مریخ کی سطح کے نیچے کیا ہے؟ آلات نے کھوج شروع کر دی

مریخ پر برف

،تصویر کا ذریعہESA

،تصویر کا کیپشنمریخ کے قطب شمالی کے قریب واقع کورولیو کریٹر

مریخ سے آنے والی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف یورپ کے خلائی ادارے ای ایس اے نے برف سے بھرے ایک گڑھے کی تصویر جاری کی ہے تو دوسری طرف ناسا کا مشن ’ان سائٹ‘ بھی اپنے مختلف آلات کو کام میں لا رہا ہے۔

زمین کا قطبِ شمالی اپنے برفانی مناظر کے لیے مشہور ہے، لیکن جیسا کہ آپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں، سردیوں میں برف سے صرف ہمارا ہی سیارہ نہیں ڈھکا ہوتا۔

یہ مریخ کے قطب شمالی کے قریب واقع کورولیو کریٹر ہے جس کی تصاویر یورپی خلائی ادارے نے جاری کی ہیں۔ یہ کریٹر 82 کلومیٹر چوڑا ہے اور 1.8 کلومیٹر کی گہرائی تک برف سے بھرا ہے۔

یہ تصاویر مارز ایکسپریس ہائی ریزولیوشن کیمرے سے لی گئی ہیں۔ مارز ایکسپریس مِشن ای ایس اے کا کسی دوسرے سیارے پر بھیجا جانے والا پہلا مشن ہے۔ اسے دو جون 2003 میں لانچ کیا گیا اور اسی سال 25 دسمبر کو یہ مریخ کے مدار میں داخل ہو گیا۔

زلزلہ ناپنے والا آلہ

،تصویر کا ذریعہNASA/JPL

،تصویر کا کیپشنان حساس سینسرز کو ہوا سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک کوور کی ضرورت اب بھی ہے

اسی دوران امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے تازہ ترین مِشن ’اِن سائٹ‘ نے اپنے آلات استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

مِشن کے روبوٹِک بازو نے ایک ایسا گھنٹی نما آلہ اپنے سامنے فرش پر رکھ دیا ہے جو زلزلوں کو ناپنے کا کام کرے گا۔

فرانس اور برطانیہ میں بنایا گیا یہ آلہ مریخ پر آنے والے زلزلوں سے، جنھیں ’مارز کویک‘ کہا جا رہا ہے، پیدا ہونے والی آوازوں کو سننے کی کوشش کرے گا، جس سے مریخ کی اندرونی ساخت کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔

ان سائٹ نے نومبر میں مریخ کے اِکویٹر یعنی خطِ استوا کے قریب کامیاب لینڈِنگ کی تھی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

زلزلوں کو ناپنے والے آلے (سیسمومیٹر) کے علاوہ ان سائٹ میں درجہ حرارت کو ناپنے والا آلہ بھی لگا ہے جو پانچ میٹر زیر زمین جا سکتا ہے۔

یہ سارا ڈیٹا مجموعی طور پر مریخ کی سطح پر پتھروں کی تہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ ان معلومات کا موازنہ پھر زمین کے ڈیٹا کے ساتھ کیا جا سکے گا۔

تمام آلات کو چالو ہونے میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ سیسمومیٹر کو مریخ کی ہواؤں کے شور اور بدلتے درجہ حرارت سے بچانے کے لیے اس پر ایک غلاف لگایا گیا ہے۔

مشن

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY/NASA

مریخ پر اب تک کتنے مشن اتر چکے ہیں؟

مریخ پر لینڈنگ