انگلینڈ میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے گونوریا انفیکشن کے کیسز میں اضافہ

انگلینڈ میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے گونوریا انفیکشن کے کیسز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد صحت کے حکام کی جانب سے لوگوں کو محفوظ سیکس کے لیے کنڈوم کا استعمال کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

برطانیہ کے ادارہ برائے عوامی صحت کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں سنہ 2019 میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے انفیکشنز کے کیسز میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 70936 افراد میں گونوریا کی تشخیص ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے انفیکشن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بہتر مدافعت پیدا کر رہا ہے ویسے ہی یہ اعداد و شمار مزید پریشان کن ہو رہے ہیں اور یہ اس پر قابو پانا مزید مشکل بنا رہا ہے۔

مزید پڑھیے

رپورٹ کے مطابق ہم جنس پرست مرد اور ہیٹرو سیکشوئل افراد گونوریا انفیکشنز میں اضافے کی وجہ بن رہے ہیں اور اس میں 2018 کے بعد سے 26 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گونوریا ایک ایسے بیکٹیریا کے باعث ہوتا ہے جو عضو تناسل سےنکلنے والے اور اندام نہانی میں موجود سیال میں موجود ہوتا ہے۔

یہ بچہ دانی، بڑی انتڑی کی داخلی جگہ پر اور کبھی کبھار گلے اور آنکھوں میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ انفیکشن ایک شخص سے دوسرے میں غیرمحفوظ وجائینل، اورل اور اینل سیکس کے ذریعے آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے۔

اس کی علامات میں میں عضو تناسل یا اندام نہانی سے پیشاب کے دوران گاڑھے ہرے یا پیلے رنگ کے سیال کا بہنا ہے اور خواتین میں ماہواریوں کے درمیان خون بہنا لیکن کچھ افراد میں اس کی کوئی بھی علامات سامنے نہیں آتیں۔

’بہترین دفاع‘

انگلینڈ کے عوامی ادارہ برائے صحت میں سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے انفیکشنز یعنی ایس ٹی آئی کے ماہر ڈاکٹر ہیمش محمد کے مطابق ایس ٹی آئی ’آپ کی اور آپ کے موجودہ اور ہونے والے ساتھی کی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ گونوریا نے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزید مدافعت پیدا کر لی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ ایسے کیسز میں مزید اضافہ بھی ہو گا اور یہ صحت کا عملے کے لیے ایک مشکل چیلنج بن کر ابھرے گا۔‘

ڈاکٹر ہیمش کے مطابق تمام جنسی ساتھیوں کے ساتھ کنڈومز کا صحیح استعمال ’تمام ایس ٹی آئی کے خلاف بہترین دفاع ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی کنڈوم کا استعمال کیے بغیر سیکس کرے تو اسے اپنا ٹیسٹ ضرور کروا لینا چاہیے۔

15 سے 24 برس کی عمر کے افراد سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے انفیکشنز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

انگلینڈ کے عوامی ادارہ برائے صحت کے مطابق گونوریا کے نئے مریضوں میں اضافے کی وجہ زیادہ تعداد میں ٹیسٹنگ اور بیماریوں کے علاج کے لیے مستند ٹیسٹوں کا استعمال ہے۔

کلیمیڈیا سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا ایس ٹی آئی ہے اور اس کے کیسز کل انفیکشنز کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔

سنہ 2018 سے 2019 کے درمیان کیسز میں پانچ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور اب ان کی کل تعداد 229411 ہو گئی ہے۔

اکثر جنسی صحت کے ہسپتال ایس ٹی آئی کے لیے آن لائن ٹیسٹنگ کی سہولت مہیا کر رہے ہیں جس کے باعث لوگ ویب سائٹ کے ذریعے ٹیسٹ آرڈر کر سکتے ہیں۔ انھیں گھر بیٹھے ٹیسٹ کٹ مل جاتی ہے اور پھر وہ نمونے ڈاک کے ذریعے بھجوا سکتے ہیں۔