انٹارکٹیکا میں پینگوئن کے ساتھ موسم سرما

جرمنی کے فوٹوگرافر اور فلم ساز سٹیفن کرائسٹمن نے انٹارکٹیکا یا قطب جنوبی کی اٹیکا بے میں دس ہزار سے زیادہ 'ایمپرر' (سلطان) پینگوئن پر مشتمل ایک غول کے ساتھ دو سردیاں گزاریں۔

کرائسٹمن برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے سلسلہ وار پروگرام 'ڈائنسٹی' کے لیے کیمرہ اسسٹنٹ اور مہماتی فوٹوگرافر کا کام کر رہے تھے۔ یہ پروگرام سر ڈیوڈ اینٹنبرا پیش کرتے تھے۔

کرائسٹمن نے بین الاقوامی جریدے 'نیشنل جوگریفک' میں شائع ہونے کے لیے بھی تصاویر بنائیں اور ان کی بنائی ہوئی تصویر کو سنہ 2019 میں نیشنل ہسٹری میوزم وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی ملا۔

اپنی نئی کتاب 'پینگوئن: اے ہسٹری آف سروائول' میں انہوں نے انٹارکٹیکا میں بنائی گئی اپنی چند پسندیدہ ترین تصاویر شائع کی ہیں۔ کرائسٹمن نے پہلی مرتبہ انٹارکٹیکا میں سنہ 2012 میں سردیاں گزاریں جب وہ ایلفرڈ ویگنر انسٹی ٹیوٹ کے لیے 'جیوفززسٹ' یا ماہر ارضیات کے طور پر کام کر رہے تھے۔

انھوں نے تقریباً پندرہ ماہ کسی وقفے کے بغیر انٹارکٹیکا میں ایٹکا بے کے قریب واقع 'نیومینر سٹیشن تھری' میں گزارے جہاں ہر سال دس ہزار کے قریب ایمپرر پینگوئن جمع ہوتی ہیں۔

کرائسٹمن نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹارٹیکا میں سردیاں گزارنے کا مطلب ہے کہ یا تو آپ سارا موسم وہیں گزاریں گے یا ایک دن بھی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سردیوں کے موسم میں انٹارکٹیکا سے فضائی سفر انتہائی کٹھن ہو جاتا ہے اور وہاں سے لوگوں کا آنا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ایمپرر پینگوئن کا سردیوں سے بچنے کا خفیہ ہتھیار اور حکمت عملی اتنی بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہو جانا ہے۔

ایمپرر پینگوئن ایک جگہ جمع ہو کر انتہائی کم درجہ حرارت سے اپنے آپ کو بچاتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جڑ کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور اپنے آگے والی پینگوئن کے کھندہوں میں اپنا سر چھپا لیتی ہیں۔

'اپنے جسم کی گرمی کے سہارے ایک دوسرے کو بچانے کے لیے ایک جگہ جمع ہوتی ہیں اور ان کے اس مجمعے کے وسعت میں درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔'

ایمپرر پینگوئن کو بہت سی چیزوں کے لیے تخلیق کیا گیا لیکن جب بات اس کی عمل تولید کی آتی ہے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان میں توازن رکھنا ان کی فطرت میں شامل نہیں ہے۔

جب نر پینگوئن مادہ پینگوئن سے مباشرت کے لیے اس کی پشت پر چڑھتا ہے تو اسے اپنا توازن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے اور ایسا لگتا ہے جسیے کوئی سمندری لہروں پر سرفنگ کرنے کی مشق کر رہا ہو۔

کرائسٹمن اپنی مہم کی روداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انٹارکٹیکا میں ان کا قیام انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی بیزار کن بھی تھا۔

’بیس یا اڈہ تو بہت وسیع اور جدید بنایا گیا ہے اور عام زندگی کی کوئی ایسی ضروری چیز نہیں ہے جو آپ کو میسر نہ ہو۔'

ابتدا میں تو یہ سب کچھ نیا اور دلچسپ لگتا ہے لیکن بعد میں آپ کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کی یاد ستانے لگتی ہے اور وہ سب کچھ جو آپ اپنے گھر میں کرتے ہیں آپ اس کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

یہاں کی سب سے بری بات یہاں کے طوفان ہیں جو کئی کئی ہفتوں چلتے رہتے ہیں جب پورا سٹیشن ہلتا اور ڈائنگ روم میں رکھی پلیٹیں بھی کھڑکتی ہیں۔

ان دنوں آپ کو لگتا ہے جیسے آپ قید ہوں۔ لیکن یہ سٹیشن پر زندگی کا حصہ ہے اور آپ کو یہاں پر خوشگوار دنوں کا اسی صورت میں اندازہ ہو سکتا ہے جب آپ نے یہاں پر مشکل ترین دن دیکھیں ہوں۔

کرائسٹمن جب سنہ 2016 میں انٹارکٹیکا واپس آئے تو ان کے ساتھ دو اور افراد بھی تھے۔ وہ بی بی سی نیچرل ہسٹری یونٹ کا حصہ تھے اور نیمیئر میں بی بی سی کی ڈائنیسٹیز سلسلے کے پروگرام کے لیے ایمپرر پینگوئن کی عکس بندی کے لیے ان کے ساتھ آئے تھے۔

ایمپرر پینگوئن گھونسلے نہیں بناتی اور اپنے نازک انڈوں کو بڑی احتیاط سے اپنے پنجوں کے اوپر رکھتی ہیں۔

