آڈونیٹے کی اقسام کابلی مکھی (ڈیمسل فلائی) اور بھنبھیری (ڈریگن فلائی) دونوں نمی والی آماجگاہوں پر انحصار کرتی ہیں۔ انھیں دنیا بھر میں اب معدومیت کا خطرہ ہے۔
جرارڈو گارسیا کا کہنا ہے کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانور دوبارہ جنگلی ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں اگر انھیں صحیح وقت اور ماحول میں دوبارہ متعارف کرایا جائے۔‘