بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں زیر سمندر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں کیوں مصروف ہیں؟

    • مصنف, مائیکل ونرو
    • عہدہ, ٹیکنالوجی اور بزنس رپورٹر

’حقیقت یہ ہے کہ آپ فیس بک پرکوئی تصویر یا یوٹیوب پر کوئی ویڈیو لگا سکتے ہیں اور لوگ اسے دنیا میں کہیں بھی دیکھ سکتے ہیں، یہ کافی حیران کن ہے، لیکن اس سب کے لیے پس پردہ اور سمندر کے نیچے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

یہ نظر انداز کرنا آسان ہے کہ انٹرنیٹ تک ہماری رسائی دنیا کے سمندروں میں بچھائی گئی ہزاروں میل طویل کیبل (تاروں) پر منحصر ہے۔ وہ انٹرنیٹ کے لیے پلمبنگ فراہم کرتی ہیں اور 98 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک ان ہی کے ذریعے چلتی ہے۔

کچھ کیبل ہمسایہ ممالک کو جوڑتی ہیں، جیسے آئرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان 131 کلومیٹر طویل کیبل ہے۔ یا جیسے براعظموں کو جوڑنے والی ’ایشین امریکہ گیٹ وے کیبل‘ جو 20 ہزار کلومیٹر طویل ہے۔

انٹر نیٹ کی کیبل کے اندر باریک تاریں ہوتی ہیں اور یہ آپٹیکل ریشوں کی طرح ہوتی ہیں جن میں اعدا و شمار روشنی کی طرح سفر کرتے ہیں، ایسے جیسے بالوں میں تناؤ ہیدا ہوتا ہے۔ ہر کیبل میں ان بہت سی باریک تاروں یا ریشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی کوٹنگ کی مزید پرتیں رکھی جائیں گی۔

’سب کام‘ نامی بین الاقوامی کمپنی کے ڈائریکٹر ڈینیئل سوسا کے مطابق ایک مسئلہ یہ ہے کہ ’پورے کیبل سسٹم کو ایک مکمل نظام کی حیثیت سے تیار کرنے اور ان کا تجربہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک اور بین الاقوامی کمپنی ’اورنج میرین‘ کے سربراہ ڈیڈیئر دلارڈ کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں پر لادنے سے پہلے کیبلز کا ساحل پر تجربہ کیا جاتا ہے، جس میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

یہ کمپنی زیر سمندر کیبل یا تاریں ڈالنے والے چھ جہاز چلاتی ہے، جس میں ایک جہاز ’رینی ڈسکارٹس‘ چھ ہزار کلومیٹر کیبل بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک بار ٹیلی کام کمپنیاں اس طرح کے پیچیدہ اور مہنگے منصوبوں کی حمایتی نہیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب ٹیکنالوجی کی بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے زیر سمندر تاریں ڈالنے پر بھاری سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی ہے۔

ٹیلی جیوگرافی نامی ادارے کا اندازہ ہے کہ مواد فراہم کرنے والے ادارے جیسا کہ گوگل، فیس بک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ نے گذشتہ پانچ برسوں میں کیبل بچھانے کے کام پر 1.5 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

ایلن مولڈین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انھیں زیادہ بینڈ وڈتھ کی مانگ کا سامنا ہے۔

گوگل خاص طور پر اس کام میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چلی اور امریکہ کو ملانے والی کیبل کا نام ’کوری‘ ہے جبکہ 'سب کام' نامی کمپنی کی شراکت میں ڈالی گئی ’دوننت کیبل‘ امریکہ اور فرانس کو ’آورنج‘ پر جوڑتی ہے جو کیبل لینڈنگ سٹشین ہے اور یہ فرانس کے شہر سینٹ ہلیری دی ریز میں قائم ہے۔

اس نوعیت کے دو اور سٹیشن جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔

’دی ایکینو‘ کیبل پرتگال سے افریقہ اور جنوبی افریقہ کے مغرب ساحل تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گریس ہوپر کیبل امریکہ، برطانیہ اور سپین کو ملاتی ہے۔

انٹرنیٹ کی سہولت جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں اس کی دستیابی اور اس تک رسائی کو یقینی بنانے اور اس کو مزید بہتر کرنا دو ایسی بڑی وجوہات ہیں جو اس سرمایہ کاری کا باعث ہیں۔

لیکن یہ سرمایہ کاری گوگل کلاوڈ کمپویٹنگ سروس میں بھی کی جا رہی ہے جس پر بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شدید مقابلہ ہے۔

اسی مسابقت یا کشمکش نے 'کلاوڈ وار' کی اصطلاح کو جنم دیا ہے جو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جنگ ہے۔

