آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ: ایمازون نے امریکہ میں غیر ملکی افراد کی جانب سے پودوں کے بیج فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی
امریکہ کی ای کامرس ویب سائٹ ایمازون نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ میں غیر ملکی افراد کی جانب سے پودوں کے بیج فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
حالیہ کچھ عرصے میں امریکی شہریوں کو ڈاک کے ذریعے مفت لیکن پُراسرار بیج بھیجے گئے جن میں زیادہ تر چین سے آئے تھے۔ یہ ایسے بیج تھے جو صارفین نے آرڈر نہیں کیے تھے اور انھیں شک ہے کہ اس کے پیچھے کوئی جعلی سکیم کارفرما ہے۔
ایمازون نے بی بی سی کو بتایا کہ اب صرف امریکہ میں موجود فروخت کنندہ (سیلرز) کو بیج بیچنے کی اجازت ہو گی۔
امریکی حکام کا خبردار کیا ہے کہ مالی نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے بیج نہ بوئیں۔
خیال ہے کہ امریکی شہریوں کو بیرون ملک سے موصول ہونے والے یہ پیکیج جعلسازی کے ایک عالمی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کاروبار کی آن لائن ویب سائٹس پر مثبت ریویو حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین ستمبر کو جاری ہونے والی ایمازون کی نئی ہدایات کے تحت امریکہ میں موجود غیر ملکی افراد بھی امریکہ میں کوئی بیج فروخت نہیں کر سکیں گے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی ہدایات کی خلاف ورزی پر سیلرز (فروخت کنندہ) پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
تاہم اس ای کامرس کاروبار نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس پابندی کی توسیع دوسرے ممالک میں بھی کی جائے گی۔
پالیسی میں اس تبدیلی کو پہلی بار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا۔
اس طرز کے پُراسرار بیج کے پیکیج دیگر ممالک میں بھی دیکھے گئے ہیں، جن میں برطانیہ شامل ہے۔ گذشتہ ماہ سکاٹ لینڈ میں حکام نے لوگوں کو ہدایات جاری کی کہ ان بیجوں سے دور رہیں کیونکہ یہ مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
11 اگست کو اپنے بیان میں امریکہ کے محکمۂ زراعت نے کہا ہے کہ ماہرین ان بیجوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور چین اِن تحقیقات میں اُن کی مدد کر رہا ہے۔
لیکن محکمہ ذراعت نے ان افراد کو متنبہ کیا ہے جو یہ بیج بو رہے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ان بیجوں میں کسی پودے کی غیر مقامی قسم ہو سکتی ہے جو کسی جراثیم یا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔
اس عالمی جعلسازی میں اکثر سیلرز صارفین کو کم قیمت والے بیج مفت بھیجتے ہیں۔ ہر جعلی ’فروخت‘ سے خودبخود ایک آن لائن ریویو ملتا ہے جس سے سیلر اپنی ساکھ بہتر بنا پاتا ہے۔