دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ٹکڑوں میں تقسیم، محققین کے پاس تحقیق کے لیے کچھ بچے گا؟

،تصویر کا ذریعہCOPERNICUS/SENTINEL-1
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر
انٹارکٹک میں آئس برگ A68a جو کبھی ایک بڑا برفانی تودہ ہوا کرتا تھا اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس تودے کا ایک ایک بڑا ٹکڑا جو تقریباً 5800 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے لیکن اب ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر تقسیم کا شکار ہو گیا ہے۔
سٹلائیٹ سے حاصل کی گئی تصاویر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس برفانی تودے کے دو بڑے ٹکڑے ایک دوسرے کے قریب سے سرک رہے ہیں جو جنوبی جارجیا کی برطانوی حدود سے جنوبی مشرق سے تقریباً 135 کلومیٹر دور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جلد ہی یہ مزید دور ہو جائیں گے۔
تین برسوں سے زائد عرصے تک آئس برگ A68a دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ تھا۔ اپنے عروج پر اس تودے کا رقبہ برطانیہ کے علاقے ویلز، امریکی ریاست نیو جرسی یا اسرائیل کے ایک چوتھائی کے برابر تھا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہCOPERNICUS/SENTINEL-3
لیکن بڑھتے درجہ حرارت اورسمندروں کی ٹھاٹیں مارتی لہروں نے اس برفانی تودے کو انٹارکٹکا سے شمال کی جانب جنوب اٹلانٹک میں منتقل کرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئسبرگس یعنی برفانی تودوں کے نام ایک ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ ان کے پہلے حروف کا مطلب سفید براعظم کے اس چوتھائی حصہ کا اشارہ ہے جہاں سے وہ وجود میں آئے تھے، اور اس ترتیب میں ان کے نمبر کا مطلب ان کی جگہ کا ریکارڈ رکھنا ہے کہ وہ کہاں موجود ہیں۔
ہر برفانی تودے کا نام دیتے وقت ان کے وجود میں آنے والے حصہ کے نام کے پہلے حرف پر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے ان کے بلاک کے مطابق نمبر الاٹ کر دیے جاتے ہیں۔
جمعرات سے پہلے اس برفانی تودے کے نام رکھنے کا عمل A68f تک جا پہنچا تھا لیکن اس تودے کی مزید تقسیم کے بعد بڑے ٹکڑے کا نام A68a ہی رہا جبکہ چھوٹے ٹکڑے کو نیا نام A68g دیا گیا۔
تاہم اس کی تصدیق امریکی قومی آئس سینٹر کے ذریعہ کرنی ہوگی جو ان برفانی تودے کے ناموں کے نظام کی نگرانی کرتا ہے۔
گذشتہ برس کے آخر تک برفانی تودہ A68a خلا سے دیکھنے پر ایک انگلی کا اشارہ کرنے والا بڑا سے ہاتھ دکھائی دیتا تھا۔
اب بھی اس کے بڑے حجم نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ اگر جنوبی جارجیا کے کم پانی والے ساحل پر یہ تودہ پگھل کر یا ٹوٹ کر گر جائے تو وہاں زندگی کو درہم برہم کر سکتا ہے۔
ایک اور تشویش جو لاحق تھی وہ یہ کہ اس قدر بڑی رکاوٹ کی موجودگی اس جزیرے میں موجود پینگوئنز اور سمندری سیلز کے غذائی رویوں کو خراب کر سکتا ہے۔ مگر اب اس برفانی تودے کی حالیہ تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ سے یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNASA/AQUA/MODIS
لیکن ایک اہم سوال جو اب بھی موجود ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس برفانی تودے کا مطالعہ اور تحقیق کرنے کے لیے سائنسی مہم کا جو مقصد تھا وہ اس بڑی تقسیم کے بعد اس کے مقام پر پہنچنے تک باقی رہے گا۔ کیا اس میں تحقیق کرنے لائق کچھ بچے گا؟
محققین جلد ہی فاکلینڈ میں موجود برٹش رائل نیوی کے تحقیقی بحری جہاز جیمز کوک پر سوار ہو کر جنوبی جارجیا کی جانب اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔
ان محققین کے پاس کچھ اور بھی تحقیق کرنے کے لیے ہے، لیکن وہ اس برفانی تودے اے 68 اے کے گرد چند خودکار آلات لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس کے ماحولیات پر اثرات کا مطالعہ کر سکیں۔
مگر گذشتہ برس دسمبر کے وسط میں اعلان کردہ اس سائنسی مہم جوئی میں جس تودے کی ان کو تحقیق کرنی تھی وہ خود اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔











