خواتین مردوں سے زیادہ عمر کیسے پاتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ عمر پاتی ہیں۔
صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق سنہ 2016 میں عالمی سطح پر دنیا کی آبادی کی اوسط عمر 72 سال تھی لیکن جب اسے مردوں اور خواتین میں تقسیم کیا گیا تو خواتین کی عمر 74 سال دو ماہ ٹھہری جبکہ مردوں کی اوسط عمر 69 سال اور آٹھ ماہ سامنے آئی۔
سنہ 2010 کی مردم شماری کے مطابق امریکہ میں 53،364 افراد کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی جن میں صرف 9،162 افراد مرد تھے جبکہ باقی 44،202 خواتین تھیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو آخر خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں زندہ رہتی ہیں اور ان کی اس سبقت کی وجہ کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئیے ہم یہاں تین اہم وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں:
1. جین
انسانی شرح اموات کے اشاریے میں فی الحال 40 ممالک کے اعدادو شمار موجود ہیں جن میں سویڈن اور فرانس کے اعدادوشمار بھی شامل ہیں جو کہ بالترتیب سنہ 1751 اور 1816 سے موجود ہیں۔
جبکہ جاپان اور روس جیسے ممالک کے اعدادوشمار 20ویں صدی کے نصف سے ہی دستیاب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہرحال تمام ممالک میں جمع ہر سال کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیدائش پر خواتین کی طویل عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
بظاہر ایسا معلوم پڑتا ہے کہ روز ازل سے ہی مرد اپنی جینیاتی بناوٹ کے سبب نشانے پر ہیں۔
جینین
یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر ڈیوڈ جیمز نے کہا: 'نر جینین مادہ جینین کے مقابلے زیادہ شرح میں مرتے ہیں۔'
اس کی ایک ممکنہ وجہ وہ کروموزوم ہو سکتے ہیں جو ہماری جنس کا تعین کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
خوااتین میں دو ایکس (XX) کرموزوم ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی (XY) کروموزوم ہوتے ہیں۔
اور انھی کروموزوم میں جین ہوتی ہے۔
ایکس کروموزوم میں بہت ساری جینز ہوتی ہیں جو آپ کو زندہ رہنے میں معاون ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے کراؤڈ سانئس ریڈیو پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ جیمز نے بتایا: 'اگر آپ میں جینیاتی طور پر کوئی نقص ہے اور آپ خاتون ہیں تو آپ کے پاس بیک اپ ہے لیکن اگر آپ مرد ہیں تو آپ کے پاس کوئی بیک اپ نہیں ہے۔'
ایکزیٹر یونیورسٹی کی پروفیسر لورنا ہیریز کہتی ہیں کہ 'دیر سے حمل ٹھہرنے کے معاملے میں لڑکوں کے مرنے کا خدشہ 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے۔ اور ان کے وقت سے پہلے پیدا ہونے کے امکانات بھی 14 فیصد زیادہ ہیں۔ مرد بچے عام طور پر سائز میں بڑے ہوتے ہیں اس لیے پیدائش کے وقت ان کو چوٹ لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔'
چڑیوں میں نر کے پاس دو ایکس کروموزوم ہوتے ہیں اور وہ مادہ چڑیوں سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔
2. ہارمونز
عنفوان شباب کی عمر میں بچے ہارمونز میں تبدیلی کے سبب لڑکی اور لڑکے کی شکل میں بڑھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مردوں والی صفات کا انحصار زیادہ تر ٹیسٹیسٹرون پر ہوتا ہے جیسے آواز کا بھاری ہونا، سینے پر بال آنا وغیرہ۔
مردوں میں موت کی شرح ٹیسٹیسٹرون میں ابال کے وقت بڑھ جاتی ہے اور یہ زمانہ ٹین ایج کے آخری برسوں کا زمانہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مردوں کے زیادہ خطرے والے کام جیسے مار پیٹ، کار اور بائیک کو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ چلانا اور خودکشی وغیرہ بھی ہیں۔
چند سال قبل کوریا کے سائنسدان ہان نام پارک نے 19ویں صدری سے چو سُن خاندان کے شاہی دربار کے ریکارڈز کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
انھوں نے 81 خواجہ سراؤں کی بھی جانچ کی جن کے فوطوں کو سن بلوغ کو پہنچنے سے قبل ہی نکال لیا گيا تھا۔

،تصویر کا ذریعہYogendra Kumar/Getty Images
ان کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان خواجہ سراؤں نے تقریباً 70 سال کی عمر پائی جبکہ دربار کے دوسرے مردوں کی اوسط عمر 50 سال ہی تھی۔
جبکہ تین خواجہ سرا نے اپنا 100واں یوم پیدائش بھی منایا۔
