میڈاگاسکر پوچارڈ: دنیا کے نایاب ترین پرندے کے لیے نیا گھر

دنیا کے نایاب ترین پرندے ’میڈاگاسکر پوچارڈ' کو نئے سال پر نئے گھر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پرندے بطخ کی ایک قسم ہیں۔

بین الاقوامی ریسرچرزکی ایک ٹیم نے میڈاگاسکر کے شمال میں واقع تالاب میں 21 پرندوں کوچھوڑ دیا ہے۔

دس سال پہلے معدومی قرار دیے جانے والے پرندوں کے بچاؤ کے لیے لیا جانے والا یہ ایک اہم قدم ہے۔

پرندے کی یہ نسل خطرے سے دوچار کیوں ہے؟

جب میڈاگاسکر پوچارڈ 15 سال تک نہ نظر آئے تو انھیں معدوم مان لیا گیا۔ لیکن 2006 میں ایک دور دراز جھیل پر ان چھوٹے پرندوں کا جھنڈ دکھائی دیا۔ یہ زمین پر آخری 25 میڈاگاسکر پوچارڈ تھے۔

میڈاگاسکر میں ان پرندوں کی قدرتی آماجگاہ اتنی آلودہ اور تباہ حال ہو گئی کہ ان چند بچے کھچے پرندوں نے اس آخری ویٹ لینڈ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

لیکن وائیلڈ فاؤل اینڈ ویٹ لینڈز ٹرسٹ کے تحفظ پروگرام کے سربراہ روب شا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پرندوں نے ایسی جگہ کو اپنا مسکن بنا لیا تھا جو ان کے لیے موزوں نہیں تھی۔

یہ پناہ گاہ پوچارڈ کی نشونما کے لیے بہت گہری اور ٹھنڈی تھی۔

روب شا نے وضاحت کی کہ ان کے معدوم ہونے کی وجہ وہ بڑے خطرات ہیں جن کا سامنا یہ پرندے پورے میڈاگاسکر میں کر رہے ہیں۔'

’سیڈیمنٹیشن، پرندوں کی دیگر نسلوں کے حملے، آلودگی اور غیر معیاری طریقوں سے کی جانے والی زراعت جیسے مسائل میڈاگاسکر پوچارڈ کی نسل کی بقا کو بہت مشکل بنا دیتی ہے۔'

پوچارڈ کی نسل کو کیسے بچایا گیا؟

اس نایاب نسل کو بچانے کی انتھک کوششوں میں 10 سال سے زائد کا عرصہ لگا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ٹی، ڈیوریل وائیلڈ لائف کنزرویشن ٹرسٹ اور دا پیریگرائن فنڈ نامی بین الاقوامی ٹیموں اور میڈاگاسکر کی حکومت نے بچائے گئے نایاب پوچارڈ انڈوں کو محفوظ مقام پر منتقل جہاں ان میں سے بچے نکلے۔

میڈاگاسکر کو بہترین مسکن کے طور پر منتخب کر کے احتیاط سے پالے گئے ان پرندوں کو ملک کے شمال میں واقع صوفیا جھیل میں چھوڑ دیا گیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ٹی کے نائیجل جیریٹ کا کہنا ہے کہ ٹیم نے جھیل کے پانی، پودوں او مچھلیوں پر انحصار کرتے ہوئے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’افریقی کہاوت ہے کہ پورا گائوں مل کر ایک بچے کی پرورش کرتا ہے لیکن اس کیس میں پورے گاؤں نے مل کر ایک بطخ کو پالا۔ ہم ایک دہائی سے اس لمحے کے منتظر تھے۔'

’پوچارڈ کو بچانے کے لیے ہمیں مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ان مسائل پر کام کرنا ہو گا جو اس نسل کے معدوم ہونے کی وجہ بن رہے ہیں۔'

ٹیم امید کرتی ہے کہ معدوم ہونے کے دہانے پر کھڑے پرندوں کو جینے کا دوسرا موقع دے کر بہت موثر مثال قائم کی گئی ہے۔ یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف سب سے زیادہ خطرے سے دوچار نسلوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ پسماندہ علاقوں میں بھی مقامی لوگوں کی باہمی کوششوں سے قیمتی اماج گاہیں بچائی جا سکتی ہیں۔