کلاوڈ کمپیوٹنگ ایک بڑا کاروبار بن گیا ہے کیونکہ بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنی کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل ذخائر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایمازون، اے ڈبلیو ایس اور مائیکروسافٹ کے ایزرو کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

تو کیا گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں تمام ڈیجیٹل کنکشن کے ہونے میں کوئی حرج ہے؟

ایلن مولڈین کا کہنا ہے کیبل نجی کمپنیوں کے پاس ہیں اس لیے ان پر کسی ایک کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اس کے بہت سے صارفین ہیں۔ یہ سب صارف کمپنیاں ایک ہی انفراسٹرکچر استعمال کرتی ہیں۔

ان نجی کیبلوں کی گنجائش یا صلاحیت صرف گوگل کو ہی فروخت نہیں کی جاتی کچھ گنجائش مختلف ٹیلی کام کمپنیاں بھی استعمال کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر آورنج اپنے صارفین کو دوننت کیبل پر اضافی گنجائش فراہم کر رہی ہے۔

ایلن مولڈین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں ان کی بینڈ ودتھ کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ گوگل خاص طور پر اپنی کئی کیبل بچھانے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مولڈین زیر سمندر کیبل کو موٹر ویز سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں گوگل اور فیس بک کے تیز رفتار ٹرک سفر کرتے ہیں اور ان ہی موٹر ویز پر چھوٹی گاڑیاں بھی چلتی ہیں۔

سیٹلائٹ پر کئی دہائیوں سے بحث ہو رہی ہے کہ کیا زیر سمندر کیبل کا متبادل کوئی ہو سکتا ہے۔

لندن میں سیٹلائٹ چلانے والے ’ون ویب‘ نے حال ہی میں اس کے چھٹے مرحلے کے سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں جب کہ ایلون مسک کے ’سپیس ایکس‘ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہے اور ان کے اس منصوبے کا نام سٹار لنک پراجیکٹ ہے۔

اس دونوں ٹیکنالوجی کا موازنہ کرنا سود مند ہو گا

دور دراز علاقوں میں انٹر نیٹ کی رسائی کے لیے سیٹلائٹ سب سے موثر ذریعہ ہے کیونکہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ کیبل کے ذریعے فراہم کرنا بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن کیبل زیادہ ڈیٹا کی ترسیل کے لیے سب سے موزوں ہیں۔

مولڈین نے کہا کہ بھاری ڈیٹا کے دنیا کے بڑے ڈیٹا مراکز کے درمیان تبادلہ صرف زیر سمندر کیبل سے ہی ممکن ہو گا۔

لیکن کیبل پر انحصار نے بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جغرافیائی سیاست کی طرف دھکیل دیا ہے۔

اس سال مارچ میں فیس بک نے کیلی فورنیا اور ہانگ کانگ کے درمیان کیبل بچھانے کا کام ترک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق فیس بک نے ایسا امریکہ کے قومی سلامتی کے حکام کے دباؤ کے تحت کیا۔

دوسری جانب شاہی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسا بحری جہاز بنا رہی ہے جو دفاعی نکتہ نگاہ سے اہم کیبل کی نگرانی اور حفاظت کرے گا۔ یہ جہاز سمندر کے نیچے شر انگیز کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر تیار کیا جا رہا ہے۔

ان مشکلات کے باوجود ایک مسئلہ جو اکثر کیبل کے ساتھ درپیش رہتا ہے وہ ان کی دیکھ بحال اور مرمت کا ہے۔ یہ کیبل ماحول یا انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہیں جس کو فوری طور پر مرمت کرنا پڑتا ہے۔

آورنج کا ایک ’میرین کیبل شپ‘ یا زیر سمندر تاریں ڈالنے اور ان کی مرمت کرنے والا بحری جہاز گذشتہ دنوں عوامی جمہوریہ کانگو کے ساحلوں پر سمندر کے اندر ڈالی گئی تاروں کی مرمت کر رہا تھا۔

انسانی سرگرمیوں اور نقل و حرکت سے ان تاروں کو زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ جن سمندروں میں ماہی گیر جال ڈال کر مچھلیاں پکڑتے ہیں وہاں ایسے مسائل اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ سنہ 2016 میں چینل آئس لینڈ کا عارضی طور پر انٹر نیٹ کا رابطہ باقی دنیا سے منقطع ہو گیا تھا جب ایک بحری جہاز کے لنگر سے تاریں ٹوٹ گئی تھیں۔

ان تاروں کو فوری طور پر مرمت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس سے کم سے کم خلل پڑے۔