نظریہ ارتقا: ڈارون اس نتیجے پر کیسے پہنچا؟

،ویڈیو کیپشنڈارون کا نظریہ ارتقا: کچھ کچھوؤں کی گردن لمبی تو بعض کی چھوٹی

19ویں صدی میں برطانوی سائنسدان چارلس ڈارون کی کتاب 'اوریجن آف سپیشیز' کی اشاعت کے بعد انسان کے وجود میں آنے سے متعلق رائے بدل چکی ہے۔

ان کے نظریہ ارتقا میں دنیا کے اندر انسانوں کے وجود کے بارے میں ایک نئی وضاحت پیش کی گئی جس کے مطابق یہ ایک قدرتی انتخاب کا نتیجہ ہے۔

ڈارون نے کہا کہ صرف وہ مخلوق باقی رہتی ہے جو ماحول میں ایک بہتر انداز میں ڈھل سکے جبکہ کامیاب جانور اپنی خصوصیات اپنے بچوں میں منتقل کرتے ہیں تاکہ ارتقائی عمل جاری رہے۔

اسے اب ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ جو مخلوق ماحول کے مطابق نہ ڈھل سکے اس کی نسل ختم ہو جاتی ہے۔