مہلک پھپھوندی ’کرپٹو کوکس` کی بیماری سونامی سے پھیلی

    • مصنف, گلین مگرا
    • عہدہ, بی بی سی، سائنس

سائنسدانوں کے مطابق 1964 میں امریکی ریاست الاسکا میں آنے والے زلزے کے بعد سونامی سے ایک جان لیوا فنگس یعنی پھپھوندی ساحل سمندر پر آ گئی تھی۔

محققین سمجھتے ہیں کہ یہ پھپھوندی بحرالکاہل کے شمال مغرب میں آنے کے بعد جنگلات اور سمندری کناروں پر پھیلی اور پھر اس نے خود سے زندہ رہنا سیکھا۔

اس خطرناک پھپھوندی سے اب تک 300 افراد نمونیا جیسی اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔ ’کرپٹو ککوسس‘ نامی اس متعدی بیماری کا پہلا کیس سنہ 1999 میں اسی علاقے میں سامنے آیا تھا۔ متاثرہ افراد میں سے 10 فیصد کیس مہلک ثابت ہوئے۔

سائنسی جریدے ’ایم بائو‘ میں چھپنے والی یہ تحقیق اگر درست ہے تو اس سے سونامی کا شکار دیگر علاقے بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

بیماری پھیلانے والی یہ پھپھوندی جو کرِپٹو کوکس گٹئی کے نام سے جانی جاتی ہے، عام طور پر دنیا کے گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے، جیسے آسٹریلیا، پاپوا نیو گینی، یورپ، افریقہ یا جنوبی امریکہ، بالخصوص برازیل۔

یہ بھی پڑھیے

محققین کا خیال ہے کہ یہ فنگس دنیا کے دوسرے کونوں میں بحری جہازوں پر لے جائے جانے والے پانی کے ذریعے پھیلا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو فنگس برٹش کولمبیا اور امریکی ریاست واشنگٹن کے ساحلوں پر ملا ہے اس کی سالمائی (مالیکیولر) عمر جنوبی امریکہ سے بحری جہازوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آمد و رفت کے دور سے تعلق رکھتی ہے جب سنہ 1914 میں پاناما کینال کے کھلی تھی۔

تاہم اس فنگس کے بارے میں زیادہ دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب اس خطے میں سنہ 1999 میں پہلی مرتبہ اس فنگس سے پیدا ہونے والی انسانی بیماریوں کے بارے میں تشخص کی گئی تھی۔

محقیقین کے لیے یہ ایک معمہ بن گیا کہ اس خطے میں رہنے والے لوگ بیمار کیسے ہوئے کیونکہ معمول کے انفیکشن بذریعہ سانس برزوں (سپورز) کے ذریعے لگتا ہے جو کسی مرض کے مہین ذرات کو پھیپڑوں میں جگہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں دو سائنس دانوں نے ایک نیا آئیڈیا دیا وہ یہ کہ اتنا مہلک فنگس کس طرح بحرالکاہل کے شمال مغربی ساحلوں کے قریب کے جنگلات میں اتنی بہتات کے ساتھ پھیلنے میں کامیاب ہوا۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 1964 کے 9.2 ریکٹر سکیل کے الاسکا کے طاقتور زلزلے کا اس کے پھیلنے میں اہم کردار تھا۔

اب تک کے ریکارڈ پر ماپے گئے سب سے طاقتور زلزلوں میں شامل الاسکا کے جنوب مشرق کے اس زلزلے سے سونامی پیدا ہوئی جو اس خطے کے ساحلوں پر جس میں کینیڈا کا جزیرہ وینکوؤر، امریکی ریاستیں واشنگٹن اور اوریگن بھی شامل ہیں، ان سے ٹکرائی تھی۔

سونامی سے پیدا ہونے والی پانی کی بلند لہروں کی وجہ سے یہ فنگس سمندر سے ساحلی زمین پر پہنچا جہاں اس نے درختوں اور مٹی میں نمو پانا شروع کردیا اور اس طرح اس فنگس کا حیاتیاتی اور نامیاتی اشیا سے رابطہ پیدا ہوا جس نے اس کی متعدد بیماری کی طرح پھیلنے کی صلاحیت بڑھا دی۔

اس تحقیق کے شریک مصنف اور میری لینڈ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈاکٹر آرٹورو کیساڈیوال کہتے ہیں کہ ’ہمارا خیال ہے کہ کرِپٹوکوکس گٹئی فنگس میں انسانوں پر اثر کرنے کی صلاحیت کم تھی جب یہ سمندر کے پانی میں رہتا تھا۔‘

’لیکن جب یہ تین دہائیاں پہلے زمین پر پہنچا تو امیبا اور دیگر حیاتیاتی اجسام نے اس میں تبدیلیاں پیدا کیں حتٰی کہ ایک نئی قسم کہ کرِپٹو کوکس گٹئی نمودار ہوئے جو انسانی صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ تھے۔‘

محقیقن کا کہنا ہے کہ سونامی کا پانی خطرناک فنگس کے غول کے غول لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے اس فنگس سے بیمار ہونے والے افراد کی جلد اور پھیپھپڑوں میں اس کے داخل ہونے کے شواہد سے بھی اشارے ملتے ہیں۔

محقیقن کی تشویش یہ ہے کہ آئندہ آنے والے برسوں میں کئی اور متعدی بیماریوں کا بھی انکشاف ہوا جو چند برس پہلے انڈونیشیا اور جاپان کے پاس کے زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں سے پیدا ہوئی ہوں۔

ڈاکٹر کیساڈیوال کہتے ہیں کہ ’اس وقت بڑی بات یہ ہے کہ سونامی ان متعدی بیماریوں کے جراثیم کو سمندر اور دریاؤں کی کھاڑی سے زمین پر پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے جو کچھ عرصے بعد جنگلی حیات اور انسانوں کو لگ رہی ہیں۔‘

اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا وقت جلد آئے گا جب سنہ 2004 میں انڈونیشا اور سنہ 2011 میں جاپان کے ساحلوں سے ٹکرانے والے سونامی کے علاقوں میں کرِپٹوکوکس گٹئی فنگس سے متعدد متعدی بیماریاں پیدا ہوئی ہوں گیں۔