ہر قدم لیتے وقت وہ انڈے کو بڑی احتیاط سے گھما لیتی ہیں تاکہ اس کو ہر طرف سے حرارت پہنچتی رہے۔

مادہ پینگوئن جب انڈے دے دیتی ہیں تو وہ ان انڈوں کو اپنے نر کے حوالے کر کے خود کالونی یا غول کو چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔

مادہ کو فوری طور پر اپنی توانائی بحال کرنے کے لیے خوراک کی ضرورت پڑتی ہے۔

انڈے دینے کے موسم کے ابتدائی دن میں بہت سی مادائیں سمندر سے اوپر کی طرف اپنا لمبا سفر تن تناہ شروع کرتی ہیں۔

کرائسٹمن اور ان کی ٹیم 'کیموفلیج' کپڑے نہیں پہنتے اور نارنجی رنگ ک ڈانگریاں پہتے ہیں تاکہ اگر وہ برف کے طوفان میں بھٹک جائیں تو ان کو آسانی سے ڈھونڈ لیا جائے۔

اکثر ایمپرر پینگوئن اپنے اردگرد نارنجی رنگ کی ڈانگریوں میں گھومتے ہوئے لوگوں سے مانوس ہیں۔ ان کی فطرت میں جان بچا کر بھاگنا نہیں ہے کیونکہ وہاں خشکی پر شکار کرنے والے کوئی جانور موجود نہیں ہے۔ ان کو صرف سکواز اور پٹرل پرندے اور سمندر میں لیپرڈ سیل اور ارکاس سے خطرہ رہتا ہے۔

جب پینگوئن ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تاکہ وہ انٹارکٹیکا کے سرد موسم میں اپنی توانائیاں اور حرارت بچا سکیں، ہمیشہ ایک دو پینگوئن ایسی ہوتی ہے جو حرارت حاصل کر چکی ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر یہ اپنی کالونی سے نکل کر ہمیں خوش آمدید کرنے آ جاتی ہیں جب ہم احتیاط اور آہستگی سے ان کی طرف بڑھتے ہیں۔ ہم انہیں ہمیشہ اپنی استقبایلہ کمیٹی سمجھتے ہیں۔

کرائسٹمن کہتے ہیں کہ دس ہزار کے قریب پینگوئن جو آوازیں نکالتی ہوں وہ انتہائی حیران ہوتی ہیں۔ 'ان کی آوازوں میں شہنائی جیسے خصوصیت ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ آواز ناگوار اور کرخت ہو گی لیکن میرے خیال میں حقیقت یہ نہیں ہے۔ یہ آواز زندگی کی آواز ہے دنیا کے اس آخری حصے میں جہاں زندگی محال ہے اس لیے یہ میرے لیے ایک انتہائی خوبصورت دھن ہے۔

انسانوں کو ان سب کی آوازیں ایک جیسی سنائی دیتی ہیں لیکن ہر ایک کی آواز دوسرے سے قدر مختلف ہوتی ہے اور اس کی اپنی دھن اور دھمک ہوتی ہے جو ہر ایک کی علیحدہ شناخت ہوتی ہے۔ ایمپرپر پینگوئن کے جوڑے ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسی پینگوائن میں ہر ایک کی مخصوص آواز اور ان کی چال سے پہچانتے ہیں۔

ایمپرر پینگوئن کا ایک رویے جو آج تک کسی کی سمجھ نہیں آ سکا وہ اپنے بچوں کے کھیلنے کے دن ہیں جو ان کے ماں باپ طے کرتے ہیں۔

عام طور پر دو بالغ پینگوئن اپنے بچوں کو اپنے پنجوں پر بٹھا کر آنے سامنے کھڑے ہو کر انھیں اوپر کرتی ہیں اور اس طرح بچے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اتنے قریب کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کے سینے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے سہارے کھڑے رہتے ہیں۔

ایک جگہ جمع ہونے کی حکمت عملی پینگوئن کے بچوں کو اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی میں سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ انتی خوبصورت چیز ہے جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی۔

بڑی پینگوئن بڑے منظم اور پرسکون انداز میں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں لیکن چھوٹی پینگوئن درمیان میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے پر سے کود کر آگے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔

جلد یا بدیر انھیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر ایک کو درمیان میں جانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

ان دلکش مناظر میں کرائسٹمن نے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سمندر کے پانیوں کا درجہ حرارت بڑھنے سے ان علاقوں میں سمندر میں جمی برف کو بھی نرم اور غیر مستحکم کیا ہے۔

ایمپرر پینگوئن عام طور پر سمندر کی برف پر اپنی نسل آگے بڑہاتی ہیں لیکن یہ اتنی غیر مستحکم ہو گی ہے کہ انھیں اپنے سالانہ پر جھاڑنے کے عمل میں جلد بازی کرنا پڑتی ہے۔ جب سمندر میں لوٹنے کا وقت آتا ہے تو انھیں برفنانی چٹانوں سے خطرناک انداز سے چھلانگیں لگانا پڑتی ہیں۔ یہ نظارہ بہت دلفریب لگاتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

بدقسمتی سے انسان کے طور طریقے اور اس کے قدرتی ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات بہت دور دراز کے علاقوں پر بھی پڑتے ہیں جہاں انسانوں کی آبادیاں موجود نہیں ہیں۔`