بہر حال اس کے تعلق سے تمام مطالعوں میں یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ خواجہ سرا عام مردوں کے مقابلے میں اس قدر زیادہ جیتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ بغیر فوطے والے (انسان اور جانور) نسبتاً زیادہ دن جیتے ہیں۔
خواتین کے جنس والے ہارمون اوسٹروجین کو اینٹی آکسیڈنٹ پایا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے زہریلے کیمیائی مادے کو صاف کرتا ہے جس سے خلیوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
جانوروں پر جو تحقیق کی گئی ہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ جن مادوں میں اوسٹروجین نہیں ہوتا وہ ان کے مقابلے زیادہ دن نہیں جیتیں جن کا آپریشن کر دیا گیا ہے۔ یعنی یہ مردوں میں خواجہ سراؤں کے بالکل الٹ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین میں سنہ 2005 میں محققوں نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ اوسٹروجین عمر سے منسلک جین کے ساتھ ساتھ زہر کش اینزائم کو بھی جلا بخشتے ہے۔
اوسٹروجین خراب کولیسٹرول کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اس طرح یہ دل کی بیماریوں سے کچھ حد تک حفاظت فراہم کرتا ہے۔
3. پیشہ اور برتاؤ
کشیدگی والے خطے میں مردوں کی طویل عمر میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
لیکن جن علاقوں میں طبی سہولیات کم ہیں وہاں خواتین بچے کی ولادت کے دوران مرتی ہیں۔
سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور حد سے زیادہ کھانا کھانا بھی چند ایسے عوامل ہیں جو صدیوں سے عورتوں اور مردوں کی عمر کے فرق کو بڑھاتے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر روس کے مردوں کو وہاں کی خواتین کے مقابلے میں 13 سال پہلے مرنے کا خدشہ رہتا ہے اور اس کا جزوی سبب بلا نوشی ہے۔
لمبی لیکن صحت مند نہیں
لیکن یہ صرف یکطرفہ سبقت یا برتری نہیں ہے۔ ہر چند کہ خواتین زیادہ دنوں تک جیتی ہیں لیکن وہ اپنی عمرکے آخری مرحلے میں بیماریوں سے زیادہ پریشان رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مختلف ممالک میں 16 سے 60 سال کے درمیان کی خواتین اسی عمر کے مردوں کے مقابلے میں ڈاکٹر کے پاس زیادہ جاتی ہیں۔
الاباما یونیورسٹی کے سٹیون این آسٹڈ اور کیتھلین ای فیشر نے سیل پریس نامی طبی جریدے میں شائع اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ 'مغربی معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس جاتی ہیں، زیادہ دوا لیتی ہیں، طبی وجوہات کی وجہ سے زیادہ دن کام سے چھٹیاں لیتی ہیں اور ہسپتالوں میں زیادہ دن گزارتی ہیں۔'
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش، چین، مصر، گواٹےمالا، انڈیا، انڈونیشیا، جمیکا، ملائیشیا، میکسیکو، فلپائن، تھائی لینڈ اور تیونس میں خواتین کو بڑھاپے میں زیادہ جسمانی پریشانیاں ہوتی ہیں۔
فرق کم ہو رہا ہے
حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مستقبل قریب میں مرد اور خواتین کی طویل عمر میں جو فرق ہے کم ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امپیریئل کالج لندن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں سنہ 2030 میں خواتین اور مردوں کی عمروں میں صرف پونے دو سال کا فرق رہ جائے گا۔
قومی شماریات سٹیٹسٹکس کے دفتر کے مطابق آج اگر برطانیہ میں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس کے 79 سال اور دو ماہ جینے کا امکان ہے جبکہ اگر لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کے 82 سال نو مہینے جینے کا امکان ہے۔
کاس بزنس سکول میں شماریات کے پروفیسر لیس میہیو کی رہنمائی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2032 تک مرد اور خواتین کی عمر تقریباً برابر ہو جائے گی۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے لیس میہیو کے حوالے سے لکھا ہے کہ 'تمباکو نوشی اور شراب نوشی میں کمی نے مردوں کو بے تحاشا فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ شراب نوشی اور تمباکو نوشی کی جانب مائل رہے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا: ہم لوگوں نے دل کی بیماریوں سے نمٹنے میں بہت ترقی کی ہے جو کہ مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔'
اور جن ممالک میں سڑکوں سے منسلک حادثے کم ہو رہے ہیں وہاں بھی مردوں کی زندگی میں اضافی عمر شامل ہو رہی ہے۔











