عالمی درجۂ حرارت میں ممکنہ اضافہ، آئندہ پانچ سالوں میں ریکارڈ گرمی کا امکان

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 1850 سے رکھے جانے والے موسمی ریکارڈ کے بعد سے دنیا اب تک کی گرم ترین دہائی کے عین وسط میں ہے۔

میٹ آفس کی پیش گوئی کے مطابق صنعتی دور سے قبل کی نسبت آئندہ پانچ برسوں میں ہر سال کا درجۂ حرارت ایک سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو گا۔

اگلے پانچ برسوں میں ممکن ہے کہ ایک سال ایسا بھی آئے جس میں عالمی درجۂ حرارت اوسطاً 1.5 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے لیے اسے ایک اہم حد تصور کیا جا رہا ہے۔

اگر اعداد و شمار اور پیش گوئیوں میں مماثلت پائی گئی تو سنہ 2014 سے 2023 کی دہائی دنیا میں گذشتہ 150 سالوں میں گرم ترین دہائی ہو گی۔

مزید پڑھیے

کیا پش گوئی کیے گئے درجۂ حرارت میں پیرس معاہدے کی دھجیاں بکھیر دے گا؟

میٹ آفس کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 میں پہلی بار درجۂ حرارت صنعتی دور سے قبل کے اوسط عالمی درجۂ حرارت سے ایک سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گئے تھے۔ اس اوسط درجۂ حرارت سے مراد 1850 سے 1900 کے درمیان کا وقت لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد سے ہر سال ہی تقریباً اس اوسط درجۂ حراری سے ایک سینٹی گریڈ زیادہ ہی رہا۔ اب میٹ آفس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ رجحان آئندہ پانچ سال برقرار رہے یا اس میں اضافہ دیکھا جائے گا۔

بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے میٹ آفس میں طویل مدتی پیشن گوئی کے سربراہ پروفیسر ایڈم سکیف کا کہنا تھا ’ہم نے سنہ 2023 تک اس سال کی جو پیشن گوئی کی ہے وہ یہ عندیہ دیتی ہے کہ عالمی سطح پر گرمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔‘

’ہر سال کا انفرادی جائزہ لینے کے بعد ہمیں پہلی بار یہ اندازہ ہوا کہ خطرہ ہے کہ شاید جز وقتی طور پر، میں پھر کہوں گا جز وقتی طور پر درجۂ حرارت 1.5 سینٹی گریڈ تک بھی جا سکتے ہیں۔‘

گذشتہ اکتوبر اقوام متحدہ کے سائنسدانوں نے درجۂ حرارت 1.5 سینٹی گریڈ تک بڑھنے کے اثرات پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخد کیا گیا تھا کہ سنہ 2030 تک دنیا کو یہ حد عبور کرنے سے روکنا ہے تو کاربن کے اخراج میں بے پناہ کمی لانا ہو گی۔ اب میٹ آفس کے تجزیے کے مطابق 10 فیصد امکانات ہیں کہ یہ حد اگلے پانچ برسوں میں عبور ہو جائے۔

پروفیسر ایڈم سکیف کا کہنا تھا ’یہ پہلی بار ہے کہ پیشن گوئی میں بتایا گیا ہے کہ درجۂ حرارت کے حد پار کرنے کا شدید خطرہ ہے جو کہ جز وقتی ہے۔ ہم آنے والے برسوں کے انفرادی طور پر 1.5 سینٹی گریڈ سے اوپر نیچے ہونے کی بات کر رہے ہیں۔`

’مگر حقیقت یہ ہے کہ گرمی کی عمومی شدت آئندہ چند برسوں میں ایل نینو کے باعث ہونے والے اتار چڑھاؤ کے مجموع کے باعث ہم اس مقررہ حد کے نہایت قریب پہنچ رہے ہیں۔`

میٹ آفس اپنی پیشن گوئی پر کتنا پُر اعتماد ہے؟

میٹ آفس کا کہنا ہے کہ انھیں آئندہ برسوں سے متعلق اپنی پیش گوئی پر 90 فیصد اعتماد ہے۔

محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربے کے باعث وہ اپنی پیش گوئی پر خاصے پر اعتماد ہیں۔ سنہ 2013 میں کی گئی محققین کی گذشتہ پیشن گوئی میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ گرمی کی شدت میں تیزی سے اضافہ دیکھا جائے گا جو کہ ہم نے پچھلے بانچ برسوں میں محسوس بھی کیا۔

باقی ماحولیتی اداروں کا کیا موقف ہے؟

میٹ آفس سمیت دیگر ایجنسیوں نے حالیہ موسم سے متعلق سنہ 2018 کا تفصیلی جائزہ شائع کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سال سنہ 1850 کے بعد سے اب تک کا چوتھا گرم ترین سال رہا۔

ورلڈ میٹیورولوجیکل ارگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے شائع کردہ تجزے میں پانچ بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے جائزے سے پتا چلا کہ اب تک کے 20 گرم ترین سال گذشتہ 22 برسوں میں سے تھے۔

ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹیری ٹالاس کا کہنا تھا ’درجۂ حرارت کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ موسم کے انتہائی سنگین متاٰثرہ ممالک کے لوگوں کے علاوہ ان کی معیشت اور ماحولیاتی نظام پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔‘

دیگر محققین کا کہنا تھا آئندہ پانچ برسوں سے متعلق کی گئی یہ پیش گوئی توقع کے مطابق تھی کیونکہ سنہ 2018 کے دوران ماحول میں ریکارڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا۔

برٹش انٹارٹک سروے کی ماحولیاتی ڈاکٹر اینا جونز نے کہا کہ ’بدقسمتی سے میٹ آفس کی پیش گوئی میں اچمبھے کی کوئی بات نہیں۔‘

عالمی درجۂ حرارت اوسطاً گذشتہ کئی برسوں سے ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ حیاتیاتی ایندھن کے بےجا استعمال کی بدولت پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

جب تک ہم گرین ہاؤس کی گیس کے اخراج میں کمی نہیں لائیں گے تب تک عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